نئے مستقل بنچوں کی تشکیل کیخلاف فل کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

نئے مستقل بنچوں کی تشکیل کیخلاف فل کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے نئے مستقل بنچوں کی تشکیل کیخلاف فل کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔اس سلسلے میں پاکستان بارکونسل کی ہیومن رائٹس کمیٹی کے چیئرمین بیرسٹر محمد راحیل کامران شیخ نے آئینی درخواست دائر کی ہے جس میں نئے علا قائی بنچ تشکیل نہ دینے کیخلاف لاہور ہائی کورٹ کی فل کورٹ کمیٹی کے فیصلے کو غیر آئینی قراردینے اور نئے بنچوں کی تشکیل کا حکم جاری کرنے کی استدعا کی گئی ہے ۔درخواست میں کہا گیاہے لاہور ہائی کورٹ کی فل کورٹ کمیٹی کا اجلاس 15سے 17جولائی2016ء تک جاری رہا جس میں فیصل آباد،گوجرانوالہ،ڈیرہ غازی خان ،سرگودھا اور ساہیوال میں نئے بنچ بنانے کا مطالبہ مسترد کردیاگیا،تاہم فل کورٹ کے فیصلے میں نئے بنچوں کی تجویز مسترد کرنے کے بارے میں ٹھوس وجوہات بیان کی گئی اور نہ ہی اس میں کسی بحث کا ذکرہے ۔لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی ،ملتان اور بہاولپور میں علاقائی بنچ 1981ء سے قائم ہیں ،آئین میں ہائی کورٹس کے نئے علاقائی بنچوں کی تشکیل کی گنجائش رکھی گئی ہے اور طریقہ کار طے کیا گیاہے،درخواست گزار بیرسٹرراحیل کامران شیخ کے مطابق ہائی کورٹ صرف آئینی عدالت نہیں بلکہ یہ اور یجنل دائرہ اختیار کے علاوہ اپیل اور نظرثانی کی عدالت بھی ہے ۔مذکورہ ڈویژنز کے وکلاء کو نئے بنچوں کے قیام کے حوالے سے مطالبہ کرتے ہوئے ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزرگیاہے ۔ان علاقوں کے سائلین کو وکلاء کی فیسوں اور دیگر اخراجات کی مد میں اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑتاہے،سائلین کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ لاہور یا موجودہ بنچوں میں مقدمات کی پیروی کیلئے مہنگے وکلاء کا انتخاب کر یں جو سستے انصاف کی فراہمی سمیت متعدد آئینی بنیادی حقوق کے منافی ہے ،نئے علاقائی بنچ تشکیل نہ دینا مرکزیت کو فروغ دینے کے مترادف ہے ،جس سے قانون کی حکمرانی کا تصور مجروح ہوتاہے ،درخواست کیساتھ پاکستان بار کونسل کی ہیومن رائٹس کمیٹی کی منظور کردہ 21مئی2016ء کی منظور کردہ قراردادجس میں انصاف تک بہتر رسائی کیلئے آئین کے آرٹیکل9اور25کے تحت پنجاب میں ڈویژن کی سطح پر علاقائی بنچ تشکیل دینے کا مطالبہ کیا گیاہے اور پنجاب بارکونسل کی متعلقہ قرارداد کی نقول بھی لف کی گئی ہیں ۔

فیصلہ چیلنج

مزید : صفحہ اول