چینی چوروں کی کہانی اور حالات 

چینی چوروں کی کہانی اور حالات 
چینی چوروں کی کہانی اور حالات 

  

مجھے آج 1972ء کا ایک اخبار ملا، اس پر ہیڈ لائن 6 کالم خبر ہے کہ ”چینی چوروں کو نہیں چھوڑا جائے گا ”اور 2021ء کی بھی خبریں چھپ رہی ہیں،چینی چوروں، آٹا چوروں، گھی چوروں کو نہیں چھوڑا جائے گا، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا،ہم عوام اور حکمران کس قدر مستقل مزاج ہیں کہ ستر سال سے ملک نے ترقی کیا کرنی ہے،کھانے پینے کی روز مرہ اشیاء بھی میسر نہیں ہو سکیں یہ دیکھ کر سن کر دکھ ہوتا ہے، افسوس ہوتا ہے کہ جب سے ہوش سنبھالا ہے اور ایک سمجھ دار شہری کی حیثیت سے ملک کے سیاسی اور انتظامی امور کو دیکھا ہے، شروع دن سے تین جملے ہمارے کانوں میں ٹھونس دیئے گئے ہیں جو لگاتار متواتر سن رہے ہیں پہلا جملہ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے، دوسرا جملہ خزانہ خالی ہے اور تیسرا جملہ دورہ کامیاب رہا ہے بلکہ ایک لفظ کا اضافہ کر لیں۔

دورہ انتہائی کامیاب رہا آئی ایم ایف کی تمام شرائط پوری کر دی گئی ہیں آئی ایم ایف اور دوسرے غیر ملکی مالیاتی قرضے دینے والے اداروں کو ہر طرح سے مطمئن کر دیا گیا ہے، وہ بہت جلد پاکستان کے کسی ادارے کو رہن رکھ کر قرضہ دے دیں گے اور ہم سابقہ قرضے کا سود اور حکومتی اداروں کے اخراجات پورے کر سکیں گے۔ ترقیاتی کام کروانے بہت ضروری ہیں، لیکن حکومتی اخراجات بھی بہت ضروری ہیں وغیرہ وغیرہ۔ سمجھ میں نہیں آتا یا کوئی حکمران نہیں بتاتا کہ مملکت خداداد پاکستان نازک دور سے کب نکلے گا؟پاکستان کا خزانہ کب بھرے گا؟ وہ کون سا غیر ملکی دورہ ہے جو کامیاب نہیں ہوا؟ صدر مملکت اپنے وفد کے ساتھ وزیر اعظم اپنے وفد کے ساتھ دورے پر جاتے ہیں تو وہ دورہ کامیاب ہوتا ہے۔ سعودی عرب کے ولی عہد حکمران مہربانی فرماتے ہیں،پٹرول ادھار دے دیتے ہیں تو پاکستانی عوام کو اس کا  کیا فائدہ ہوتا ہے، وہ تو عالمی مارکیٹ کے مطابق عوام کو ملتا ہے ٹیکس درٹیکس کے ساتھ۔

 ادھار لے کر کھانے سے گھریلو حالات نہیں بدل سکتے، جب تک کہ گھر کے سارے افراد گھر کو ٹھیک کرنے کا ارادہ نہ کر لیں، تسلیم کرتا ہوں، مان لیتا ہوں عمران خان کرپٹ نہیں ہے، بے ایمان نہیں ہے۔ اپنی اولاد کے لئے قومی خزانے سے کچھ نہیں لے رہا، کک بیک نہیں لے رہا، کمیشن نہیں لے رہا تو پھر کوئی تجزیہ نگار،جس کا خود کا دودھ کا دُھلا ہونا ضروری ہے، معاشیات ماہر بتا سکتا ہے کہ ملک دن بدن ترقی کیوں نہیں کر رہا؟ہمارے سارے حکمران سیاستدان ہاتھ میں ڈگڈگی رکھتے ہیں، اس پر عوام کو نچایا جاتا ہے اور عوام کا برا حال ہو جاتا ہے، جس طرح اب ہے اور ہر جانے والا آنے والے پر اور ہر آنے والا جانے والوں پر الزامات لگا کر بری الذمہ ہو جاتا ہے۔ بابائے قوم حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی رحلت کے ساتھ ہی ملک ظالموں اور بے دردوں کے ہاتھ آ گیا،جو کبھی آمریت کی ٹوپی پہن کر عوام کو لوٹتے رہے اور کبھی جمہوریت کی نام نہاد چھتری تلے عوام کے صبر، برداشت کا امتحان لیتے رہے۔ قوم جاہل ہو تو اسے کوئی بھی سبز باغ دکھا کر آسانی سے لوٹ سکتا ہے اور ہم ٹھہرے قوم، قبیلہ، برادری، خان، چودھری، ملک اور وڈیرہ ازم میں جکڑے ہوئے لوگ۔ کل بھی ہم غاصبوں کے شکنجے میں جکڑے ہوئے تھے، آج بھی لٹیروں کے حصار میں ہیں۔ وزیراعظم عمران خان بھی عوام کی طرح ان سے تنگ اور پریشان ہو گا، لیکن جس طرح عوام بے بس و مجبور ہیں،عمران خان کو بھی ان لوگوں نے خاموش کرا دیا ہے، بے شک وزیراعظم ہے، لیکن حکومت چھوڑ کر بھاگ تو نہیں سکتا، لیکن ایک گروہ پوری کوشش کر رہا ہے کہ اس کو ناکام کر کے بھگا دیا جائے۔ 

پاکستانی عوام نے سابقہ حکمرانوں سے جان چھڑانے کے لئے پی ٹی آئی کے خوبصورت نعروں میں آکر اسے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچا کر سہانے سپنے دیکھنے شروع کر دیئے، لیکن اقتدار سے محروم ہونے والے پرانے گرگوں نے عمران خاں کو شاید چند دن بھی چین اور آرام سے حکومت نہیں کرنے دی، پاکستان میں کسی کے خلاف سکینڈلز تیار کروانا، جھوٹی سچی سی ڈی فلمیں تیار کرانا معمولی بات ہے۔ دوسرے ملکوں نے سائنس کی ترقی کو عوام اور ملکوں کی ترقی کے لئے استعمال کیا، ہم پاکستانیوں نے حکومت کے خلاف اور حکومت والے اپنے مخالفین کے خلاف مختلف پروگرام تیار کرواتے ہیں۔ یہ چوہے بلی کا کھیل 60 سال سے جاری ہے۔ جنرل یحییٰ خاں کے الیکشنوں کے سوا کون سا الیکشن ہوا ہے جس کو صاف شفاف کہا جا سکتا ہے، عمران خاں کی حکومت نے ایک ریکارڈ قائم کیا ہے کہ حکومت میں ہوتے ہوئے پی ٹی آئی حکومت کا امیدوار ہار جاتا ہے، جبکہ سابقہ تمام حکومتوں کا ریکارڈ اخباروں میں محفوظ ہے کہ حکومتی امیدوار ہزاروں کی اکثریت سے ووٹ لے کر کامیاب ہوتے رہے ہیں۔ 1976ء سے میرا سیاسی حالات سے واسطہ ہے، عمران خان کی مشکل یہ ہے کہ اس کے اپنے پی ٹی آئی کے ساتھی تھوڑے ہیں اور وہ بھی مجبور ہو گئے ہیں، باقی معززین نسل در نسل تمام حکومتوں میں شامل رہے ہیں، جبکہ موجودہ حکومت میں شامل چند وزیر مشیر سابقہ حکومتوں کا ذکر کر کے برائیاں، خرابیاں، کمزوریاں ظاہر کرتے ہیں تو تقریباً ان کے ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں یا شامل ہیں ابھی تک سابقہ اور موجودہ وزیروں، مشیروں میں فرق محسوس نہیں ہو سکا۔ منافقت اور جھوٹ کی حد ہے کہ لاکھوں، کروڑوں کا خرچہ کرنے والے لوگ مہنگائی کا رونا روتے ہیں۔ عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں،کروڑوں کی گاڑیوں میں بے شمار گن مینوں، لمبی لمبی بے شمار گاڑیوں میں عوام کے ہمدرد بن کر ملک اور عوام کے خیر خواہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

  بازاروں میں تل دھرنے کی جگہ نہیں۔ سڑکوں پر گاڑیوں، موٹر سائیکلوں کا رش، پارکنگ کے لئے جگہ نہیں ملتی، کسی بھی دکان کسی بھی بازار میں جائیں، آپ کو انتظار کرنا پڑے گا، اگر مہنگائی ہے تو عوام کی قوت خرید بھی ہے۔ 99 فیصد شہریوں ملازمین، بھیک مانگنے والوں، صفائی کرنے والوں، کوڑا کرکٹ اٹھانے والوں کے پاس موبائل فون اور موٹر سائیکلیں ضرور ہیں۔ سڑکوں پر مانگنے والوں نے رکشے رکھے ہوئے ہیں، اگر مہنگائی ہے تو کروڑوں، اربوں روپے قومی خزانے سے لوٹنے والے اپنا سرمایہ واپس لائیں، عوام کی بھلائی کے لئے مہنگائی، مہنگائی کا رونا ملک دشمن بھی پکار رہے ہیں؟ عمران خان کے خلاف دشمن ملک سے بھی آوازیں آ رہی ہیں کہ پاکستان میں مہنگائی بہت ہے۔ یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ حکومت میں شامل کافی بیوروکریٹ سابقہ حکومتوں کے خاص موجودہ حکومت سے تعاون نہیں کر رہے، وہ ڈنگ ٹپاؤ پالیسی اختیار کئے ہوئے ہیں، عوام کے لئے کچھ نہیں کر رہے، ہر وقت میٹنگز، میٹنگز کھیل رہے ہیں، پالیسیاں کیا بنانی ہیں؟ دکاندار، تاجر اپنی اپنی مرضی کے نرخوں پر اشیاء فروخت کر کے مہنگائی کر رہے ہیں، چونکہ کسی کا بھی کنٹرول نہیں، ان منہ زور گھوڑوں کو نکیل ڈالی جائے کہ خودبخود مہنگائی، مہنگائی کا کھیل ختم ہو جائے گا۔ حکومت کے ترجمان اپوزیشن کو جواب دینے میں ناکام ہیں، اپوزیشن کی کامیابی حکومتی ترجمانوں کی ناکامی ہے۔ جن حکومتی ترجمانوں کو 25-30 سال کے حالات کا علمنہیں، وہ اپوزیشن کے سابقہ حکومتی لوگوں کو کیا جواب دے سکتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -