طلباء تنظیموں کی افادیت اور ’’لال ،لال لہرائےگا ‘‘ کا نعرہ

طلباء تنظیموں کی افادیت اور ’’لال ،لال لہرائےگا ‘‘ کا نعرہ
طلباء تنظیموں کی افادیت اور ’’لال ،لال لہرائےگا ‘‘ کا نعرہ

  



وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ملک میں طلباء تنظیموں کی بحالی کا عندیہ دیا ہے۔ طلبہ تنظیموں کا فعال ہونا مثبت فیصلہ ثابت ہوسکتا ہے۔ مگرسوال یہ ہے کہ طلباء تنظیموں کا دائرہ کارکیا ہونا چاہئے ؟؟؟ ہماری درگاہیں تعلیم وتربیت کامسکن ہونی چاہیں اورطلباءتنظیموں کوطلباءکےحقوق کےلیےکام کرنے کاموقع ضرور ملنا چاہیے۔تصویر کادوسرارخ یہ ہےکہ ماضی میں طلباءتنظیمیں سیاسی جماعتوں کاہراول دستہ بن کرملکی سیاست میں کردارادا کرتی رہی ہیں جبکہ سیاسی جماعتوں نے طلباءتنظیموں کوہائی جیک کرکے جامعات کو سیاسی اکھاڑوں میں بدل دیا اور ہماری درسگاہیں تعلیم و تربیت کی بجائے سیاست کا مرکز بن گئیں تھیں ۔ 70 اور 80 کی دہائی میں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سیاسی جماعتوں کے زیرسرپرستی طلباء تنظیموں کی باقاعدہ سیاسی سرگرمیاں اپنےعروج پر پہنچ گئی تھی اور کئی گھروں کے چشم و چراغ گل ہوگئے۔ چنانچہ 1982 میں صدر ضیاء الحق نے طلباء تنظمیوں پر پابندی عائد کردی  لہذٰا بحالی سے قبل ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ طلباء تنظیموں کو منفی سیاسی رحجانات سےدوررکھاجائے ۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ’’ جامعات مستقبل کی قیادت تیار کرتی ہیں اور طلبہ تنظیمیں اس سارے عمل کا لازمی جزو ہیں،بدقسمتی سے پاکستان کی جامعات میں طلبہ تنظیمیں میدان کارزار کا روپ دھار گئیں اور جامعات میں دانش کا ماحول مکمل طور پر تباہ ہوکر رہ گیا،‏ہم دنیا کی صف اول کی دانشگاہوں میں رائج بہترین نظام سےاِستفادہ کرتےہوئےایک جامع اورقابلِ عمل ضابطہ اِخلاق مرتب کریں گےتاکہ ہم طلبہ تنظیمیوں کی بحالی کی جانب پیش قدمی کرتےہوئے انہیں مستقبل کی قیادت پروان چڑھانے کے عمل میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکیں‘‘۔ میں وزیراعظم عمران خان کی اس بات سے اتفاق کرتی ہوں ,اِس پrمن وعن عمل ہوناچاہیے۔ گزشتہ دنوں لاہور میں’’لال لال لہرائے گا ‘‘کا نعرہ بلند کرکے کچھ کمیونزم /سوشلزم زدہ طلباء نےسیاسی رنگ جمانے کی بھرپور کوشش کی ۔ ان کی اس کاوش کو فی الفور پاکستان مخالف سیاسی تنظیم ’’پی ٹی ایم‘‘ نے ہائی جیک کرلیا۔ چنانچہ ہمیں ضرور دیکھنا ہوگا کہ ہم کس طرح طلباء تنظیموں کو منفی سیاسی رحجانات کے اثرات سے دور رکھ سکتے ہیں؟ ۔

جہاں تک ’’لال لال لہرانے‘‘ والوں کا معاملہ ہے تو منتظمین سے ضرور بازپرس کی جائے کہ اِنہیں افواج پاکستان کے خلاف نعرے بازی اور ملکی سالمیت پر وار کی ترغیب کس نےدی؟؟؟ حقوق طلباء کی آڑ میں ملکی سالمیت پر جو حملہ ہوا , اس پر گہری تشویش ہے۔ اِسی لاہور شہر میں منہاج القرآن انٹرنیشنل کی قائم کردہ " مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ " نےیکم دسمبر 2019 کو الحمراء کمپلیکس , قذافی سٹیڈیم لاہور میں " قومی طلبہ کنونشن " کا انعقاد کیا  جس میں 10 ؑہزار طلباء نے شرکت کی ۔اس قومی طلبہ کنونشن نے یہ واضح پیغام دیا کہ طلباء تنظیموں کو کردار سازی ,مستقبل کی قیادت کی تیاری اورحقوق طلباءکےتحفظ کےلیے فعال کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ طلباء تنظیموں کی سرگرمیوں کے مثبت اثرات سامنے آسکیں ۔

طلباءمستقبل کےمعمارہیں اور ہر طالب علم کو تعلیم کے ساتھ مثبت ذہنی , فکری , علمی , ادبی اور اخلاقی تربیت کی بھی ضرورت ہے،طلباء تنظیمیں ان مثبت اور صحت مند سرگرمیوں کے فروغ میں بہترین کردار ادا کرسکتی ہیں،اگر طلبہ کو مناسب راہنمائی ملے گی تو وہ مستقبل کے مفید شہری بنیں گے ۔ حاصل کلام یہ ہے کہ طلباء تنظیمیں بذاتِ خود کوئی شجر ممنوعہ نہیں ہیں ۔ اَب یہ اِن کے راہنماؤں پر منحصر ہے کہ وہ طلباء کے کردار و عمل پرمثبت کردار ادا کرتے ہیں یا منفی ؟؟؟۔ طلباء تنظیموں کے منفی کردار کے تدارک کےلیے بین الاقوامی معیار کے مطابق قواعد و ضوابط سے بھی مدد لی جاسکتی ہےلہذٰا طلباء تنظیموں پر پابندی کوئی بہترین عمل نہیں ہے۔ ہمیں طلبہ تنظیموں کی افادیت کو نظرانداز نہیں کرناچاہیے۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ