فیض:آج تم یاد بے حساب آئے (3)

فیض:آج تم یاد بے حساب آئے (3)
فیض:آج تم یاد بے حساب آئے (3)

  

گورڈن کالج کے ادب نواز پرنسپل خواجہ مسعود کے توسط سے ہونے والی ملاقات کے تیسر ے ہی دن جناب فیض احمد فیض نے ’لوحِ سفال‘  کے فلیپ کے لئے دو چھوٹے چھوٹے پیرا گراف لکھ بھیجے۔ آغاز ملاحظہ ہو:”یہ مجموعہ نوجوان ذہنوں کی معصومیت، تازگی، خلوص  اور حسن ِ تخیل کا بہت اچھا نمونہ ہے۔ اِس میں روایت اور تقلید کے بجائے جدت اور اختراع کا عنصر غالب ہے۔“ یہ سطریں پڑھ کر خوشی سے دماغ گھوم گیا  اور دل ہی دل میں اپنی عظمت کا کچھ ایسا نقش ابھرا کہ اگلا ہی جملہ، جس میں فیض صاحب نے  ہم تینوں کی کتاب کے بارے میں ’ایک گونہ مسرت‘ کا اظہار کیا تھا، مجھے ذرا اچھا نہ لگا۔ 

مَیں نے سوچا کہ ”لوحِ سفال کے مطالعہ سے  مجھے مسرت حاصل ہوئی ہے“، بس اتنا ہی ٹھیک رہے گا، بیچ میں سے ’ایک گونہ‘ کو حرفِ  غلط کی طرح کاٹ دیا جائے۔ میرے ساتھی امانت ندیم اور زمان ملک اِس انقلابی فیصلے پر یہی کہتے رہ گئے کہ کیا کر رہے ہو، کیا کر رہے ہو …… اؤے کوئی چھوٹا موٹا آدمی نہیں، فیض صاحب ہیں، فیض صاحب…… مَیں نے اُن کے اعتراض کی سرے سے کوئی پرواہ نہ کی، بلکہ اُن کی توقع کے بالکل بر عکس  حکمیہ انداز میں کہا: ”فیض صاحب ہوں گے اپنے گھر ، ہم تو اُنہیں ایڈٹ کر کے چھاپیں گے“۔ یہ کہہ کر قلم اٹھایا اور ’ضروری ترمیم‘ کر دی۔ چنانچہ اب ’ایک گونہ مسرت‘ کی بجائے تبدیل شدہ غیر مشروط جملہ یوں تھا: ”مجھے اِس کتاب کے مطالعہ سے مسرت حاصل ہوئی“۔

اب کوئی پوچھے کہ یہ کیا حرکت تھی جس نے مفہوم کو یکسر بدل کے رکھ دیا۔ آج، تین برس کم، نصف صدی گزر جانے پر بھی مَیں اِس  واردات کا منطقی جواز پیش کرنے سے قاصر ہوں۔ سوائے اِس کے کہ ادب میں باسٹھ سالہ جرنیل کے مقابلے میں بیس برس کا نیا کمیشن یافتہ نیم لفٹین کہیِں بڑا افسر ہوتا ہے۔ چند روز میں اسلم کمال صاحب کے ڈیزاءئن کردہ رنگین  ٹائٹل کے ساتھ ہمارا طبع شدہ شعری مجموعہ جانے پہچانے محقق اور اُس زمانے میں فیض احمد فیض کے ذاتی معاون احمد سلیم کے ڈریعہ جناب ِ فیض کی خدمت میں پہنچ گیا۔ مَیں یہ ماننے کے لئے ہرگز تیار نہیں کہ اُنہیں ہماری ہیرا پھیری کی درک نہ ہوئی ہو۔ بس ہمیں اُس وقت اپنی نوخیز ٹرن آؤٹ فیض صاحب کی جرنیلی وردی سے زیادہ لشکارے مارتی دکھائی دے رہی تھی۔ یہ سمجھ بہت بعد میں پیدا ہوئی کہ منجھے ہوئے کماندار بظاہر پسپائی اختیار کر کے قلب و ذہن کے محاذ پر  انسانی رشتوں کے میدان تسخیر کر لیا کرتے ہیں۔

اعانت ِ جرم میں بالواسطہ شر یک میرے دونوں ساتھیوں میں سے اول الذکر، جو ہمارا پبلشر بھی تھا، اب اِس دنیا میں نہیں۔ میری دانست میں اُس نے راولپنڈی اور اسلام آباد میں کتابوں کی تقسیم و اشاعت کی ابتدا خالد شریف صاحب کے تعاون سے کی تھی،جنہوں نے بعدازاں اشاعتی ادارے ’ماورا‘ کے سربراہ  کے طور پہ نام کمایا۔ ہمارا دوسرا  دودھ شریک مصنف زمان ملک سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی سے منسلک رہتے ہوئے بھی  تاحال تخلیقی کاوشوں سے باز نہیں آیا۔ سچ کہوں تو  زمان کے تازہ کلام پر اُس کی  شناخت کی مہر ساعت بساعت اَور گہری ہوتی جا رہی ہے۔ خود میرا مقبول شعرا میں شمار ہونے کا ابتدائی خواب اُسی طرح نا آسودہ رہا  جیسے نو عمر فیض احمد فیض کی یہ خواہش کہ ایک روز وہ بہت بڑے کرکٹر بن جائیں گے ۔  بعد میں بھی موجودہ عہد کے صاحب ِ طرز نظم گو اور  گورڈن کالج کے اساتذہ میں میرے سینئر ساتھی آفتاب اقبال شمیم کی بدولت  مجھے ہر ندامت سے بے نیاز ہو کر فیض کی محفلوں میں بیٹھنے اور اپنے شعر سنانے کا موقع  ملتا رہا۔ ایک بار تو آفتاب صاحب کی فرمائش پر فیض نے مجھ سے خود اپنا کلام یہ کہہ کر سنا کہ ”ہاں بھئی، ہمارا ہی سنا دو، کچھ تو تحریک ملے“۔ اُس سہ پہر مَیں نے  ’چہچہاہٹ‘ کے زعم میں درجنوں لوگوں کی موجودگی میں تلفظ  کی ایک بھر پور غلطی بھی کی تھی، لیکن جرنیل نے پھر لفٹین کی سُنی ان سُنی کر دی۔  

’لوحِ سفال‘ کی اشاعت سے لے کر ’ہم دیکھیں گے‘ کی سوگ میں ڈوبی ہوئی لَے تک ساڑھے پانچ سال کا وقفہ ہے۔ فیض  کی اِس نظم کو بھرپور عوامی قبولیت کا درجہ بعد میں ملا۔ لیکن مَیں نے صبحِ انقلاب اور یومِ حشر کو علامتی سطح پہ یکجا کر دینے والا یہ الوہی ترانہ سب سے پہلے پاک ٹی ہاؤس لاہور میں یوم مئی کی اُس صبح  سُنا جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر چڑھے ابھی ستائیس دن ہوئے تھے۔پروفیسر امین مغل نے تقریر کی اور حبیب جالب نے تازہ کلام سنایا۔ چھوٹا سا مجمع تھا جو شدتِ غم سے بے بسی کی تصویر بنا رہا۔ اقبال بانو کے لئے یہ دھُن اسلامیہ کالج کے شعبہئ فزکس والے اسرار احمد نے بنائی۔ اسرار احمد بہت مہذب اور کم گو انسان تھے جنہوں نے، آئی اے رحمان کے الفاظ میں،اپنی تخلیقی صلاحیت کو بکاؤ مال سمجھ کر منڈی کی طاقتوں کے حوالے کبھی نہ کیا۔ اُس روز گورنمنٹ کالج (موجودہ جی سی یو) کے ضیا الدین ڈار، قیصر ذولفقار بھٹی، انتظار مہدی، طاہر یوسف بخاری اور مَیں ایک ہی قطار میں بیٹھے تھے۔ ہمارا شعوری روایتی جیالوں سے پختہ تر سہی، لیکن لمحے بھر کو ہمیں یوں لگا تھا کہ بھٹو کے چلے جانے پر فیض احمد فیض ہمارے قافلہئ  درد کے سالار بن گئے ہیں۔ (جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -