گناہِ بے گناہی؟

گناہِ بے گناہی؟
 گناہِ بے گناہی؟

  



ہمارے معاشرے میں بوجوہ شہرت اور رسوائی میں کچھ زیادہ تفریق باقی نہیں رہی۔اِس سے قطع نظر کہ رانا ثناء اللہ خان مشہور ہیں یا بدنام، ہماری سیاست کا ایک دلچسپ کردار ہیں۔ متنازع، بے باک، بہادر، غیر معتدل اور تیز زبان! زمانہ ہوتا ہے،ان کا شمار پاکستان پیپلزپارٹی کے جیالوں میں ہوتا تھا۔انہی دِنوں ایک موقع پر چنیوٹ میں مریم نواز کے بارے میں لب کھولے تو سب کو چونکا دیا۔اس واردات سے متعلق ایک ایف آئی آر بھی یادگار ہے!پھر یوں ہوا کہ میاں نواز شریف کے حلقہ ئ بیعت میں آ گئے۔ ہدف بدل گیا، تاہم الفاظ بازی کا رنگ وہی رہا، عیاں بلکہ عُریاں! ان کا قادیانیوں کے حوالے سے ایک ناپسندیدہ بیان سامنے آیا اور قومی حلقوں میں اضطراب پایا گیا تو تردید و معذرت کی جگہ اپنی روش پر ڈٹ گئے،اور پیر سیال کی رعایت سے گویا ہوئے کہ میرے پیر تو میاں نواز شریف ہوتے ہیں۔رانا صاحب کے حق اور مخالفت میں بہت کچھ کہا جا چکا ہے،اور مزید دیر تک یہ سلسلہ قائم رہے گا۔البتہ تاریخ کا فیصلہ باقی ہے کہ وہ انہیں مجہول قرار دے گی،یا معروف؟اب ان پر صحیح یا غلط، ایک مصیبت آن پڑی ہے تو ارشاد فرمایا:یہ ظلم ہے، اور ظلم زیادہ دیر نہیں چل سکتا! جوا ب آں غزل کے طور پر لوگوں نے سانحہئ ماڈل ٹاؤن کو بہت یاد کیا۔

الغرض رانا ثناء اللہ صاحب کے مزاج ماضی کے برعکس دیکھا یہ جانا چاہئے کہ ان پر ہیروئن کا مبینہ کیس سچا ہے یا جھوٹا؟ جو دلائل وبراہین ان کی بے گناہی میں دیئے جا رہے ہیں، وہ گنہگار ہونے پر بھی پیش کئے جا سکتے ہیں۔ ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ وہ پاگل تھے،جو اِن حالات میں ہیروئن کا بیگ ساتھ لئے پھرتے! مگر کہا یہ جا سکتا ہے کہ کسی دور میں کبھی ان کے گھر یا گاڑی کی تلاشی عمل میں آئی؟رانا صاحب کی اہلیہ کو روتے دیکھا تو نگاہوں میں بے ساختہ ان افراد کی تصویر پھر گئی،جو اب تک روتے چلے آتے ہیں!ایک شخص بولا، خالق اکبر کا یہ عجیب انتظام ہے کہ کوئی کام بھی اپنی طرف منسوب نہیں ہونے دیتا۔عزرائیل جان نکال لے جائے تو بھی امراض و اسباب مذکور! بقول شاعر:”جو چاہو سو آپ کرو، عبث ہمیں بدنام کیا“۔بادی النظر میں موصوف پر سخت بحران و امتحان آ گیا،جس سے جلد نکل آنے کا شاید کوئی امکان نہیں۔”ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا“۔

یہ کیس حد سے زیادہ اُلجھا ہوا ہے۔اپنے وطن میں صحیح یا غلط کیا نہیں ہوتا،اور کون نہیں کرتا؟ کہنے کو انہیں، گناہِ بے گناہی کا مرتب بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ کیا ان کا دامن صاف ہے؟ سوالات کی ایک یلغار ہے۔البتہ اصل استفسار قدرے مختلف اور کافی اذیت ناک ہے۔ کیا اس ملک میں بے گناہوں کو نہیں لٹکا دیا جاتا رہا؟ کبھی کسی کے ماتھے پر ایک شکن بھی اُبھری؟؟کہنے کو تو نیک نیتی یا تعصب میں حد سے بڑھی ہوئی ان کی خود اعتمادی کا شاخسانہ بھی قرار دیا گیا ہے؟ اور ماضی ئ قریب تک پنجاب میں مسلسل اختیار و اقتداربھی اس کا ایک سبب! حامیوں نے یہ موقف بھی اختیار کیا کہ اگر وہ منشیات رکھتے تو کیا اہلیہ ساتھ ہوتی؟

مخالفین کا جواب ہے کہ ایسے دھندوں میں مستورات آڑ قرار پاتی ہیں،اور صاف بچ نکلنے کا ایک مہذب جواز! اس پس منظر میں اے این ایف والوں سے پوچھا تو یہ جانا چاہئے کہ اگر رانا ثناء اللہ کے برخلاف کسی عام آدمی کی بیوی، بہن یا بیٹی گاڑی میں موجود ہوتی تو کیا انہیں بھی بصد عزت و احترام گھر جانے دیا جاتا کہ کسی سچے یا جھوٹے ملزم کے ساتھ ہی دھر لیتے! اے این ایف سے پوچھا جا رہا ہے کہ کیا ان کی گرفتاری و تلاشی کے اثبات میں کوئی وڈیو یا پرائیویٹ گواہ موجود ہیں؟

واقعی یہ ایک بہت اچھا سوال ہے۔ افسوس لیکن یہ ہے کہ اس قانون میں ان تکلفات کی کوئی ضرورت ہی روا نہیں رکھی گئی۔ ایسا استفسار صرف ”خواص“ کے لئے کیوں؟ کبھی تو عوام کے لئے بھی پوچھ لیا گیا ہوتا! ہزاروں لوگ قید خانوں میں گل سڑ رہے ہیں۔ کیا رانا صاحب نے صوبائی وزیر قانون ہوتے ہوئے کبھی کسی مجبور و مقہور کا مقدمہ اس پہلو سے دیکھا یا سوچا؟ جو طریق کار ہم وطنوں کے لئے جائز ہے،وہ ان کے لئے ناجائز کیوں؟؟ جانے اس قانون کی رعایت سے لوگوں پر کیا کیا مظالم روا رکھے جاتے ہیں؟رانا ثناء اللہ، ایک طویل عرصے سے بدنام چلے آئے ہیں، دہشت گرد تنظیموں سے روابط اور کاروبارِ منشیات،ان کے نام کے ساتھ اب تو نہیں جڑا، قرین قیاس ہے کہ ایسا ان کی سیاست، طرزِ سیاست یا مخالفت کی بناء پر ہو؟

لیکن غور طلب پہلو یہ ہے کہ کیا کوئی سیاست دان اس بازار یا کاروبار میں ملوث نہیں؟اگر یار لوگ حد سے زیادہ منافع بخش اس تجارت سے وابستہ ہیں تو پھر تشکیک، اشتباہ، ابہام یا غلط فہمی کے رفع ہونے میں وقت تو لگے گا!اس مقدمے میں رانا صاحب معصوم ہو سکتے ہیں، اور امکانی طور پر ذمہ دار بھی، انہیں نیکو کار یا گنہگار ٹھہرایا جانا قابل از وقت ہو گا، ان کی قسمت یا واقعیت کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے، اور عدالتوں پر ہمیں اعتماد کرنا پڑے گا، جیسا کہ تمام لوگوں کے مقدمات میں فیصلوں پر کیا جاتا ہے۔ ہمارا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ دیگر عوام کی طرح رانا ثناء اللہ صاحب کے خلاف کسی سطح پر کسی طرح سے بھی کوئی زیادتی یا انتقامی کارروائی نہیں ہونی چاہئے!…… اے کاش! پاکستان میں دوست دشمن، چھوٹے بڑے اور خاص و عام کے لئے ایک ہی قانون ہو! دو قانون ملک و قوم کے لئے تباہ کن ہوتے ہیں، اور دو قوموں پر گواہ!

مزید : رائے /کالم