ممتاز فنکاروں کے پراسرار قتل اور  دھمکیوں کے خوف سے شوبز کی اہم شخصیات بیرون ملک منتقل

ممتاز فنکاروں کے پراسرار قتل اور  دھمکیوں کے خوف سے شوبز کی اہم شخصیات ...

  

پاکستان میں ڈر اور خوف کی وجہ سے بہت سے فنکاروں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں۔ان میں سے بہت سے فنکار اپنی جان کے ڈر سے بیرون ممالک جانے پر مجبور ہوگئے۔ اداکارہ زارا اکبر،مشرف بٹ المعروف کومل ناز،رخسانہ لودھی اور بہت سے دیگر فنکار بیرون ملک مقیم ہیں۔مشرف بٹ کینیڈا،زارا اکبر اور رخسانہ لودھی لندن میں ہیں۔یہ فنکار کئی سالوں سے پاکستان نہیں آئے ہیں۔شوبز انڈسٹری میں لاتعداد اداکار قتل ہوچکے ہیں شوبز انڈسٹری میں گزشتہ دو تین سالوں کے دوران وقفے وقفے سے کئی اداکارائیں اور ماڈلز جان کی بازی ہار گئیں۔ قسمت بیگ،قندیل بلوچ،علیشاہ عرف روپ چوہدری اور آرزو خان بھی چند سالوں میں قتل ہونے والوں میں شامل ہیں جبکہ ماضی میں جن فنکاراؤں کو قتل کیا گیا ان میں نگو،یاسمین خان، نیناں،ماروی،غزالہ جاوید اورنادرہ کے نام نمایاں ہیں۔ علیشاہ عرف روپ چوہدری کو سٹیج پر پرفارم کرتے ہوئے اس کے شوہر نے گولیاں مار کر موت کے گھاٹ اتارا جبکہ آرزو خان نامعلوم افراد کی گولی کا شکار بنیں۔اس بات میں کوئی دورائے نہیں کہ پاکستان میں شوبز سے وابستہ کئی ہائی پروفائل شخصیات قتل ہوچکی ہیں جن میں سے اکثریت کے قتل کامعمّہ آج تک حل نہیں ہوسکا اورنہ ہی ان کے قاتلوں کا شاید کبھی کسی کو علم ہوسکے۔اب ماہ نوراور شیزہ بٹ کو بھی نامعلوم افراد کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ شوبز شخصیات کا کہنا ہے کہ جلدی جلدی شہرت اور دولت حاصل کرنے کی لالچ میں یہ لڑکیاں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں کسی کے مرنے کے بعد بھی کبھی کوئی سبق حاصل نہیں کرتی۔ یاد رہے کہ چند ہفتے قبل قتل ہونے والی ماڈل نایاب کے کیس کی گتھی مزید الجھ گئی ہے اور اس کے قتل کیس میں تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔پولیس کو مقتولہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ مل گئی ہے جس میں قتل کی وجہ کا تعین نہیں کیا جا سکا۔پوسٹ مارٹم رپورٹ میں مقتولہ سے زیادتی بھی ثابت نہیں ہوئی ہے۔ جب کہ اس کے گلے پر تشدد کے نشانات پائے گئے تھے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتولہ کے منہ میں خون جمع تھا، موت سے پہلے قے کے شواہد بھی ملے۔اس واقعے میں تاحال کوئی ملزم گرفتار نہیں کیا جا سکا۔پولیس کے مطابق ماڈل قتل کی رات اپنے دوستوں کے ساتھ دعوت پر گئی اور پارٹی میں مقتولہ ماڈل کا کچھ دوستوں سے جھگڑا ہوا تھا۔ماڈل نایاب فارم ہاؤس سے واپس گھر آئی اور بھائی کو فون کیا جبکہ اسی رات ماڈل کا سوتیلا بھائی اس سے ملنے بھی آیاتھا۔ نایاب جن سے جن دوستوں کا جھگڑا ہوا ان کو بھی تفتیش میں شامل کر لیا گیا تھا۔ علاوہ ازیں تھانہ ڈیفنس بی انویسٹی گیشن پولیس نے ڈیفنس بی کے علاقے میں واقعہ ایک گھر سے مردہ حالت میں پائی جانے والی ماڈل نایاب کے قتل کی تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کردیا ہے۔ پولیس کے مطابق ماڈل نایاب کو گلا دبا کر قتل کیا گیا تھا جبکہ قتل کی واردات میں ملوث نامعلوم ملزم گھر کے عقبی راستے سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ پولیس کے مطابق نامعلوم ملزم نے ماڈل نایاب کو قتل کرنے کے بعد اس کو برہنہ حالت میں اس لئے چھوڑ دیا تاکہ مقدمے کی تفتیش کا رخ تبدیل کر سکے پولیس کے مطابق ماڈل نایاب کے ساتھ بداخلاقی کے شواہد نہیں ملے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مقتولہ نایاب چند روز قبل دبئی سے لاہور پہنچی تھی۔ پولیس کے مطابق نامعلوم ملزم مقتولہ نایاب کا موبائل فون بھی ساتھ لے گیا ہے تاہم پولیس نے مقتولہ کے موبائل فون کا ڈیٹا نکلوا کر اس کے قریبی دوستوں کو شامل تفتیش کرلیا ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ مقتولہ کا پوسٹ مارٹم 40 سے 48 گھنٹے بعد کیا گیا موت کی حتمی وجہ کا تعین فرانزک ایجنسی کی رپورٹ میں کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل کراچی میں چھری مار کارروائیاں، شوبز انڈسٹری کی ماڈلز اور فنکاراؤں کو بھی پریشانی لاحق ہوگئی اور انہوں نے بلاضرورت گھروں سے باہر نکلنا بند کردیا، شوٹنگ پر آنے جانے کے لئے بھی رکشہ ٹیکسی کے بجائے پروڈکشن ہاؤس کی گاڑیوں میں جانے کو ترجیح دینا شروع کردی تھی، کئی فنکاراؤں کے گھر والے گاڑیوں میں ان کو سیٹ پر چھوڑنے اور لینے جانے لگے تھے۔اس حوالے سے یہ بھی اطلاعات تھیں کہ شوبز ماڈلز اور فنکاراؤ ں نے شاپنگ کرنا بھی محدود کردی تھی۔اداکاراؤں و ماڈلز نے شوٹنگ کے علاوہ گھر سے باہر نکلنے کیلئے برقع یا عبایاکا استعمال شروع کردیا تھا۔ دوسری طرف راتوں کو کراچی کے پوش ایریا میں رات گئے تک ہوٹلز میں بیٹھنے والی فنکاراؤں کی ٹولیوں نے بھی اپنی بیٹھک بند کردی تھی جبکہ خواتین فنکارائیں تو شام ڈھلتے ہی گھر جانے کو ترجیح دینے لگی تھیں۔

٭٭٭

کئی اہم واقعات کا سراغ نہ ملنا لمحہ ئ فکریہ، انڈسٹری پر خوف کے سائے

 گزشتہ دو تین سالوں کے دوران کئی اداکارائیں اور ماڈلز جان کی بازی ہار گئیں 

مزید :

ایڈیشن 1 -