ملکی معیشت اور غیر ملکی قرضے

ملکی معیشت اور غیر ملکی قرضے

  

ضیاء الحق سرحدی پشاور

ziaulhaqsarhadi@gmail.com

تحریک ا نصاف کو اقتدار سنبھالے 100دن سے زائد ہو گئے ہیں ان 100دنوں میں حکومت گرتی ہوئی ملکی معیشت کو سنبھالنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔معیشت کو سنبھالنے کے لیے آئی ایم ایف کے دروازے پر بھی دستک دے دی تھی اور اپنے قریبی ہمسایہ ممالک دوستوں سے بھی مدد کی درخواست کی گئی تھی ۔مہنگائی کا جن ہے کہ بوتل میں بند ہونے کا نام نہیں لے رہا۔گیس ،بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے۔جس کی بنا پر کھانے پینے کی اشیاء اور ٹرانسپورٹ کرایوں میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ان سب چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ سے مہنگائی کا سارا بوجھ براہ راست غریب عوام پر پڑا ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے پہلے بھی خطاب کیا تھا اور اس خطاب میں عوام سے دعوے بھی کیے تھے مگر ان دعووں پر ابھی تک مکمل عمل درآمد نہیں ہوا۔یہ بات شک وشبے سے بالا ہے کہ گزشتہ حکومت خالی خزانہ اور کمزور معیشت ورثے میں چھوڑ کے گئی ہے۔کرپشن کی موجیں مارتی گنگا میں شب وروز ہاتھ دھونے والی نوکر شاہی کی بدولت نہ تو آج تک ٹیکس کانظام درست ہو پایا اور نہ ہی کسی سرکاری پالیسی کے مثبت اثرات معاشرے میں دکھائی دیتے ہیں۔یہ بھی واضح ہو چکا کہ موجودہ حکومت نے قتدار سنبھالنے سے پہلے مطلوبہ تیاری نہیں کی۔نتیجہ یہ نکلاکہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کے فیصلے میں تاخیر کی بدولت روپے کی قدر بھی گری،جگ ہنسائی بھی ہوئی اور مہنگائی کی بجلی گرنے سے غریبوں کی امیدوں کے نشیمن بھی خاکستر ہوئے ۔اس سارے ہنگامے میں سعودی عرب کی جانب سے ملنے والی مالی امداد نے کچھ سکھ کا سانس لینے کے قابل کیا ہے۔آئی ایم ایف کے پاس جانا بھی پڑا تو قرض کا حجم ابتدائی تخمینے سے کم ہوگا۔ماضی میں حکمران قرضوں کے ڈھیر قوم کے سر پہ لادتے رہے ۔قوم یہ جاننے کا حق رکھتی ہے کہ آخر ماضی میں لیے گئے تمام قرض کہاں گئے ؟ جن بھاری رقومات کی بدولت آج قوم کا بال بال قرض میں جکڑا ہوا ہے وہ آخر کہاں خرچ ہوئی؟ وزیر اعظم ایک سے زائد مرتبہ یہ اعلان فرما چکے ہیں کہ تیس ہزار ارب ڈالر کے قرضوں کا آڈٹ کیا جائیگا۔یہ ایک احسن فیصلہ ہے لیکن کیا حکومت اسے عملی جامہ پہنا سکے گی؟۔ہر روز اخبارات کے پہلے صفحات پر بیشتر خبریں کرپشن کی ہوشربا وارداتوں کے تذکرے پر مبنی ہوتی ہیں۔نیب کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے ملزموں کا بار بار تذکرہ ہوتا ہے۔طوفانی تفتیش کی سنسنی خیز رپورٹنگ سے قوم کا لہو گرمایا جاتا ہے۔محترم جج صاحبان کے ریمارکس شہہ سرخیوں کی صورت شائع ہوتے ہیں۔البتہ کرپشن کی رقوم کی برآمد اور مجرموں کو سزا ملنے کی خبر سننے کے لیے قوم کے کان ترستے رہتے ہیں۔نہ کوئی جرم ثابت ہو پا رہا ہے،نہ کسی مجرم کو سزا مل رہی ہے۔اس حیران کن صورتِ حال کی ممکنہ طور پہ چند ہی وجوہات ہو سکتی ہیں۔یا تو میڈیا پہ رپورٹ ہونے والی کرپشن کی داستانیں جھوٹی ہیں،یا پھر تفتیش کرنے والے اہلکار نکمے ہیں،ایک ممکنہ وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ تفتیش کرنے والے اہلکاروں کو مالی ترغیبات یا دھونس دھمکی کے ذریعے اصل حقائق سے نگاہیں چرانے پر مجبور کر دیا جا تا ہو،ضرورت اس امر کی ہے کہ دستیاب وسائل کو شفافیت کے ساتھ مختلف منصوبوں پہ لگایا جائے تاکہ عوام تک حکومتی کارکردگی کے ثمرات پہنچنا شروع ہوں۔مالی بدعنوانی اور حرام خوری کے ممکنہ راستے بند کرنا ہوں گے۔پاکستان کسی غیر ملکی امداد کے بغیر وجود میں آیا اور ابتدائی سالوں میں وسائل کی کمی کے باوجود سادگی اور ایمانداری جیسی بے مثال خوبیوں کی بدولت آگے بڑھتا رہا۔غیر ملکی قرضے دوا نہیں زہر ہیں۔قوم اس زہر کی مزید متحمل نہیں ہوسکتی ۔آج حکمران ماضی کی حکومتوں کی غلط کاریوں کو بنیاد بنا کر غیر ملکی امداد اور قرضوں کا جواز پیش کرسکتے ہیں لیکن یاد رہے کہ مستقبل میں دوبارہ یہ جواز قابلِ قبول نہیں ہوگا۔ موجودہ حکومت اپنے دعووں اور وعدوں پہ عمل درآمد کے لیے پوری سنجیدگی سے کوششیں شروع کرے ۔کرپشن کے سدباب،ٹیکس وصولی نظام کی اصلاح،کرپشن کی رقم کی برآمدگی،ٹھوس تفتیش اور مقدمات کی فوری سماعت کے بغیر ملک کے معاشی مسائل نہیں سدھریں گے۔ حکومت بھی سُن لے کہ قوم نے اُسے قرضے جمع کرنے کے لیے نہیں بلکہ ملک کا نظام درست کرنے کے لیے ووٹ دیئے ہیں۔افسوس ہے کہ حکمرانوں نے کبھی ملک کی بہتری پر توجہ ہی نہیں دی یا معاشی پالیسیاں بنانے ومنصوبے شروع کرنے کے لیے گراؤنڈ کی سطح پر سمجھ بوجھ رکھنے والے صنعتی حلقوں کے نمائندوں سے مشاورت نہیں کی گئی۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت وقت جو عوام سے کیے گئے وعدے کر چکی ہے ان کو عملی جامہ پہنائے اور عوامی بنیادی مسائل پر ٹھوس حکمت عملی اپناتے ہوئے ملکی سرمایہ کاروں اور انڈسٹری مالکان کو ریلیف سے ہمکنار کرے جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے تھنک ٹینک منصوبہ تشکیل دے اور پاکستانی عوام اور اس ملک پر احسان کرتے ہوئے غیر ملکی قرضوں سے اپنے ہاتھ روکے جبکہ معیشت کو پروان چڑھانے کے لیے اپنے قدرتی وسائل کو بروئے کار لاکر ملک کو تر قی وخوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں۔دیکھا جائے تو وطن عزیز بے شمار وسائل سے مالا مال ہے۔ زرعی ملک ہونے کے ناتے یہاں کی زمینیں سونا اُگلتی ہیں۔ معدنیات کے بے پناہ ذخائر ہیں۔تیل وگیس کے ذخائر ماضی میں بھی دریافت ہوتے رہے ہیں اور اب بھی اُن کی دریافت ہوتی ہے۔گویا یہاں کی زمینوں میں انمول خزینے مدفن ہیں۔سب سے بڑھ کر ملکی آبادی میں نوجوانوں کی تعداد دُنیا کے دوسرے کئی ملکوں سے خاصی زیادہ ہے جو ملک کو ترقی یا فتہ بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ایسے میں حکومت کی قرضوں پر قرضے لینے کی روش سمجھ سے بالا تر ہے۔یاد رہے قرضوں پر انحصار کرنے والے ممالک کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتے ،بلکہ وہ روز بروز پستی کی جانب گامزن رہتے ہیں۔ ملک کو بیرونی قرضوں سے نجات دلانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس ضمن میں ملکی وسائل کا درست استعمال اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔وسائل پر انحصار کی پالیسی اختیار کی جائے اور انہیں صحیح معنوں میں بروئے کار لایا بھی جائے۔دوسری طرف حکمران اپنے شاہانہ اخراجات میں کمی لائیں ۔فضول خرچی سے اجتناب برتا جائے ۔حکومتی سطح پر کفایت شعاری کو اولیت دی جائے۔غیر ملکی قرضوں سے ہر صورت جان چھڑائی جائے۔ملک کو بیرونی قرضوں سے نجات دلانے اور نوجوان افرادی قوت کے درست استعمال کا تہیہ کر لیا جائے تو ہم اقوام عالم میں اہم مقام حاصل کر سکتے ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -