ہمارے معاشرے کے ٹائم بم

ہمارے معاشرے کے ٹائم بم

  

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے سانحہئ سیالکوٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے واقعات صرف48گھنٹے ہمیں تکلیف دیتے ہیں،پھر سب نارمل  ہو جاتا ہے، اور تب تک احساس دفن رہتا ہے جب تک اگلا واقعہ نہ ہو۔یہ بے حسی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے،ہمارے سامنے کئی ملکوں میں خون کے دریا بہہ گئے۔ہم نے معاشرے میں ٹائم بم لگا رکھے ہیں،ان کو  ناکارہ نہ کیا گیا تو یہ(اپنے اپنے وقت پر) پھٹیں گے نہیں تو  اور کیا کریں گے؟انہوں نے اپنے ٹویٹر پیغام میں متنبہ کیا کہ وقت ریت کی طرح ہاتھ سے نکل رہا ہے،توجہ چاہیے بہت توجہ۔ جناب فواد چودھری کی سیاست کچھ بھی ہو، اور اس کے تقاضے جو بھی ہوں، ان کا شمار ان پاکستانی سیاست دانوں میں ہوتا ہے، جو اپنے دِل کی بات زبان پر لا گذرتے ہیں،اور بعض اوقات نفع نقصان سے بھی بے نیاز نظر آتے ہیں۔انہوں نے  وقتاً فوقتاً قانون شکنی کے مرتکب افراد اور جتھوں کی سرزنش کی ہے،اور ان سے معاملہ سازی میں ریاستی ڈھیلے پن کی نشاندہی سے بھی گریز نہیں کیا۔اس وجہ سے ان سے اختلاف کرنے والے بھی انہیں نظر انداز نہیں کر پاتے۔غیر حکومتی سماجی حلقوں میں بھی انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔سانحہئ سیالکوٹ کی جو تفصیلات بھی سامنے آ رہی ہیں، وہ قومی شرمندگی کا باعث بن رہی ہیں۔ آنجہانی فیکٹری منیجر کو ان کی اپنی ہی فیکٹری میں کام کرنے والوں نے جس بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا، پوسٹ مارٹم رپورٹ نے اس کی تفصیل بیان کر دی ہے۔ اس کے مطابق پریانتھا کمارا کا جسد ِ خاکی99فیصد جل چکا تھا، صرف پاؤں اور ٹانگوں کا زیریں حصہ آگ سے بچ پایا تھا۔ آگ سے بچ جانے والے حصے کی بھی تمام ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔موت سر اور جبڑے کی ہڈیاں ٹوٹنے کی وجہ سے واقع ہوئی۔آنجہانی جان بچانے کے لیے چھت کی طرف دوڑا لیکن وہاں بھی پیچھا کرنے والے پہنچ گئے۔بپھرے ہوئے مجمع میں صرف دو افراد ایسے تھے، جنہوں نے مرنے والے کو بچانے کی کوشش کی،اور لوگوں کے آگے ہاتھ جوڑتے رہے کہ وہ تشدد سے باز آئیں،لیکن کسی نے ان کی ایک نہ سکی۔یہ دونوں افراد جن کی نشاندہی سی سی ٹی وی  فوٹیج اور موبائل کیمروں کی مدد سے ہوئی ہے، اس بات کے مستحق ہیں کہ انہیں قومی ہیرو قرار دیا جائے، سرکاری اور عوامی سطح پر ان کی پذیرائی کی جائے۔ حکومتی عہدیدار اور سیاسی سماجی حلقے انہیں خراجِ تحسین پیش کریں،اور اعلیٰ انسانیت کے نمونے کے طور پر ان کا نام اور کام محفوظ کیا جائے کہ جہاں ارتکاب جرم کرنے والوں کو  سزائیں دینا ضروری ہے،وہاں انسانیت کے تحفظ کے لیے آگے بڑھنے اور اپنی جانیں خطرے میں ڈالنے والوں کی حوصلہ افزائی بھی ضروری ہے۔ آئندہ اگر کہیں کوئی ایسا بے لگام عنصر دیکھنے میں آئے تو عوامی ردعمل اس کا منہ موڑ دے،اسے قانون ہاتھ میں لینے کا حوصلہ نہ ہونے پائے۔جناب فواد چودھری پر لازم ہے کہ مذکورہ بالا دونوں شہریوں کو آگے بڑھ کر انعام و اکرام سے نوازیں۔

 سانحہئ سیالکوٹ پر سری لنکا کے صدر نے صدمے کی جس کیفیت کا اظہار کیا ہے،اس میں پاکستانی قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے ان سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے شرمندگی کا جو اظہار کیا،اس میں پوری قوم کے جذبات شامل تھے۔پاکستانی سیاست دانوں اور مذہبی رہنماؤں نے بیک زبان اس سانحے کی شدید مذمت کی ہے۔ممتاز ترین علمائے دین، مولانا مفتی تقی عثمانی اور مولانا مفتی منیب الرحمن نے دو ٹوک انداز میں یہ بات کہی ہے کہ پاکستان کے نظامِ عدل اور قانون کی موجودگی میں کسی شخص کو کسی بھی بات یا الزام کو جواز بنا کر اپنی عدالت لگانے کا حق نہیں ہے۔اس سے معاشرہ افراتفری کا شکار ہو جائے گا،جس کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی۔آنجہانی کی بیوہ نے وزیراعظم پاکستان سے انصاف کا تقاضہ کیا ہے، وہ اور ان کے دو بچے اپنے معصوم سربراہِ خاندان کے قاتلوں کو کڑی سزا ملنے کی توقع لگائے ہوئے ہیں۔امید کی جانی چاہیے کہ پاکستان کا نظامِ انصاف ان کی توقع پر پورا اترے گا،اور جس جس نے اس قبیح جرم میں جس جس قدر حصہ ڈالا ہے،اس کے مطابق سزا پائے گا۔پولیس نے 900سے زائد افراد کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات قائم کیے ہیں،مرکزی ملزمان سمیت 120 لوگوں کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔اب تک کی تفتیش سے یہی واضح ہوا ہے کہ آنجہانی نے کسی توہین کا کوئی ارتکاب نہیں کیا، صرف صفائی کی غرض سے دیواروں پر لگے پوسٹر اتروائے تھے،اس پر ناراضگی کا اظہار کرنے والوں سے بعدازاں معذرت بھی کر لی تھی۔ پولیس ذرائع کے مطابق مقتول فیکٹری کا پیداواری نظام سنبھالے ہوئے تھا۔گذشتہ کئی سال سے دیانتداری اور فرض شناسی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہا تھا۔اس کی شہرت اچھی تھی،اور نظم و ضبط قائم رکھنے کی وجہ سے اس سے شکایات پیدا ہوتی رہتی تھیں۔

حکومت ِ پاکستان پر لازم ہے کہ آنجہانی منیجر کی بیوہ اور بچوں کے ساتھ مثالی حسن ِ سلوک کرے،اور ان کی دلجوئی کے لیے دِل کھول کر ان کی مدد کرے۔فیکٹری مالکان کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اس خدمت گذار کی خدمات کا اعتراف کریں،اور اُس کے خاندان کی تالیف ِ قلب کا سامان کریں۔سری لنکا کے عوام کو یہ پیغام ملنا چاہیے کہ پاکستانی قوم نہ صرف ذمہ داران کو سزا دِلانے کے لیے پُرعزم ہے،بلکہ مصیبت زدگان کو سائبان فراہم کرنا بھی اپنی اولین ذمہ داری سمجھتی ہے۔ابتدائی سطور میں جناب فواد چودھری کے جن الفاظ کی طرف توجہ مرکوز کرائی گئی تھی، ان کا بھی تقاضہ ہے کہ اس طرح کی وارداتوں کو روکنے کے لیے سیاسی اور سماجی رہنما مل بیٹھیں،ہمارے اندر نصب کیے جانے والے ٹائم بموں کو  ڈی فیوز کریں،اگر ان کو پھٹنے کے لیے آزاد چھوڑے رکھا گیا تو پھر بعداز مرگ واویلے سے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -