اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 58

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 58
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 58

  

ایک مرتبہ حضرت جنید بغدادیؒ آشوب چشم میں مبتلا ہوگئے اس پر ایک آتش پرست طبیب نے آنکھوں پر پانی نہ لگنے کی ہدایت کی لیکن آپؒ نے فرمایا کہ وضو کرنا تو میرے لئے ضروری ہے اور طبیب کے جانے کے بعد وضو کرکے نماز عشاء ادا کرکے سوگئے اور جب صبح کو بیدار ہوئے تو درد چشم ختم ہوچکا تھا اور پھر آپ کو یہ ندا سنائی دی۔’’چونکہ تم نے ہماری عبادت کی وجہ سے آنکھوں کی پرواہ نہیں کی۔ اس لیے ہم نے تمہاری تکلیف رفع کردی۔‘‘

جب طبیب نے آپ کی آنکھوں کو تندرست دیکھ کر سوال کیا’’ ایک ہی شب میں آپ کی آنکھیں تندرست کیسے ہوگئیں؟‘‘

آپ نے فرمایا ’’وضو کرنے سے‘‘یہ سن کر وہ آتش پرست بولا ’’درحقیقت مَیں ہی مریض تھا اور آپ طبیب‘‘اتنا کہنے کے بعد وہ آتش پرست آپ کے ہاتھوں پر مسلمان ہوگیا۔

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 57 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

***

حضرت ابو محمد مرتعشؒ بغداد کے کسی محلہ سے گزررہے تھے کہ پیاس محسوس ہوئی اور جب آپ نے ایک مکان پر پہنچ کر پانی طلب کیا۔ تو ایک نہایت حسین لڑکی پانی لے کر آئی۔ آپ اسے دیکھ کر عاشق ہوگئے۔ پھر آپ نے اس لڑکی کے والد سے جب اپنی قلبی کیفیت کا اظہار کیا تو اس نے اسی لڑکی کا نکاح آپ سے کردیا۔ اور آپ کی گدڑی اتار کر نہایت نفیس لباس پہنادیا لیکن جس وقت آپ حجلہ عروسی میں پہنچے تو نماز میں مشغول ہوگئے اور پھر اچانک شور مچادیا ’’یہ لباس اتار کر میری گدڑی واپس دے دو۔‘‘

آخر کار بیوی کو طلاق دے کر واپس باہر نکل آئے اور جب لوگوں نے اس کی وجہ پوچھی، تو فرمایا ’’مجھے غیب سے یہ ندا آئی کہ تو نے چونکہ ہمارے سوا غیر پر نظر ڈالی اس جرم میں ہم نے نیک لوگوں کا لباس تجھ سے چھین لیا اور اگر پھر کسی ایسے جرم کا ارتکاب کیا تو تمہارا لباس باطنی بھی ضبط کرلیا جائے گا۔‘‘

***

ایک مرتبہ حضرت بایزید بسطامیؒ قبرستان سے تشریف لارہے تھے کہ آپ کو راستے میں ایک بسطامی نوجوان بر بط بجاتا ہوا ملا۔ آپ نے اسے دیکھ کر لاحول پڑھی۔ اس پر اس نوجوان نے بربط کو اتنی زور سے آپ کے سر پردے مارا کہ آپ کا سرپھٹ گیا اور بربط ٹوٹ گیا۔ آپ نے گھر واپس آکر نوجوان کو بربط کی قیمت اور کچھ حلوہ بھیجتے ہوئے پیغام دیا کہ اس رقم سے دوسرا بربط خرید لو اور حلوہ وغیرہ خوب کھاؤ تاکہ شکستہ بربط کا غم دور جائے۔

جب آپ کا یہ پیغام اس نوجوان کو ملا تو وہ آپ کے اخلاق سے بے حد متاثر ہوا۔ اس نے آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر معذرت طلب کی اور ہمیشہ کے لئے وہ اور اس کا ایک ساتھی تائب ہوگئے۔(جاری ہے )

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 59 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے