اکادمی ادبیا ت کے زیر اہتمام حضرت سچل سرمست کی یاد میں مذاکراہ

اکادمی ادبیا ت کے زیر اہتمام حضرت سچل سرمست کی یاد میں مذاکراہ

کراچی (اسٹاف رپورٹر) اکادمی ادبیا ت پاکستان سندھ کے زیراہتمام سندھی زبان کے بہت بڑے صوفی شاعر حضرت سچل سرمست کی یاد میں’’مذاکرہ ‘‘و محفل مشاعرہ‘‘ کا انعقاد اکادمی ادبیات کے کراچی دفتر میں کیا گیا۔ جس کی صدارت معروف شاعر ضیاء شہزاد نے کی، مہمان خصوصی کینیڈا سے آئے ہوئے اردو کے نامورشاعرہ فاطمہ زہرا جبین تھیں۔اپنے صدارتی خطاب میں ضیاء شہزاد نے کہا کہ سچل سرمست کا پہلا کلام سرائیکی زبان میں ۸۵۹۱میں شایع ہوا سچل سرمست سندھی سرائیکی اردو اور فارسی کے ایک منفرد انداز رکھنے والے صوفی شاعر تھے آپ کا کلام میں تصوف سے لیکر حسن و عشق اور وقت کے حالات کا کابھی خوب ادراک کیاہوا ہے ۔ منصور تمام عاشقوں کے بادشاہ ہیں ۔آپ نے عشق میں اپنے آپ کو سولی پر لٹکادیا اور عاشقوں کے مجمع میں اپنا سر بلند کیا منصور والی مستی سچل سرمست کے پاس بھی ہے اور آپ کو یہ مستی عشق کی وجہ سے نصیب ہوئی۔ مہمان خصوصی فاطمہ زہرا جبین نے کہا کہ عاشق پرجب جذب اور سرمستی کے عالم میں وجدتاری ہوجاتا ہے تو اناالحق کا نعرہ لگاتے ہیں سچل سرمست بھی عشق کی مستی کی کیفیت میں اناالحق کا نعرہ بلندکرتے ہیں اور وہاں پر مجازی عشق کا بھی خوب تذکرہ کرتے ہیں۔ آپ ایسے محبوب کے زلفوں پے عاشق ہوتے ہیں جن کے کئی عاشقوں کو قتل کیا جاتا ہے ۔آپ کہتے ہیں کہ میں نے حب محبوب کو دیکھا تومیرا دل میرے ہاتھوں سے نکل کرمیرے محبوب کی زلفوں میں پھنس جاتا ہے۔ یہ زلفیں سانپ کی طرح گھنگھریالے لگ رہے تھے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر