پاکستان کیلئے ریاست مدینہ کا تصور پیش کرنے پر عمران کو سلام : مولانا طارق جمیل

پاکستان کیلئے ریاست مدینہ کا تصور پیش کرنے پر عمران کو سلام : مولانا طارق جمیل

اسلام آ با د (سٹاف رپورٹر)معروف عا لم دین مو لا نا طا رق جمیل نے کہا ہے کہ عمران خان پہلے حکمران ہیں جس نے پا کستان کو مدینے کی ریاست بنا نے کا تصور پیش کیا، وزیر اعظم کو پا کستان کے لیئے مدینہ کی ریاست کا تصور پیش کرنے پر سلام پیش کرتا ہوں، فلاحی ریاست کا اجزا عدل ، امت اور بہتر معیشت ہے، جب نبیادیں بہتر ہوں گی تو مسائل خود بخود بہتر ہوجائیں گے، یہاں بیٹھے جج صاحبان ہمارے لیے نعمت ہیں ان کے ذمے جو کام نہیں وہ بھی کرتے رہتے ہیں،بدھ کو بڑھتی ہوئی آبادی پر سمپوزیم میں مولانا طارق جمیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسان کی تخلیق دنیا کا سب سے بڑا پراجیکٹ ہے، انسان بہت قیمتی چیز ہے، غریب طبقہ اپنے سہارے کیلئے بچے پیدا کرتا ہے جبکہ امیر جائیداد کے وارث بنانے کیلئے کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبادی کا مسئلہ اور دراز علاقوں میں ہے جبکہ کانفرنس اسلام آباد میں کی جارہی ہے۔ عمران خان پہلے حکمران ہیں جس نے مدینے کی ریاست کا تصور پیش کیا۔ یہاں مدینہ کی ریاست کا تصور پیش کرنے پر سلام پیش کرتا ہوں، فلاحی ریاست کا اجزا عدل ، امت اور بہتر معیشت ہے، جب نبیادیں بہتر ہوں گی تو مسائل خود بخود بہتر ہوجائیں گے۔ امن والی ریاست تب بنتی ہے جب عدل مضبوط ہو، فلاحی ریاست کا سب سے پہلا تصور ابراھیم علیہ اسلام نے پیش کیا اور کہا اے رب اس ریاست کو امن والا بنا دے۔ فلاحی ریاست تب بنتی ہے جب پولیس مضبوط ہو ، پولیس پر جب تک سیاسی اثر و رسوخ رہے گا وہ مضبوط نہیں ہوسکتی۔ جج صاحبان کے مطابق ہمارا قانون بہت کمزور ہے ، سالوں گزر جاتے ہیں کیسز کا فیصلہ ہوتے ہوئے، یہاں بیٹھے جج صاحبان ہمارے لیے نعمت ہیں ان کے ذمے جو کام نہیں وہ بھی کرتے رہتے ہیں۔ سبحان اللہ امن کے بعد فلاحی ریاست کی دوسری شرط مضبوط معیشت ہے، معیشت مضبوط ہوتی انفرادی سطح پر تاجر سچ بولے، معیشت مضبوط کرنے کیلئے حکومت ملک میں سودی نظام ختم کرے، فلاحی ریاست کیلئے امن،مضبوط معیشت اور علم سے آگاہی ضروری ہیسیکرٹری صحت زاہد سعید نے کہاہے کہ پاکستان کی آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے منصوبہ بندی کی مہمات کی ضرورت ہے ۔ زاہد سعید نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادہی پر قابو پانے کے لیے قانون سازی کے لیے کام کا آغاز کردیا گیا ہے۔سیکریٹری صحت نے بتایا کہ اس وقت پاکستان کی آبادی 20 کروڑ روپے سے تجاوز کرچکی ہے اور ممکنہ طور پر آئندہ 30 سال کے دوران اس میں دگنا اضافہ ہوجائے گا۔زاہد سعید نے کہا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی پر کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے اور اس میں سب سے پہلا اقدام ٹاسک فورس کی تشکیل ہے۔اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے امریکی ماہر بہبود آبادی ڈاکٹر جان بونگاٹز نے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ 2 دہائیوں کے دوران آبادی میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے منصوبہ بندی سے متعلق مہمات کی ضرورت ہے

مولانا طارق جمیل

مزید : صفحہ اول