جب منصوبہ مکمل ہی نہیں ہوا تو  تحقیقات کس بات کی؟پہلے اُسے مکمل ہونے دیں بعد میں تحقیقات بھی کر لیں: شوکت یوسف زئی 

جب منصوبہ مکمل ہی نہیں ہوا تو  تحقیقات کس بات کی؟پہلے اُسے مکمل ہونے دیں بعد ...
جب منصوبہ مکمل ہی نہیں ہوا تو  تحقیقات کس بات کی؟پہلے اُسے مکمل ہونے دیں بعد میں تحقیقات بھی کر لیں: شوکت یوسف زئی 

  



پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسف زئی نے کہا کہ بی آر ٹی منصوبے پر ایکشن کا اختیار ہائی کورٹ کو نہیں ہے، اس پر ایکشن صرف سپریم کورٹ لے سکتا ہے،منصوبے میں تاخیر کی وجہ سے عوام کو تکلیف ہو رہی ہے،اس لئے چاہتے ہیں یہ منصوبہ جلد مکمل ہو جائے،جب ایک منصوبہ مکمل ہی نہیں ہوا تو اس پر تحقیقات کس بات کی؟پہلے اسے مکمل ہو جانے دیں بعد میں تحقیقات کر لیں۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسف زئی نے کہا کہ بی آر ٹی منصوبے سے متعلق ہم سپریم کورٹ میں جائیں گے، اس پر ایکشن کا اختیار ہائی کورٹ کو نہیں ہے، اگر ایکشن لینا ہے تو وہ صرف سپریم کورٹ لے سکتا ہے، ہم جانتے ہیں کہ منصوبے کی تاخیر کی وجہ سے عوام کو تکلیف ہو رہی ہے،اس لئے چاہتے ہیں کہ یہ منصوبہ جلد مکمل ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے کورٹ کا آرڈر تھا کہ پہلے منصوبہ مکمل کیا جائے پھر تحقیقات کی جائیں جب ایک منصوبہ مکمل ہی نہیں ہوا تو اس پر تحقیقات کس بات کی؟ پہلے اسے مکمل ہو جانے دیں بعد میں تحقیقات کر لیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز پشاور ہائیکورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کیا تھا جس میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی(ایف آئی اے) کو 45 روز کے اندر انکوائری مکمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔فیصلے میں کہا گیا تھا کہ تحریک انصاف حکومت نے کسی وژن اور منصوبہ بندی کے بغیر منصوبہ شروع کیا، منصوبے نے 6 ماہ میں مکمل ہونا تھا جبکہ سیاسی اعلانات کے باعث منصوبہ کئی نقائص کا باعث بنا، تاخیر کا شکار ہوا اور لاگت بھی بڑھی تاہم اب خیبرپختونخوا حکومت نے پشاور ہائیکورٹ کا حکم سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے ایڈووکیٹ جنرل کے پی شمائل بٹ کا کہنا ہے کہ بی آر ٹی صوبے کا انتظامی معاملہ ہے، اس حوالے سے ہائی کورٹ کے پاس آئینی اختیار نہیں،سپریم کورٹ نیب کو تحقیقات سے روک چکا ہے، اس کیس کو دوبارہ نہیں کھولا جاسکتا، آئندہ ہفتے سپریم کورٹ میں درخواست جمع کرائیں گے جس میں ایف آئی اے کو تحقیقات سے روکنے کی درخواست کی جائے گی۔

مزید : علاقائی /خیبرپختون خواہ /پشاور