ملتان سے اسلام آباد براستہ لاہور 

ملتان سے اسلام آباد براستہ لاہور 
ملتان سے اسلام آباد براستہ لاہور 

  

پچھلے چار دن سے ہنگامی سفر میں ہوں۔ یہ سطور بھی اسلام آباد سے لکھ رہا ہوں۔ مختصر دورے پر پہلے لاہور جانا ہوا، جہاں بابِ پاکستان فاؤنڈیشن کے بورڈ آف گورنرز کی میٹنگ تھی۔ خیال یہی تھا کہ وقت نکال کر مرشدی جناب مجیب الرحمن شامی کے ہاں حاضری دوں گا۔ تاہم اسلام آباد میں ایک مصروفیت کی وجہ سے جلد لاہور کو چھوڑنا پڑا۔ البتہ شعیب بن عزیز صاحب سے صبح سویرے فون پر بات ہوئی تو انہوں نے حکم دیا میری اجازت کے بغیر آپ لاہور نہیں چھوڑ سکتے۔ جہاں بھی ہیں وہیں ٹھہر جائیں اور میرا انتظار کریں۔ میں اس وقت ہوٹل کی لابی میں چیک آؤٹ  کا انتظار کر رہا تھا۔ خواجہ اقبال جو میرے ساتھ ملتان سے آئے تھے، میرے ساتھ شعیب بن عزیز کے انتظار میں بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر میں وہ پہنچے تو بتایا کہ آنکھیں چیک کرا کے آ رہا ہوں۔ موتیے کا آپریشن تجویز کیا گیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کے بعد آپ کی نگاہیں مزید عقابی ہو جائیں گی۔ انہوں نے حسبِ روایت اس موقع پر تین چار بر محل شعر سنائے اور کہا کبھی لاہور کی نہاری کھائی ہے؟ میں نے ایک دو جگہوں کے نام لئے تو انہوں نے کہا نہیں میں آپ کو آج اس جگہ لے جاتا ہوں جہاں اصل نہاری ملتی ہے اور لاہور کی سوغات سمجھی جاتی ہے۔ سو وہ ہمیں قرطبہ چوک پر لے گئے۔ نہاری کا آرڈر دیتے ہوئے لگ رہا تھا انہیں ایسی چیزیں کھانے کا خاصا تجربہ ہے۔ انہوں نے لاہور کے کھابوں والی جگہیں بھی تلاش کر رکھی ہیں اور پورا لاہور ان کی دسترس میں ہے۔ جناب شعیب بن عزیز سے میں نے کہا اب ضد چھوڑیں اور اپنا شعری مجموعہ لے آئیں۔ کب تک لوگ آپ کی ایک دو غزلوں اور چیدہ چیدہ اشعار پر گزارا کرتے رہیں گے۔

کہنے لگے میں جو کہتا ہوں وہ دوستوں تک پہنچ جاتا ہے کسی محفل کے ذریعے یا پھر فون پر ازارہ تفنن سنا دیتا ہوں کیا یہ کافی نہیں، کتاب چھپوانے کا جھنجھٹ کون پالے۔ میں نے کہا آپ مجھے اپنی شاعری کا مسودہ دیں اور مجھ سے چھپی ہوئی کتاب واپس لیں، سارے مراحل میری نگرانی میں طے ہوں گے پھر ان کی حسِ ظرافت بھڑکی کہنے لگے میری غزل ”اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں“ مجھے رکشہ ویگنوں والوں تک مشہور کر چکی ہے۔ حالانکہ جس زمانے میں یہ لکھی گئی اس میں مخاطب حسینائیں تھیں، کیا اس کے بعد بھی کچھ لکھنے کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے۔ حالانکہ اسی دوران انہوں نے جو تازہ اشعار سنائے وہ اسی شعیب بن عزیز کی شخصیت کا پر تو تھے جو زندگی کو رومان کی نظر سے دیکھتا ہے اور جس کا نظریہ رجائیت ہے۔ ایک طرف نہاری کے مزے اور دوسری طرف شعیب صاحب کی بذلہ سنجی، جملے بازی اور حسِ مزاح نے لاہور کی سرد دوپہر کا مزا دو آتشہ کر دیا۔ ان سے اجازت لے کر ہم موٹر وے کے راستے اسلام آباد کی طرف روانہ ہوئے تو موڈ شاندار تھا۔

لیکن ابھی کچھ ہی دور گئے تھے کہ سوشل میڈیا پر سیالکوٹ کے واقعہ کی تصویریں اور ویڈیو آنے لگیں۔ یک دم جیسے کسی نے خوشی کو غم میں بدل دیا ہو۔ کہاں شعیب بن عزیز کی رجائیت اور انسانیت کی محبت میں ڈوبی ہوئی شاعری اور باتیں، کہاں یہ انسانیت سوز واقعہ، انسانی جسم سے اٹھتے ہوئے شعلے اور درندہ صفت وحشیوں کا رقص، زندگی کی خوبصورتیاں ہم سے کتنی جلد روٹھ جاتی ہیں، ہم کس معاشرے میں رہ رہے ہیں، جہاں لوگ کسی کو زندگی دینے کی بجائے زندگی چھین لینے پر زیادہ فخر کرتے ہیں، پھر میں نے دیکھا کہ سوشل میڈیا اس واقعہ پر عوامی ردعمل سے بھر گیا، اطمینان یہ ہوا کہ سب اس کی مذمت کر رہے تھے کسی تاویل یا دلیل کے بغیر سب اس بات پریک زبان تھے کہ اس کی مذہب اسلام میں اجازت ہے اور نہ انسانیت کے کسی خانے میں اسے درست قرار دیا جا سکتا ہے۔

اسلام آباد پہنچے تو کویت سے آئے ہوئے شاعر اور دانشور محمد انعام مدرگانائیٹ نے اپنے ڈی ایچ اے میں واقع خوبصورت گھر میں ایک محفل سجا رکھی تھی۔ باربی کیو کا اہتمام تھا اور اسلام آباد کی خنک شام میں لذت و کام و دہن کا شاندار انتظام کیا ہوا تھا۔ تاہم اس خوبصورت محفل پر بھی سیالکوٹ کے واقعہ کی اداسی برقرار رہی، سب اس بات پر متفق تھے۔ اس واقعہ نے ہمارے معاشرتی نظام کو ہلاک ر رکھ دیا ہے۔ البتہ اس حوالے سے سب اطمینان کا اظہار کر رہے تھے کہ عوام کے ایک محدود سے ہجوم کی اس درندگی کو پوری قوم نے اتفاقِ رائے سے رد کر دیا ہے۔ کوئی ایک آواز بھی اس کے حق میں نہیں اٹھ رہی اور سب یک زبان ہیں، اسلام کو اس طرح اپنے ذاتی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی کسی کو اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ اسی محفل میں ملک کے معاشی حالات کا ذکر بھی ہوتا رہا۔ ایسے بہت سے احباب موجود تھے جنہوں نے 2018ء کے انتخابات میں تحریک انصاف کو بڑھ چڑھ کر ووٹ ڈالے تھے اور ان کی اکثریت اب اپنے اس فیصلے پر پچھتا رہی تھی۔

عمران خان کو اب بھی اچھا کہنے والے موجود تھے، تاہم ان کی رائے بھی یہی تھی کہ ایک قومی ہیرو ضروری نہیں اچھا حکمران بھی ثابت ہو۔ اس محفل میں اوورسیز پاکستانیوں کی نمائندگی بھی موجود تھی خود محمد انعام مورگانائیٹ 35 سال سے کویت میں رہتے ہیں، ان کا کہنا تھا اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کا فیصلہ ایک خوش آئند امر ہے۔ تاہم انہوں نے اس تاثر سے اتفاق نہیں کیا کہ بیرون ملک رہنے والے پاکستانی ملک کے حالات سے متاثر نہیں ہوتے یا انہیں معاشی حالات کی خبر نہیں ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کوئی بھی بیرون ملک رہنے والا پاکستانی ایسا نہیں جس کے خاندان کی جڑیں اور افراد پاکستان میں موجود نہ ہوں۔ بلاول بھٹو زرداری کا یہ کہنا کہ پیرس میں رہنے والا لیاری کے حالات کو کیسے سمجھ سکتا ہے، ایک دقیانوسی سوچ ہے۔ اکثریت نے اس تاثر کو بھی غلط قرار دیا کہ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں چونکہ اورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ملا ہے تو لازماً وہ ووٹ بھی تحریک انصاف کو دیں گے۔ آج خود اوورسیز پاکستانیوں کے اندر حکومت کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے تشویش پائی جاتی ہے۔

اسلام آباد کلب میں سابق بیورو کریٹس راؤ فرزند علی عادل نے عشایہ دیا تو وہاں مختلف شعبہ ہائے زندگی کے افراد موجود تھے۔ اس سے ایک دن پہلے کراچی سٹاک ایکسچینج کی مارکیٹ بری طرح کریش ہوئی تھی جبکہ تجارتی خسارہ تاریخی سطح بڑھنے کی خبریں بھی زیر گردش تھیں، منی بجٹ کا بھی ذکر ہو رہا تھا، ان سب پہلوؤں پر وہاں گفتگو ہوتی رہی۔ تاہم ایک بات پر تقریباً اتفاق رائے موجود تھا کہ حکومت وقت سے پہلے جانے والی نہیں اور اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔ معاشی حالات کی حد درجہ خرابی کے باوجود سیاسی حالات میں اتنا تناؤ نہیں کہ کسی تبدیلی کا امکان ہو۔ اپوزیشن کی عدم فعالیت اور انتشار کا بھی ذکر ہوا لاہور کے صرف ایک حلقے میں انتخاب نے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو جس طرح ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ تحریک انصاف کو متحدہ اپوزیشن کی طرف سے کوئی بڑا خطرہ درپیش نہیں بعض شرکاء کا خیال تھا مقتدر طبقے بیک ڈور چینل سے نوازشریف کے ساتھ رابطے میں ہیں اور مستقبل قریب میں سیاسی حالات تبدیل ہو سکتے ہیں۔ تاہم بہت سوں نے اسے خارج از امکان قرار دیا۔ بہرحال اسلام آباد کی فضا میں ایک بے یقینی موجود ہے۔ شہر اقتدار کی یہ وہ صفت ہے جوہمیشہ اس کی فضاؤں کا احاطہ کئے رکھتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -