اسلام آباد ہائیکورٹ کی جعلی رجسٹریوں کے معاملے پر آئی جی پولیس اور چیف کمشنر کی سرزنش

اسلام آباد ہائیکورٹ کی جعلی رجسٹریوں کے معاملے پر آئی جی پولیس اور چیف کمشنر ...

اسلام آباد( آن لائن ) اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہر اقتدار میں جعلی رجسٹریوں کے معاملے پر انسپکٹر جنرل پولیس اور چیف کمشنر اسلام آباد کی سخت سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ روٹین کی درخواست میں تفتیشی کا رویہ غیر ذمہ دارانہ ہے غلط رجسٹری کرنے والے سب رجسٹرار کو تفتیشی نے بچانے کی کوشش کی ۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے جعلی رجسٹریوں کے معاملے پر درخواست پر سماعت کی چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے درخواست پر سماعت کی فاضل بینچ نے جب سماعت شروع کی تو انسپکٹر جنرل پولیس عامرذوالفقار اور چیف کمشنر اسلام آباد عامر احمد علی پیش ہوئے جبکہ درخواست گزار کی جانب سے رضوان عباسی ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے بینچ میں شامل فاضل جج میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیئے کہ روٹین کی ضمانت میں تفتیشی کا رویہ غیر ذمہ دارانہ ہے غلط رجسٹری کرنے والے سب رجسٹرار کوتفتیشی نے بچانے کی کوشش کی انسپکٹرجنرل پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے تفتیشی ٹیم بنادی ہے جلد معاملے کو حل کریں گے چیف کمشنر اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد میں ایک ہفتے میں زمین کا انتقال لازم قرار دیا ہے رورل ایریا میں بھی بہت سے مسائل ہی زمین کی منتقلی کے پیچیدہ فارم کو عام فہیم کرکے ایک صفحے کا گوشوارہ بنایا ہے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دءئے ہیں کہ تفتیشی نے کرائم کو سامنے نہیں لایا جو سسٹم کی ناکامی ہے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ اکثر مقدمات میں اس قسم کے معاملات ہمارے سامنے آتے ہیں آئندہ معاملے کا فیصلہ کردینگے بعد ازاں عدالت نے مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر