صحافیوں کے مسائل کوحل کرنے کیلئے اقدامات کررہے ہیں

صحافیوں کے مسائل کوحل کرنے کیلئے اقدامات کررہے ہیں

  

خصوصی توجہ برائے ’’نعیم مصطفی صاحب‘‘ مورخہ : 3-12-2018

گفتگو ، نعیم الدین

تعارف :

سیکریٹری اطلاعات سندھ عمران عطاء سومرو جو کہ دوسری بار محکمہ اطلاعات کے سیکریٹر ی مقرر ہوئے ہیں، اس سے قبل وہ کئی محکموں میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے انہیں دوبارہ اس عہدے پر فائز کیا ہے، وہ ہمیشہ وزیر اعلی کی ٹیم کا حصہ رہے ہیں۔ وہ سندھ حکومت کے کئی محکموں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں، اور انفارمیشن کے محکمے سے متعلق اہم امور انجام دے چکے ہیں۔کسی بھی صوبائی حکومت کیلئے اطلاعات کا محکمہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔ گذشتہ دنوں کراچی ایڈیٹر کلب کے پروگرام کے موقع پر ان سے خصوصی گفتگو ہوئی جو قارئین کی نذر ہے۔

سوال : صوبہ سندھ میں صحافیوں کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے، اور ان مسائل پر آپ کی گہری نظر ہے، آپ ایسے کون سے اقدامات کررہے ہیں کہ ان کے مسائل حل ہوسکیں؟

عمران عطاء سومرو : حکومت سندھ کو صحافیوں کے مسائل کا مکمل ادراک ہے ۔صحافی برادری کے دیگر تمام مسائل کے حل کیلئے کوشاں ہیں ۔میں نے بحیثیت سیکرٹری اطلاعات سندھ اپنے گذشتہ دور میں ورکنگ جرنلسٹس اور ان کے اہل خانہ کے ہیلتھ انشورنس کے سلسلے میں کچھ کام کیا تھا اور معروف انشورنس کمپنی ای ایف یو کے ساتھ مل کر پلان تشکیل دیا تھا اور صحافیوں کی تنظیموں سے بھی اس سلسلے میں بات چیت کی تھی ۔انہوں نے ہمیں بہت اچھا پریمیم اماؤنٹ دینے کا وعدہ کیا تھا ۔اتفاق سے بجٹ سے تھوڑا عرصہ پہلے میرا تبادلہ ہوگیا اور یہ کام پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکا ۔اب میں منصوبے کو مکمل کرنا چاہتا ہوں اور امید ہے کہ یہ کام جلد ہوجائے گا اور اس سلسلے میں کراچی ایڈیٹرز کلب کی جانب سے جو تجاویز دی جائیں گی ان پر بھی ضرور غور کیا جائے گا تاکہ میرے لیے بھی آسانی ہوجائے ۔

سوال : حکومت کی جانب سے اخبارات کے کچھ واجبات ہیں جن کی وجہ سے تنخواہوں کی ادائیگی میں جو مشکلات ہیں، حکومت سندھ ان کے لیے کیا اقدامات کررہی ہے ؟

عمران عطاء سومرو : اشتہارات کے حوالے سے جو مسائل سامنے آرہے ہیں ان میں مالکان اور صحافیوں کے بارے میں تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن اس میں جو مشکلات سامنے آئی ہیں وہ یہ ہیں کہ حکومت سندھ پر کچھ اخبارات کے 2012کے واجبات ہیں ہم اس کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے ۔بتایا گیا ہے کہ کچھ صحافیوں کو تنخواہیں نہیں ملی ہیں تو وہ سپریم کورٹ چلے گئے تھے جس کے نتیجے میں چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں صحافیوں کے واجبات ادا کریں ۔میں یہ کہوں گا کہ کوئی بھی قانون مستقل نہیں ہوتا اس میں حالات کی وجہ سے فرق آجاتا ہے جسے درست بھی کرنا ہوتا ہے ۔

سوال : صحافیوں کو سب سے بڑی مشکل جو درپیش ہوتی ہے کہ اگر کسی اسٹوری کے لیے انہیں کسی محکمے سے معلومات درکار ہوں تو وہ معلومات انہیں فراہم نہیں کی جاتیں، ، اس کے لیے آپ کا محکمہ کیا کوئی اقدام کررہا ہے ؟

عمران عطاء سومرو : جہاں تک آرٹیکل 19کی بات ہے تو آپ لوگوں کے ذہن میں ہوگا کہ سندھ حکومت نے 2017میں ٹرانسپرنسی ان رائٹ انفارمیشن ایکٹ پاس کیا ہے اس کا بہت اچھا مکینزم بناہوا ہے اور ہر محکمے نے اپنا ایک افسر مقرر کردیا ہے۔کوئی بھی شخص ایک درخواست اور مقررہ رقم جمع کرواکر اپنی مطلوبہ معلومات حاصل کرسکتا ہے تاہم دیکھنا یہ ہوگا کہ کونسی معلومات دی جاسکتی ہے اور کونسی نہیں اور اس کی وجوہات بھی بتائی جائیں گی ۔

سوال : صحافیوں کی سیکورٹی کے حوالے سے حکومت سندھ کی جانب سے کیا اقدامات کیے جارہے ہیں۔ کیونکہ اس وقت صحافی عدم تحفط کا شکار ہیں ؟

عمران عطاء سومرو : صحافیوں کی سکیورٹی کے حوالے سے کہا کہ صحافیوں کی تنظیمیں یا کوئی صحافی ہمیں درخواست دے تو ہم محکمہ داخلہ کو بھیج دیں گے ۔محکمہ داخلہ سندھ نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو اس کا جائزہ لے گی ۔صحافیوں کے دیگر مسائل کے حل کیلئے اقدامات کررہے ہیں ۔اس سلسلے میں ہماری صحافیوں کی مختلف تنظیموں سے بھی بات چیت ہوتی رہتی ہے، جبکہ صحافیوں کے درپیش مسائل کا ہمیں پوری طرح علم ہے اور ہماری پوری کوشش ہے کہ ان کے تمام مسائل پر گہرے نظر رکھیں۔

اس موقع پر کراچی ایڈیٹرز کلب کے صدر مبشرمیر نے کلب کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کلب کے قیام کو چار سال کا عرصہ ہوچکا ہے، اور یہ ایک تھنک ٹینک کی شکل اختیار کرگیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح لاہور میں ایڈیٹرز کلب کی بنیاد رکھی جاچکی ہے ، جب ہم کراچی کی بات کرتے ہیں کہ توسندھ اور پاکستان کی بات کررہے ہوتے ہیں، آج کا ہمارا موضوع ’’میڈیا انڈسٹری کرائسز‘‘ ہے۔ آپ کے علم میں بھی ہے کہ اسے کس طرح سے مشکلات سے باہر نکالا جائے۔ اب چونکہ ان مشکلات کی نشاندہی شروع ہوچکی ہے، اور گذشتہ تین ماہ میں مزید اضافہ ہوا ہے، حکومت کے حوالے سے واجبات کا بھی سلسلہ ہے، اخبارات کے سلسلے میں پہلے بھی بیانات آچکے ہیں، میڈیا ہاؤسز کے جو حکومت کی طرف واجبات ہیں، ان کی وصولی میں تاخیر ہورہی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ حکومت اس طرف بھی خصوصی توجہ دے۔ دوسری جانب investigative Jouranlism پاکستان میں کس طرح فروغ پا سکے گا، کیونکہ یہاں سب سے ز یادہ ذرائع کی خبریں میڈیا میں شائع ہوتی ہیں، جو لوگ اسٹوریز پر کام کررہے ہوتے ہیں، انہیں یہ شکایت ہوتی ہے کہ متعلقہ اداروں سے جب رابطہ کرتے ہیں کہ تو انہیں تسلی بخش جواب نہیں دیا جاتا، حالانکہ آرٹیکل 19 کے تحت فریم ورک ہونا چاہیے کہ چیزوں تک کس طرح سے رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ حالانکہ تمام صحافی حضرات اس چیز کو سمجھتے ہیں کہ آرٹیکل 19 کا ایک میکنزم بنا ہوا ہے، حکومت سندھ ہمیں آگاہ کرے اس پر کتنا کام کیا ہے؟ صحافی حضرات کو اگر کوئی معلومات چاہیے تو وہ کس طرح حاصل کرسکتے ہیں۔کسی حوالے سے investigative journalism کو آگے بڑھانا ہے تو ہمیں صحافیوں کیلئے ریسورسز سینٹر کے قیام کی ضرورت ہے، کراچی جیسے شہر میں ہمارا یڈیٹرز کلب اس چیز کی خواہش رکھتا ہے کہ انویسٹی گیشن اسٹوریز کو فروغ دینے کیلئے ’’جرنلسٹ ریسورسز سینٹر‘‘ بنانا چاہتے ہیں، اس کے لیے آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہے، یقیناًاس میں آپ ہمارا ساتھ دیں تو ہم کام کرسکتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے لوگ معلومات حاصل کرتے ہیں، لیکن جو ریسرچ کا ماحول ہونا چاہیے وہ دستیاب نہیں۔ ریسورس سینٹرز انجینئرز اور ٹیچرز تک کے بنے ہوئے ہیں، لیکن ریسرچ کا جو پہلو ہے وہ ہمارے لوگوں کو کم ملا ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر کہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ حکومت کی بھی کوئی ایسی لائبریری نہیں ہے کہ جس سے حوالے حاصل کیے جاسکیں۔ کراچی میں لیاقت لائبریری ہے ،مگر اخباری ذرائع کیلئے ناکافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں صحافیوں کی ویلفیئر کیلئے بھی بات کروں گا۔ صحافیوں کا کیڈر کس طرح مقرر کیا جائے، کیونکہ پی ایم اے اور بار کونسل کی مثال سامنے ہے جہاں پر کام کرنے کا لائسنس ملتا ہے ، ساری چیزیں ایک سسٹم کے تحت ہونی چاہئیں، پریس کونسل بنی مگر لگتا ہے کہ وہ تحلیل ہوجائے گی یا وفاقی سطح پر ریگولیٹری اتھارٹی بننے جارہی ہے، اسی طرح آپ کے یہاں ایکریڈیشن کارڈ کا سسٹم ہے اس کا کیڈر کس طرح مقرر کیا جائے، پریس کلب کی ممبر شپ کا مسئلہ ہے، انفارمیشن ڈپارٹمنٹ اس طرح کا کوئی میکنزم بنانے میں کامیاب ہوجائے ، تاکہ کوئی نیا آتا ہے تو وہ کس طرح سے شامل ہوسکے گا؟ سینئرز کا مقام کیا ہے چونکہ سینئرز ایک ادارے کا درجہ رکھتے ہیں اور وہ اس پیشے کو آگے بڑھاتے ہیں، اس وقت جامعہ کراچی میں ایک ہزار طالبعلم ماس کمیونی کیشن میں تعلیم حاصل کررہے ہیں، جبکہ دیگریونیورسٹیوں میں بھی اچھی خاصی تعداد موجود ہے۔ ہم کس طرح سے لوگوں کو تیار کرسکتے ہیں، تاکہ وہ بین الاقوامی میڈیا کا دوسرے ممالک میں جا کر مقابلہ کرسکیں، انہوں نے انڈیا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں سے بڑی تعداد میں صحافی مشرق وسطی میں فرائض انجام دے رہے ہیں، اور ایڈیٹر تک کے عہدے پر ہے۔ میں تو یہ کہوں گا کہ آنے والا وقت سی پیک کا ہے ، ہمارے طلباء وطالبات کو چائنیز زبان میں عبور حاصل کرنا چاہیے ، انہوں نے صحافیوں اور میڈیا ہاؤسز کو درپیش خطرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی سطح پر تحفظ دیا جائے تاکہ انہیں ریلیف مل سکے۔ تقریب سے پی ایف یو جے کے سیکریٹری جنرل جی ایم جمالی نے کہا کہ پچھلے تین چار ماہ سے جو کرائسز جاری ہے اس کی ہم مذمت کرتے ہیں، ہم اس سلسلے میں تحریک چلا رہے ہیں ، ہم سمجھتے ہیں کہ بقایاجات کا مسئلہ نہیں بلکہ میڈیا کو کنٹرول کرنے کا مسئلہ ہے، اور یہ سلسلہ الیکشن سے تین چار ماہ قبل ہی شروع ہوگیا تھا۔ اشتہارات مل رہے تھے، لیکن پھر کرائسز آگئے، صحافی حضرات مختلف چیزوں کے عادی ہوتے ہیں، ہم نے آنے والے وقت کی نشاندہی کردی تھی کہ اس کو کنٹرول کیا جائے ۔ آج بھی میڈیا مالکان کو فون آتے ہیں، من پسند پروگرام ہوتے ہیں، ورکرز کو نکالا جاتا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ کوئی بھی ادارہ افرادی قوت کے بغیر ترقی نہیں پاسکتا، ٹیبل ٹاک ہونی چاہیے کیونکہ آہستہ آہستہ انڈسٹری بیٹھ جائے گی، ہم سب کو ایک ہو کر چلنا ہوگا تاکہ حکومت سے اچھی بات کرسکیں، کیونکہ جب اخباری ا نڈسٹری پر زوال آئے گا تو مالکان کو بھی مشکل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی ادارے مالکان کو بھی خوفزدہ کرتے ہیں ، اس موقع پر بلوچستان کے صحافی الیاس کمبوہ نے اپنے ساتھ آنے و الے واقعہ کی نشاندہی کی کہ میرے گھر پر بلاجواز چھاپہ مارا گیا، میں کس کے سامنے اپنی فریاد پیش کروں۔ حمید بھٹو نے اپنے خطاب میں کہا کہ صحافت کے شعبے سے دھمکیوں کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے اور صحافیوں کو کھل کر کام کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ معاشرے کی بہتر طریقے سے خدمت ہوسکے۔ کرنل (ر)مختار بٹ نے کہا کہ اخبارات کو اپنی گمہ داریاں خود سمجھنا ہونگی، ہمیں اپنے گریبان میں بھی جھانک کر دیکھنا ہوگا، لفافہ جرنلزم کا خاتمہ ہونا

چاہیے ۔ بعدازاں کراچی ایڈیٹرز کلب کے سینئر نائب صدر مختار عاقل نے معزز شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ صحافی حضرات کے مسائل سے اچھی طرح باخبر ہیں اور دوسری بار سیکریٹری انفارمیشن کے عہدے پر فائز ہوئے ہیں، آپ کو میڈیا کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں، آپ نے میڈیا کے ہیلتھ انشورنس کے حوالے سے جو بات کی ہے ، اس وقت صحافی حضرات تاریخ کے خطرناک حالات سے گذر رہے ہیں، چینلز اور ایف ایم ریڈیو کے بعد ڈیجیٹل میڈیا سب پر حاوی ہوگیا ، ہمیں آپ کی صلاحیتوں پر بھروسہ ہے آپ کلب کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے۔ قبل ازیں کلب کے سیکریٹری جنرل منظر نقوی نے سیکریٹری انفارمیشن کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ آپ نے جس شعبے میں بھی کام کیا ہے اس کو کامیابی سے ہمکنار کیا ہے، ہمیں امید ہے کہ انفارمیشن کے شعبے میں دوبارہ قدم رکھنے کے بعد آپ اسے بھی چار چاند لگائیں گے۔ آخر میں معزز مہمان کو کلب کی اعزازی ممبر شپ دی گئی۔

مزید :

ایڈیشن 1 -