وزیراعظم کے ڈیجیٹل پاکستان منصوبے کی سربراہ تانیہ ایدروس دراصل کون ہیں اور ان کی پاکستان آمد میں جانگیر ترین کا کیا کردار ہے؟ وہ باتیں جو شاید آپ کو معلوم نہیں

وزیراعظم کے ڈیجیٹل پاکستان منصوبے کی سربراہ تانیہ ایدروس دراصل کون ہیں اور ...
وزیراعظم کے ڈیجیٹل پاکستان منصوبے کی سربراہ تانیہ ایدروس دراصل کون ہیں اور ان کی پاکستان آمد میں جانگیر ترین کا کیا کردار ہے؟ وہ باتیں جو شاید آپ کو معلوم نہیں

  



اسلام آباد، لندن (ویب ڈیسک)  وزیراعظم کے ڈیجیٹل پاکستان منصوبے کی سربراہی  کے لیے گوگل میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے والی تانیہ ایدروس اپنی سابقہ ذمہ داریوں سے مستعفی ہونے کے بعد سنگاپور سے پاکستان لوٹی ہیں، وزیراعظم عمران خان نے جمعرات کو تقریب سے خطاب میں کہا کہ تانیہ گوگل میں کام کرتی تھیں اور وہ یہ نہیں جانتے کہ وہ کتنے پیسے کما رہی تھیں لیکن انھوں نے گوگل کو چھوڑنے کا مشکل فیصلہ کیا ہے۔

بی بی سی اردوکے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے ان کے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ وقت ثابت کرے گا کہ آج جو فیصلہ انھوں نے کیا ہے وہ ان کی زندگی کا ایک اہم موڑ ثابت ہوگا۔تانیہ ایدروس نے اس تقریب میں اپنی تقریر کے دوران بتایا کہ انھیں پاکستان چھوڑے ہوئے 20 برس ہو گئے ہیں۔انہوں نے اپنی تعلیم ایم آئی ٹی سے حاصل کی ہے، جب ایم آئی ٹی کے پلیٹ فارم سے موقع ملا تو انھوں نے پاکستان پر ایک کیس سٹڈی بھی کی تھی ،سات برس پہلے انھیں گوگل کی جانب سے پاکستان بزنس یعنی گوگل کی پاکستان میں پروڈکٹس لانچ کرنے کا موقع ملا تو وہ امریکہ سے سنگاپور چلی گئیں۔

ان کا کہنا ہے کہ لیکن یہ سب کرتے ہوئے انھیں احساس ہوتا تھا کہ وہ پاکستان کے لیے جو کر رہی ہیں وہ کافی نہیں ہے، ان کے ایک جاننے والے شخص نے چھ سات ماہ قبل وزیر اعظم کو ایک ای میل بھیجی کہ اگر وہ ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹائزیشن کی طرف جانا چاہ رہے ہیں تو تانیہ سے بات کریں،اس وقت انھیں اس ای میل کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔

تانیہ ایدروس کے مطابق وزیر اعظم کی ریفارم ٹیم نے ان سے رابطہ کیا اور ایسے ان کا جہانگیر ترین سے تعارف ہوا جنھوں نے ان کے آئیڈیاز سنے اور ان کو پاکستان آنے پر راضی کیا اور پھر وزیر اعظم سمیت ان کی کابینہ کے دیگر لوگوں سے ان کی ملاقاتیں کروائیں،تانیہ ایدروس کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے پہلی ملاقات میں انھوں نے ایک بات بڑی واضح کی کہ ’تانیہ مسائل کی فہرست یہاں بہت لمبی ہے لیکن تم نے گھبرانا نہیں ہے،تانیہ کا کہنا ہے کہ سب کا اعتماد دیکھ کر انھیں لگا کہ وہ پاکستان آکر اس کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق  منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’گذشتہ برس اس حکومت کے آنے کے بعد مجھے اعتماد ملا کہ شاید میرے جیسا بندہ واپس آ کر حکومت کے ساتھ مل کر کچھ کر سکے کیونکہ مجھے اعتماد ہے کہ اس حکومت کو عام آدمی کی پرواہ ہے،   ان سے لوگ پوچھتے ہیں کہ ان کا سیاسی ایجنڈہ کیا ہے اس لیے وہ انھیں بتانا چاہتی ہیں کہ ’میرا سادہ سا ایجنڈہ ہے کہ مجھے صرف پاکستان کی ترقی دیکھنی ہے،ڈیجیٹل پاکستانکا مقصد ڈیجیٹل ہنر مندی اور خواندگی پیدا کرنا ہے،ہمیں اگر سائنس اور ٹیکنالوجی کی طرف منتقل ہونا ہے تو اسے کم سے کم عمر میں شروع کروانا ہوگا۔ ہمیں بچوں میں بھی سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم عام کرنا ہوگی‘۔

تانیہ ایدروس کا کہنا تھا ’پاکستان میں یونیورسٹی سے چار سال بعد بھی نوجوان جو نصاب پڑھ کر نکل رہے ہیں وہ دیگر دنیا کے مقابلے میں پرانا ہو چکا ہے جس کی وجہ سے وہ عالمی معیشت میں حصہ لینے کے قابل نہیں، اگر اس مسئلے کو ابھی سے ٹھیک نہ کیا گیا تو اس کے اثرات ہمیں دس سے بیس سال میں نظر آئیں گے‘۔ انھوں نے زور دیا کے نصاب کو بہتر بنائے بغیر ایسا کرنا ممکن نہیں،انھوں نے زور دیا کہ اس کے لیے ملک میں سرمایہ کاروں کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں تاکہ نئی ٹیکنالوجی کمپنیاں کھولنے کے آسانی ہو۔

اپنے خطاب کے اختتام پر اس منصوبے کی کامیبابی کو مشکوک سمجھنے والوں کو مخاطب کر کے انھوں نے کہا کہ ’ہم سے یہ سوال نہ پوچھیں کہ پاکستان میں یہ ہو سکتا ہے یا نہیں بلکہ یہ پوچھیں کہ ہم اسے کتنا جلدی شروع کریں گے، 

بی بی سی کے مطابق حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے مطابق اس منصوبے کا ایک مقصد ’ای گورنس‘ قائم کرنا بھی ہے جس میں معلومات کو الیکٹرانیکلی محفوظ کیا جائے گا، سکیورٹی بڑھائی جائے گی اور عوام کی حکومت تک رسائی کے لیے پلیٹ فارم بنائے جائیں گے، اس پروگرام کے تحت پہلے سے موجود نادرہ کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کا از سرنو جائزہ لیا جائے گا بلکہ نئے انفراسٹرکچر متعارف کروائے جائیں گے جن میں سکیورٹی اور کارکردگی کو یقینی بنایا جائے گا، 

تحریک انصاف کے مطابق اس منصوبے کے تحت ایسا ڈیجیٹل انفراسٹرکچر تیار کیا جائے گا جہاں صارفین سمارٹ فون کی مدد سے اپنے تمام روز مرہ کے امور تیز اور محفوظ طریقے سے انجام دے سکیں گے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...