شریف آدمی کونیب سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں،کئی زیر حراست افراد کو 3 ،3 بیویاں ملنے آتی ہیں:ڈی جی نیب لاہور

شریف آدمی کونیب سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں،کئی زیر حراست افراد کو 3 ،3 ...
شریف آدمی کونیب سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں،کئی زیر حراست افراد کو 3 ،3 بیویاں ملنے آتی ہیں:ڈی جی نیب لاہور

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم نے کہا ہے کہ شریف آدمی کونیب سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں،اب تک 6 ارب 62 کروڑروپے سرکاری خزانے میں جمع کرایا، تمام زیر حراست افرادکوان کے اہلخانہ سے ملوایاجاتا ہے، کئی زیرحراست افرادکو دو ،دو اورتین ،تین بیویاں ملنے آتی ہیں،سوال کرتے ہیں توکرپشن کرنے والے برامان جاتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق الحمرا ہال لاہور میں کرپشن کے خلاف منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئےڈی جی نیب لاہور  شہزاد سلیم نے کہا کہ بڑے ناموں کوگرفتارکیاجاتاہے توباہرآکرجھوٹی کہانیاں سناتے ہیں،کرپشن کرنے والے ثبوت اورشواہدمٹادیتے ہیں،احتساب کاکام نیب پر چھوڑدیاگیا،پلی بارگین سزاہوتی ہے جسے کلیئرکرانے میں کئی سال لگتے ہیں، پلی بارگین کا قانون یورپ اور امریکہ میں بھی ہے لیکن یہاں اسے متنازعہ بنا دیا گیا،پلی بارگین جوڈیشل آڈر ہے جو چیئرمین نیب نہیں بلکہ جج صاحب کرتے ہیں ،ایسا نہیں کہ جو نیب کی انکوائری بھگت آیا وہ بہشتی دروازے سے گزر گیا، اگراس کے خلاف دوبارہ کوئی ثبوت ملیں گے تو اسے پکڑیں گے اور تحقیقات ہوں گی ، ڈیڑھ سال کے عرصے میں 6ارب62کروڑ روپے لٹیروں سے واپس لے کر قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں جبکہ 5ارب 33کروڑ کے پلاٹس،زمینیں اور عمارتیں لوگوں کو واپس کرائی گئیں ،نیب میں گرفتار تمام ملزمان کی اہل خانہ سے ملاقات کراتے ہیں،غریب نیب میں جاتا ہے تو جیل ٹھیک ، امیر جائے توعقوبت خانے میں تبدیل ہو جاتے ہیں ،بعض کی تو دو ،دو اورتین ،تین بیویاں ملنے آتی ہیں۔ڈی جی نیب شہزاد سلیم نے کہا کہ نیب کا سوفٹ امیج عوام تک نہیں پہنچتا،ہماری تو کوشش ہے کہ معاشرے سے برائیاں کم سے کم ہو جائیں اورسرے سے کرپشن نہ ہو تاکہ ہم لوگوں کو نہ پکڑیں اور باتیں بھی نہ ہوں ،ہر بندہ اپنے مزاج کے مطابق کام کر رہا ہے،ہر محکمہ کام کر رہا ہے لیکن احتساب کا کام نیب پر چھوڑ دیا گیا ہے، جب ہم بلاتے ہیں اور پکڑتے ہیں تو پھر نا گوار گزرتا ہے،جب ہم سوال پوچھتے ہیں تو برے لگتے ہیں،کوئی کہتا ہے کہ نیب میں کیمرے لگے ہیں،ہماری کوشش ہے کہ لوگوں میں کرپشن کے خلاف شعور اجاگر ہو ،ہم آگاہی مہم ، تدارک اورحکومت کو تجاویز دیتے ہیں ،ہم تعلیمی اداروں میں جا کر بار بار دہراتے ہیں تاکہ بچے کرپشن سے نفرت کریں اور ایمانداری کو اپنا شعار بنائیں،نیب کرپشن کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ چیئرمین نیب کو آئے ایک سال ہو گیا ہے او ران کا نعرہ احتساب سب کے لئے ہے اور نہ صرف لاہور بلکہ تمام ریجن اس نعرے پر چل رہے ہیں،وائٹ کالر کرائم کے ثبوت کو ڈھونڈنا بہت مشکل ہوتا ہے کیونکہ جو کرپشن کرتے ہیں وہ ثبوت اور شواہد مٹا دیتے ہیں،ترقی یافتہ ممالک میں اس طرح کی کرپشن کر پکڑنے میں پانچ سے چھ سال لگ جاتے ہیں لیکن یہاں ہم اسے ایک سال میں منطقی انجام تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں،اگر ہمیں کوئی کسی کی کرپشن کے حوالے سے بتاتا ہے تو ہم اس سے ثبوت مانگتے ہیں کیونکہ ہم نے عدالت کو ثبوت دکھانا ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ا گر کیس کا میرٹ ہوتو کیس بنے گا اگر ثبوت نہیں ہوں گے تو کیس نہیں چلے گا اسے بند کر دیں گے اور نیب دونوں کام کرتا ہے،مجھے ڈیڑھ سال پہلے ذمہ داری گئی اور ہم نے 6ارب62کروڑ روپے لٹیروں سے واپس لے کر قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں ،اس کے علاوہ پلاٹس، زمینیں، عمارتیں جو لوگوں کو نہیں دی جارہی تھیں وہ واپس لے کر دیں جن کی مالیت 5ارب33کروڑ روپے بنتی ہے۔

مزید :

قومی -علاقائی -پنجاب -لاہور -