فیصل آباد میں با اثر خاندان نےکمسن گھریلو ملازمہ پر تشدد کیوں کیا؟ اینکر پرسن مہرین سبطین نے اندرونی کہانی بتا دی

فیصل آباد میں با اثر خاندان نےکمسن گھریلو ملازمہ پر تشدد کیوں کیا؟ اینکر ...
فیصل آباد میں با اثر خاندان نےکمسن گھریلو ملازمہ پر تشدد کیوں کیا؟ اینکر پرسن مہرین سبطین نے اندرونی کہانی بتا دی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) اینکر پرسن مہرین سبطین نے بتا یا ہے کہ فیصل آباد میں گھریلو ملازمہ پر تشدد کرنے والا شخص ضمانت پر رہا ہوگیا ہے، اس کے گھر کی کسی بھی خاتون کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔

اینکر پرسن مہرین سبطین نے فیصل آباد میں ہونے گھریلو ملازمہ پر تشدد کی اندرونی کہانی بتاتے ہوئے کہا کہ کہ فیصل آباد کی ایڈن ویلی میں ایک منیر نامی شخص اوراس کی بیوی نے ہمسائے کے گھر میں کام کرنے والی ایک 12سالہ بچی کو گارڈز کے ہمراہ سرعام سڑک پر تشدد کیا۔ پہلے منیر نامی شخص نے اس کو تھپڑ مارے، پھر اس کی بیوی نے اس کو بالوں سے پکڑ کر سڑک پر گھسیٹا اس کے بچوں نے بھی مارا لیکن سڑک پر گزرنے والے کسی بھی شخص نے انہیں نہیں روکا جو کہ افسوس ناک تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بچی کا قصور صرف اتنا تھا کہ بچی منیر نامی شخص کے ہمسائے کے گھر میں ملازمہ تھی جس نے اس کے نواسوں کو مور کو پتھر مارنے سے روکا اور اس درمیان بچوں کی ہاتھا پائی ہوئی جس کی وجہ سے اس معصوم بچی (ملازمہ ) پر اتنا تشدد کیا گیا۔ 

اینکر پرسن مہرین نے دعوی کیا ہے کہ باثرشخص منیر جو ایڈن ویلی کے مالک کے ساتھ کام کرتا ہے تو اس لیے اس کو گرفتار کیا اور پھر دوسرے دن ضمانت پر رہائی مل گئی۔ اس کے گھر کی کسی بھی خاتون کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ملازمہ  بچی کو جب تھانے لایا گیا تو وہ بہت زیادہ ڈری اور سہمی ہوئی تھی جس کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بچی نے کہا ہماری صلح ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ منیر کی بیٹی نے ایک ٹی وی چینل کو موقف دینے کے لیے پراسرار جگہ سے کال کی تو اس نے کہا کہ یہ موٹی سی لڑکی (ملازمہ بچی) میرے بچوں کے اوپر بیٹھی تھی جب میں چھڑانے گئی تو اس نے میرے بھی بال کھینچے۔مہرین سبطین کا کہنا تھا کہ اگر پولیس سنجیدہ تھی تو اس کی کال کیوں ٹریس نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ایسے ملزمان کو سزا ملنی چاہیے کیونکہ اگر یہ ان کو سزا نہ ملی تو یہ واقعہ بھی پرانے واقعات کی طرح دب جائے گا جیسے زہرہ شاہ نامی ملازمہ  جس کو جج اور اس کی بیوی نے تشدد کرکے مار دیا تھا، جس طرح عظمی نامی بچی ملازمہ کو کرنٹ لگا کر قتل کیا گیا تھا۔

۔۔۔۔ویڈیو دیکھیں۔۔۔