کیا ایم کیو ایم اقتدار کی کشتی سے چلانگ لگانے کا منصوبہ بنا رہی ہے؟

کیا ایم کیو ایم اقتدار کی کشتی سے چلانگ لگانے کا منصوبہ بنا رہی ہے؟
کیا ایم کیو ایم اقتدار کی کشتی سے چلانگ لگانے کا منصوبہ بنا رہی ہے؟

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

تو کیا حکمران جماعت کی اتحادی جماعتیں اقتدار کی کشتی سے چھلانگ لگانے کے لئے موقعہ کی تلاش میں ہیں؟ یہ سوال اس لئے پیدا ہوا کہ وزیراعظم عمران خان نے بیٹھے بٹھائے قبل از وقت انتخابات کی بات کر دی، حالانکہ جب مولانا فضل الرحمن نے ایسا کہا تھا تو بہت سے لوگ ان کی جانب طنز کے تیر پھینکنا شروع ہوگئے تھے، لیکن اب اگر عمران خان نے قبل از وقت انتخابات کی بات کی ہے تو اس کا ہدف کوئی نہ کوئی تو ہوگا، کیا اس طرح وہ اپنی جماعت کے اندر پیدا ہونے والی بے چینی کا کوئی علاج کرنا چاہتے ہیں؟ تحریک انصاف کے اندر دھڑے بندی کا اعتراف تو وزیراعظم اقتدار میںآنے سے پہلے ہی کرچکے ہیں، لیکن انہیں جس انداز میں حکومت بنانا پڑی، اس میں بھی بہت سے سمجھوتے شامل ہیں۔ سادہ اکثریت سے حکومت چلانے کے لئے بھی انہیں آٹھ اتحادی جماعتوں کی حمایت پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے، جس میں سے بعض کے ساتھ انہوں نے تحریری معاہدے بھی کئے تھے۔ ایم کیو ایم کے ساتھ بھی ایسا ہی معاہدہ ہے، لیکن سو دن کے سفر میں ہی کم از کم دو مواقع ایسے آچکے ہیں جب ایم کیو ایم (پ) کی طرف سے سخت الفاظ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر ان کے تحفظات دور نہ کئے گئے تو وہ حکومت کے ساتھ اپنے تعاون پر نظر ثانی کریں گے، اب یہی بات کراچی کے میئر وسیم اختر نے کر دی ہے جن کا شمار ایم کیو ایم (پ) کے سینئر رہنماؤں میں ہوتا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ہم نے قومی اسمبلی میں درخواست جمع کرا دی تو عمران خان وزیراعظم نہیں رہیں گے۔ ان کا یہ دھمکی آمیز بیان تحریک انصاف کے رہنما خرم شیر زمان کے جواب میں آیا جس میں انہوں نے میئر کراچی کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا تھا، وسیم اختر نے انہیں ’’سیاسی نابالغ‘‘ قرار دیا۔ یوں تو ایسے لوگ ہر سیاسی جماعت میں ہوتے ہیں، جو پارٹیوں کے درمیان تعلقات خراب کرنے میں مہارت رکھتے ہیں اور کسی نہ کسی چنگاری کو اپنے دامن سے ہوا دیتے رہتے ہیں، جو اختلافات کا باعث بن جائے۔ اب کوئی خرم شیر زمان سے پوچھے کہ انہیں میئر وسیم اختر سے کیا شکایت ہے اور اگر ہے بھی تو اس کا یوں اظہار خلاف حکمت اور مصلحت ہے، کیونکہ ایم کیو ایم اگر آج حکومت کی کشتی سے اترنے کا فیصلہ کرلے تو کشتی کا توازن خراب ہو جائے گا اور یہ ڈولنا شروع ہو جائے گی، لیکن تحریک انصاف کے شعلہ بیان رہنماؤں کو شاید اندازہ نہیں کہ مخلوط حکومتوں کی کیا مجبوریاں ہوتی ہیں اور ایسی جماعتوں کو ساتھ رکھنے کے لئے کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، ان کے ناز نخرے اٹھانے پڑتے ہیں۔ اس وقت جن جماعتوں نے تحریک انصاف کے اقتدار کو سہارا دے رکھا ہے، ان میں ایم کیو ایم سب سے بڑی جماعت ہے اور یہ تو سب جانتے ہیں کہ دونوں جماعتوں میں کوئی قدر مشترک نہیں، بلکہ ماضی میں تو ان کے درمیان اچھی خاصی لڑائی جاری رہتی تھی، یہاں تک کہ تحریک کی ایک خاتون رہنما کے قتل کا براہ راست الزام ایم کیو ایم پر لگا دیا گیا تھا اور عمران خان بنفس نفیس مقدمہ درج کرانے کے لئے ثبوتوں کے ساتھ لندن بھی گئے تھے، لیکن یہ خون بھی وقت کی دھول میں دب گیا اور اب مرور ایام کے ہاتھوں دونوں جماعتیں شریک اقتدار ہیں۔ ایم کیو ایم کے پاس دو بڑی وزارتیں ہیں اور غالباً تیسری کا تقاضا کیا جا رہا ہے، ایسے نازک حالات میں اگر کوئی وسیم اختر کو ہٹانے کی بات کرے گا تو پھر ایسا ہی جواب ملے گا جیسا ان کی جانب سے دیا گیا لیکن اس دھمکی آمیز بیان کے باوجود ابھی ایم کیو ایم اقتدار کی کشتی میں سوار رہے گی لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ راستے بدلنے کا وقت کب آجائے۔

بلوچ رہنما اختر مینگل بھی کبھی کبھار ایسے بیانات دیتے رہتے ہیں جن سے انداز ہوتا ہے کہ وہ تحریک انصاف سے زیادہ خوش نہیں ہیں، باقی اتحادی جماعتیں خاموشی کے ساتھ اقتدار کی شراکت داری سے لطف اٹھا رہی ہیں، ان حالات میں اگر وزیراعظم نے قبل از وقت انتخابات کی بات کی ہے تو کیا اتحادیوں کو کوئی پیغام دینا مقصود ہے، ویسے تو بہتر تھا وزیراعظم ایسی بات نہ ہی کرتے، کیونکہ اس کا اثر مثبت نہیں منفی ہوا ہے اور اسے حکومت کی کمزوری پر محمول کیا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں جب روپیہ بے توقیر اور معیشت ڈانواں ڈول ہے، معیشت کی شرح نمو رک چکی ہے اور امکان یہ ہے کہ مالی سال کے اختتام تک اگر یہ شرح چار فیصد بھی رہ جائے تو غنیمت ہوگا جبکہ سال گزشتہ یہی شرح 5.8 فیصد تھی۔ ماہرین کے مطابق اگر بے روزگاروں کو روزگار دینا مقصود ہو تو یہ شرح کسی صورت ساڑھے سات فیصد سے کم نہیں ہونی چاہئے، جو فی الحال تو ایک خواب ہے۔ ایسے میں حیرت ہے کہ ایک کروڑ نوکریاں کیسے پیدا ہونگی، ایسے میں اگر نئے انتخابات کا شوشہ چھوڑا جائے تو اس سے غیر یقینی صورت حال ہی پیدا ہوگی، اگر وزیراعظم کاروئے سخن اتحادیوں کی طرف تھا تو ان کے پاس کھونے کے لئے زیادہ کچھ نہیں، ان کی وزارتیں ختم ہوں گی لیکن اگر واقعتاً نئے انتخابات ہوگئے تو اس امر کی کیا ضمانت ہے کہ تحریک انصاف کو موجودہ نشستیں بھی مل پائیں گی، اس لئے بہتر یہ ہے کہ اتحادیوں کو حکمت عملی کے ساتھ حکومت میں شامل رکھا جائے اور انہیں شکایات کا موقع نہ دیا جائے، بلاوجہ کی ایسی بیان بازی سے بھی گریز ہی بہتر ہے، جس کے نتیجے میں اتحادی ناراض ہوں اور یہ تک کہنے لگیں کہ ہم نے قومی اسمبلی میں درخواست دیدی تو عمران خان کی حکومت نہیں رہے گی۔

چھلانگ

Back to Conversion Tool

مزید : تجزیہ