"پھر کہتا ہوں گھبرانا نہیں"

"پھر کہتا ہوں گھبرانا نہیں"

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ای گورننس ناگزیر ہے۔ اداروں میں اصلاحات کی کوشش کرتے ہیں تومزاحمت ہوتی ہے مگر اس پر قابو پالیں گے۔پی ٹی آئی حکومت کیلئے معاشی حالات بہتر بنانا بہت بڑا چیلنج تھا۔ پاکستان کے تمام ادارے خسارے میں تھے۔ حکومت نے کرنٹ اکائونٹ خسارے پر قابو پا لیا ہے۔ڈیجیٹل میڈیا ویڑن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میری توجہ معیشت بہتر کرنے پر ہے۔ عالمی ادارے بھی اب پاکستان کی مثبت معاشی کارکردگی کا اعتراف کر رہے ہیں۔ میری توجہ معیشت بہتر کرنے پر ہے۔ ای گورننس سے عوام کی زندگیوں کوآسان بنائیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ جب ڈالر لندن منتقل ہو رہے ہوں تو روپے پر اثر پڑتا ہے۔ کرپشن ہمیشہ اوپر سے شروع ہوتی ہے۔ کرپشن اوپر سے شروع کرنے والے بیرون ملک چلے گئے۔ بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ای گورننس ناگزیر ہے۔ ہمیں ڈیجیٹل پاکستان وڑن پر بہت پہلے توجہ دینی چاہیے تھی۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں پیسوں کی خاطر دوسروں کی جنگیں لڑی گئیں لیکن آج کا پاکستان امن کے لیے دوسرے ممالک کے مابین ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ہم مسلم امہ کو اکٹھا کرنے میں ہم اپنا رول ادا کریں گے۔عمران خان نے ایک مرتبہ پھر قوم کو اعتماد دلاتے ہوئے کہا کہ عوام گھبرائے نہ، ملک کا مستقبل روشن ہے۔ زندگی کا مقصد طے کرنے والے لوگ ترقی کرتے ہیں اور مشکل فیصلے کرنے والے کامیاب ہوتے ہیں۔ آسان راستے ڈھونڈنے والوں کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ زندگی کا ہر روز آگے بڑھنے کا زینہ ہے۔ جس دن چیلنج ختم اس دن آپ کی زندگی ختم ہو جاتی ہے۔ عمران خان نے کہا ہے کہ میں نے عمر کا زیادہ تر حصہ بیرون ملک گزارا، میںسمندر پار پاکستانیوں کے مثبت رجحانات سے بخوبی واقف ہوں، زندگی کا مقصد طے کرنے والے لوگ ہی ترقی کرتے ہیں،مشکل فیصلے کرنے والے لوگ ہی کامیاب ہوتے ہیں،آج باہر کے ادارے ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، ایشین ڈویلپمنٹ بینک کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کی معیشت میں استحکام آ گیا ہے، اب ہماری پوری توجہ ڈیجیٹل پاکستان پراجیکٹ پر ہو گی، ڈیجیٹل پاکستان پراجیکٹ ہماری یوتھ کو ہماری طاقت میں تبدیل کر سکتا ہے،خواتین بھی اس میں شامل ہوسکتی ہیں ،ہمیں اس منصوبے سے پورا فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ، ای گورننس سے کرپشن کا خاتمہ ہو گا، کرپشن ختم کرنے کا یہی سب سے بہترین طریقہ ہے،اداروں میں ای گورننس لانا چاہتے ہیں لیکن اس کے خلاف بڑی رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔،پاکستان کا آنے والا دور خوش آئند ہے،بڑی تبدیلیاں آئی ہیں، اسی لئے تبادلوں کا بلڈ باتھ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ہم مسلم امہ کو اکٹھا کرنے کےلئے بھرپور کردار ادا کریں گے، دنیا بھی پاکستان کے کردار کو تسلیم کر رہی ہے۔،جمعرات کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر کنٹرول کے حوالے سے صوبائی حکومتوں کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات پر اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی مخدوم خسرو بختیار، وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخواہ محمود خان، مشیر تجارت عبدالرزاق داﺅد، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، صوبائی چیف سیکرٹری صاحبان و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔ صوبائی چیف سیکرٹری صاحبان نے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر کنٹرول کے حوالے سے وزیرِ اعظم کی ہدایت کے مطابق کیے جانے والے انتظامی و دیگر اقدامات سے اجلاس کو آگاہ کیا۔ ان اقدامات میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی مانیٹرنگ، منڈیوں میں اشیائ کی بولی کو شفاف بنانے کے حوالے سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے تدارک کے حوالے سے اقدامات، کسانوں کواجناس کی فروخت میں سہولت فراہم کرنے کے لئے کسان مارکیٹوں کا قیام، اسلام آباد کی طرز پر منڈی سے گھرکی دہلیز تک اشیائے ضروریہ کی فراہمی کا نظام متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ وزارتِ نیشنل فوڈ سیکورٹی میں اشیائے ضروریہ کی طلب و رسد کو مد نظر رکھتے ہوئے بروقت حکمت عملی مرتب کرنے کے حوالے سے خصوصی سیل کا قیام شامل تھا۔

چیف سیکرٹری پنجاب میجر (ر) اعظم سلیمان نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق صوبائی حکومت کی خصوصی توجہ ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوری کی روک تھام، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا تعین اور تعین شدہ قیمتوں کے اطلاق پر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیرِ صنعت کی سربراہی میں قیمتوں پر کنٹرول کے حوالے سے قائم کی جانے والی ٹاسک فورس کا اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ آٹااور چینی صوبے بھر میں یکساں قیمت پر دستیاب ہو۔ انتظامیہ کی جانب سے اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ تمام پرچون کی دکانوں پر نرخ لسٹ واضح آویزاں ہو، انہوں نے کہا کہ تعین شدہ قیمتوں کے اطلاق کو یقینی بنانے کے لئے 1274پرائس مجسٹریٹس کی جانب سے 228233دکانوں کی چیکنگ کی گئی جس کے دوران 3957ایف آئی آرز کا اندراج، 3670گرفتاریاں عمل میں آئیں اور سات کروڑ نوے لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا۔ چیف سیکرٹری نے بتایا کہ قیمت پنجاب اپلیکیشن کے ذریعے زائد قیمتوں کی شکایت پر فوری ایکشن کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز اور محکمہ زراعت کے افسرمنڈیوں کا باقاعدگی سے دورہ کر رہے ہیں۔ پنجاب بھر کے 36اضلاع میں قیمتوں کے تعین کے لئے کمیٹیاں قائم کر دی گئی ہیں۔

چیف سیکرٹری پنجاب نے بتایا کہ کسانوں کی سہولت کے لئے 74کسان مارکیٹیں قائم کی گئی ہیں جن میں کسان براہ راست اپنی اشیا فروخت کر سکتے ہیں۔ قیمتوں پر کنٹرول کے حوالے سے انتظامی اقدامات کو مزید موثر بنانے کے لئے چیف سیکرٹری پنجاب کی جانب سے مختلف تجاویز بھی پیش کی گئیں۔ چیف سیکرٹری خیبر پختونخواہ ڈاکٹر کاظم نیاز نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ خیبر پختونخواہ کی توجہ ان اشیائ کی قیمتوں پر کنٹرول کی جانب رہی ہے جو غریب اور کم آمدنی والے افراد کو متاثر کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قیمتوں پر نظر رکھنے خصوصاً اشیائے ضروریہ کے مارکیٹ میں اصل نرخوں کی معلومات کے لئے آزاد ذرائع بربروئے کار لائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ذخیرہ اندوزی کے تدارک کے لئے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں اس کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت کی توجہ کسان مارکیٹوں کے قیام پر رہی ہے کہ جہاں کاشتکار کو اپنی اجناس براہ راست فروخت کرنے کے مواقع میسر آئیں۔ چیف سیکرٹری نے بتایا کہ قیمتوں پر موثر کنٹرول کے لئے مجسٹریوں کی منڈیوں میں موجودگی کو یقینی بنانے کے لئے جیو ٹیگنگ کا نظام رائج کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے بارے میں خیبر پختونخواہ سٹیزن پورٹل کے ذریعے عوام کو آگاہی فراہم کی جاتی ہے اور کسی بھی شکایت کا فوری مداوا کیا جاتا ہے۔ چیف سیکرٹری خیبر پختونخواہ ڈاکٹر کاظم نیاز نے بتایا کہ 83تحصیلوں میں 97کسان مارکیٹیں قائم کی جا چکی ہیں اس ضمن میں پیش آنے والے مسائل کو ضلعی انتظامیہ فوری طور پر حل کرا رہی ہے۔ ڈاکٹر کاظم نیاز نے اسلام آباد کی طرز پر پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان، ایبٹ آباد اور مردان میں منڈیوں سے گھروں تک اشیائے ضروریہ کی فراہمی کے نظام میں پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔ ملاوٹ کی روک تھام اور حوصلہ شکنی کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات کے حوالے سے ڈاکٹر کاظم نیاز نے بتایا کہ کھانے پینے کی چیزوں اور دوائیوں میں ملاوٹ کے تدارک کے لئے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ چیف سیکرٹری سندھ اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری بلوچستان کے بھی قیمتوں پر کنٹرول کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات سے بریفنگ دی۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غریب اور کم آمدنی والے افراد کو ریلیف کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیمتوں پر موثر کنٹرول کے لئے تمام انتظامی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پرائس کنٹرول کے حوالے سے ہر ہفتے اجلاس کی صدارت کریں گے۔

وزیرِ اعظم نے اس امر پر زور دیا کی ملکی ضروریات کے پیش نظر اشیائے ضروریہ کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے مستقبل کی منصوبہ بندی کے حوالے سے ایک مربوط نظام تشکیل دیا جائے تاکہ جہاں ملکی ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے مطلوبہ اجناس کی کاشت کو یقینی بنایا جا سکے وہاں برآمدات اور درآمدات کے حوالے سے بھی بروقت فیصلے لیے جا سکیںدریں اثنا وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کہ تعمیرات کے شعبے کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے تعمیرات کے شعبے کے فروغ سے جہاں اس شعبے سے منسلک چالیس کے قریب بڑی صنعتوں کو فروغ ملے گا وہاں معاشی عمل تیز ہوگا اور نوجوانوں اور ہنر مندوں کو نوکریوں اور روزگار کے مواقع میسر آئیں گے، صوبائی حکومتیں تعمیرات کے شعبے سے متعلقہ صوبائی ٹیکسز کو ممکنہ حد تک کم کرنے پر غور کریں تاکہ تعمیرات کے شعبے کو فروغ ملے، ملک کے تمام بڑے شہروں کی ماسٹر پلاننگ کے از سر نو جائزہ لینے اور مرتب کرنے کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ شہری آبادی، شہروں کے پھیلاﺅاور ان میں سہولتوں کی فراہمی کی منظم و مربوط کیا جا سکے جمعرات کو نیا پاکستان ہاﺅسنگ پروگرام سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ تعمیرات کے شعبے کا فروغ حکومتی ترجیحات میں شامل ہے اعلی سطح اجلاس میں نیا پاکستان ہاﺅسنگ پروگرام سے متعلق جائزہ اجلاس کا انعقاد،تعمیرات کے شعبے کے فروغ،نیا پاکستان ہاﺅسنگ پروگرام کے تحت ملک بھر میں گھروں کی تعمیر خصوصاً کم آمدنی والے افراد کو اپنی ذاتی چھت کی فراہمی کے حوالے سے حکومتی منصوبے میں اب تک کی پیش رفت پر جائزہ لیا گیا اجلاس میں چیئرمین نیا پاکستان ہاﺅسنگ اتھارٹی ، چیئرمین ایف بی آر، صوبائی چیف سیکرٹریز، صوبائی حکومتوں کے متعلقہ سینئر افسران و دیگر افسران شریک ہوئے چیئر مین نیا پاکستان ہاﺅسنگ اتھارٹی نے اجلاس کو تعمیرات کے شعبے کے فروغ اور نیا پاکستان ہائوسنگ پروگرام کو عملی جامہ پہنانے میں اب تک ہونے والی پیش رفت پر بریفنگ دی۔

وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ تعمیرات کے شعبے کے فروغ کے لئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ تعمیراتی مرحلے پر لاگو کیے جانے والے سیلز ٹیکس کو ختم کر دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں صوبہ پنجاب، خیبر پختونخوا اوربلوچستان میں اس فیصلے کے اطلاق کی منظوری دی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ تعمیر شدہ گھر کی فروخت کے مرحلے پر فکس ٹیکس کے نفاذ پر تمام صوبائی حکومتوں میں اتفاق ہو چکا ہے۔ نیا پاکستان ہاو¿سنگ پروگرام کے تحت بننے والے گھراس ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیے جائیں گے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کیپیٹل ویلیو ٹیکس کی شرح کم کرنے کے حوالے سے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ ای اسٹام پیپرز کا بھی اجراء کیا جا رہا ہے جس سے تعمیرات کے شعبے سے منسلک افراد کو آسانی میسر آئے گی۔ تعمیرات کے شعبے میں ایز آف ڈوئنگ بزنس (کاروبار میں آسانیاں فراہم کرنے) کے حوالے سے وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ تمام صوبائی حکومتوں کی جانب سے آن لائن ڈیجیٹل پورٹل کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے اور اس کے اجراء کے سلسلے میں بھی خاطر خواہ پیش رفت کی جا چکی ہے۔ اس اقدام سے تعمیرات سے متعلقہ تمام سرکاری محکموں کو منسلک کیا جا رہا ہے تاکہ کاروباری برادری کواجازت ناموں و دیگر ضروریات پورا کرنے کے حوالے سے مختلف دفاتر کے چکر لگانے کی زحمت سے بچایا جا سکے۔

وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ تمام صوبائی حکومتوں کی جانب سے تعمیرات کے شعبے سے متعلقہ اجازت ناموں اور این او سیز کو ممکنہ حد تک کم کیا جا رہا ہے تاکہ تعمیرات کے شعبے سے وابستہ عمل کو آسان ترین بنایا جا سکے۔ چئیرمین نیا پاکستان ہاو¿سنگ اتھارٹی نے اجلاس کو بتایا کہ تمام صوبائی حکومتوں کو درخواست کی گئی ہے کہ وہ کم آمدنی والے افراد کے لئے گھروں کی تعمیر اور ایسی سوسائٹیز کے لئے موجود صوبائی زمینوں کی نشاندہی کریں تاکہ اس زمینوں پر ہاو¿سنگ منصوبوں کا جلد از جلد آغاز کیا جا سکے۔ بڑے شہروں میں کثیر المنزلہ عمارات کی تعمیر کے حوالے سے ہوا بازی ڈویڑن سے این او سی لینے کی شرط کے خاتمے کے حکومتی فیصلے پر عمل درآمد میں ہونے والی پیش رفت سے بھی وزیرِ اعظم کو آگاہ کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے تعمیرات کے شعبے کے فروغ کے لئے اٹھائے جانے والے عملی اقدامات کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعمیرات کے شعبے کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے کیونکہ تعمیرات کے شعبے کے فروغ سے جہاں اس شعبے سے منسلک چالیس کے قریب بڑی صنعتوں کو فروغ ملے گا وہاں معاشی عمل تیز ہوگا اور نوجوانوں اور ہنر مندوں کو نوکریوں اور روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔

وزیرِ اعظم نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ تعمیرات کے شعبے سے متعلقہ صوبائی ٹیکسز کو ممکنہ حد تک کم کرنے پر غور کیا جائے تاکہ تعمیرات کے شعبے کو فروغ ملے۔ وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلی پنجاب کو ہدایت کی ہے کہ گورننس کی بہتری کیلئے سخت اقدامات اٹھائیں، ریاست ایک احساس کا نام ہے، عوام کو بھرپور انداز میں ریلیف فراہم کیا جائے۔ وزیراعظم عمران خان سے وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے ملاقات کی۔ملاقات میں پنجاب گورننس کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعلی پنجاب نے وزیراعظم کوعمران خان کو حالیہ انتظامیہ تبدیلیوں سے متعلق آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے عثمان بزدار کو پنجاب میں گڈگورننس مزیدبہتر بنانے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلی پنجاب کو ہدایت کی کہ عوام کو بھرپور انداز میں ریلیف فراہم کیا جائے۔ ریاست ایک احساس کا نام ہے۔معاشرے کے کمزورطبقات کو اوپر اٹھانا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ گورننس میں بہتری کیلئے سخت اقدامات اٹھائیںوزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ شہبازشریف کے داماد اور بیٹے بھگوڑے ہیں،شہزاد اکبر نے حقائق قوم کے سامنے رکھے،حکومتی ترجمان مسلم لیگ ن سے شہزاد اکبر کے پوچھے گئے سوالات پوچھیں۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی اور پارٹی ترجمانوں کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہاکہ شہبازشریف نے منی لانڈرنگ کے ذریعے پیسہ کمایا، شہبازشریف ڈیلی میل کی خبر کا جواب نہیں دے سکے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ شہبازشریف کے داماد اور بیٹے بھگوڑے ہیں، انہوں نے کرپشن کا نیٹ ورک چلایا، وزیراعظم نے شہزاد اکبر کی پریس کانفرنس کی تائید کی۔ وزیر اعظم نے کہاکہ شہزاد اکبر نے حقائق قوم کے سامنے رکھے، حکومتی ترجمان مسلم لیگ ن سے شہزاد اکبر کے پوچھے گئے سوالات پوچھیں۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد


loading...