کیا پاک فوج پی ٹی آئی کے منشور کے ساتھ کھڑی ہے؟ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایسی وضاحت کردی کہ پراپیگنڈہ کرنے والوں کے منہ بند ہوگئے

کیا پاک فوج پی ٹی آئی کے منشور کے ساتھ کھڑی ہے؟ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایسی ...
کیا پاک فوج پی ٹی آئی کے منشور کے ساتھ کھڑی ہے؟ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایسی وضاحت کردی کہ پراپیگنڈہ کرنے والوں کے منہ بند ہوگئے

  

راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ پاک فوج منتخب حکومت کو خارجہ امور کے بارے میں مشاورت فراہم کرتی ہے لیکن حتمی فیصلہ وزیر اعظم کا ہوتا ہے،ہم پاکستان کو ایک ایک اینٹ لگا کر دوبارہ بنارہے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ یہاں آئینِ پاکستان کے تحت قانون کی بالا دستی ہو، یہاں نہ کوئی بندہ ادارے سے بہتر ہو نہ ہی کوئی ادارہ ریاست سے بہتر ہو۔

وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے گزشتہ دنوں 6 اینکرز کو دیے گئے انٹرویو کے دوران کہا گیا تھا کہ پاک فوج تحریک انصاف کے منشور کے ساتھ کھڑی ہے، اسی حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے ایک صحافی نے سوال پوچھا تو  جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم کے انٹرویو کودوبار سنا اور پریس کانفرنس سے پہلے بھی سنا لیکن اس میں ایسی کوئی بات نہیں تھی،آپ ایک بات کا مطلب کیا لیتے ہیں یہ آپ پر منحصر ہے؟ ایک فقرے کو لے کر جو باتیں کریں گے اس پر بحث ہوسکتی ہے،برائے مہربانی وزیر اعظم کے انٹرویو کو پورا سنیں کیونکہ اس سے پہلے بھی اور بعد میں بھی بات چل رہی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ وزیر اعظم نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ دنیا بھر کی طرح ہم بھی سیکیورٹی سٹیبلشمنٹ سے مشاورت کرتے ہیں، پاک فوج کی مشاورت ہوتی ہے لیکن خارجہ پالیسی کے حوالے سے فیصلہ میں لیتا ہوں،وزیر اعظم نے کہا کہ ان کے پارٹی منشور میں خارجہ پالیسی کے حوالے سے جو بات ہے پاک فوج اس کے ساتھ کھڑی ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ افواج پاکستان اس ملک کی ہیں، آج پی ٹی آئی کی حکومت ہے کل کسی اور کی تھی اور آئندہ کسی اور کی بھی ہوسکتی ہے،جس کی بھی حکومت ہوتی ہے افواج پاکستان نے مشورہ دیا ہے اور حکومت کے فیصلوں پر عملدرآمد بھی کیا ہے،اگر تمام ادارے مل کر قومی سلامتی کیلئے کام کر یں تو یہ خوش آئند ہے، یہ اچھی بات ہے کہ ہم سب مل کر ملک کو آگے لے جائیں، میری آپ سب سے یہی درخواست ہے کہ ہم ملک کو وہاں لے کر جائیں جہاں لے جانا اس کا حق ہے۔

مزید :

قومی -