سری لنکن شہری کے بچانے کی کوشش کرنیوالے، عدنان ملک کو قوم کا سلام، تمغہ شجاعت کا اعلان، پریانتھا کمارا کی لاش آج کولمبو روانہ کی جائیگی

    سری لنکن شہری کے بچانے کی کوشش کرنیوالے، عدنان ملک کو قوم کا سلام، تمغہ ...

  

          سیالکوٹ،اسلام آباد،لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)سانحہ سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں ہلاک ہونیوالے سری لنکن شہری پریانتھا کما راکی لاش کوآج پیر کے روز خصوصی پرواز کے ذریعے سری لنکا روانہ کیا جائیگا۔لاش کو سری لنکن قونصلیٹ کے حکام اپنے ملک لے کر جائیں گے۔سری لنکن شہری کی لاش کو ہفتہ کے روز انتہائی سخت سکیورٹی میں سیالکوٹ سے لاہور منتقل کیا گیا تھا۔سری لنکا کی وزارت خا ر جہ کے ترجمان سوگیشوارا گنرتنے نے کہاکولمبو میں پاکستانی ہائی کمیشن کی مدد سے پریانتھا کمارا کی میت لانے کے انتظامات مکمل کر لیے گئے  ہیں،کولمبو ایئرپورٹ پر مرنے والے کے قریبی رشتہ دار میت وصول کر یں گے، کمارا کے خاندان والے میت لینے پاکستان نہیں جائیں گے، میت آج خصوصی طیارے کے ذریعے لاہور سے لائی جائے گی،دوسری طرف پولیس نے سانحہ سیالکوٹ میں ملوث مزید چھ مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ ملزمان کو ویڈیو فوٹیج میں غیر ملکی شہری پر تشدد کرتے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ ملزمان اپنے دوستوں اور رشتے داروں کے گھروں میں گرفتاری کے ڈر سے چھپے ہوئے تھے۔پولیس کے مطابق اب تک 124 زیرحراست افراد میں سے 19 ملزمان کا مرکزی کرادر سامنے آیا ہے۔ زیر حراست افراد میں سے اشتعال پھیلانے اور تشدد میں ملوث افراد کی نشاندہی کرنے کا عمل جاری ہے جبکہ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اور آئی جی پنجاب تحقیقات کے سارے عمل کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔سانحہ سیالکوٹ کے 13 مرکزی ملزمان کو فوجداری عدالت کے جج ظریف احمد کے سامنے پیش کیا گیا، پولیس کی درخواست پر عدالت نے ایک روزہ راہداری ریمانڈ ریمانڈ دیدیا۔جن ملزمان پر 3 دسمبر کو سری لنکن شہری کو بہیمانہ تشدد کر کے قتل کرنے میں مرکزی کردار ادا کرنے کے الزامات ہیں، ان میں فرحان ادریس، صبوربٹ، طلحہ، عبدالرحمٰن، عمران، تیمور، شعیب، راحیل، عثمان، شاہزیب احمد، ناصر،احتشام اور جنید شامل ہیں منیجر کے بہیمانہ قتل کے کیس میں سیالکوٹ کی گارمنٹس فیکٹری کے تقریباً 3 ہزار ورکرز گرفتاری سے بچنے کیلئے مفرور ہیں جنہیں شاید ملازمتوں سے فارغ کردیا جائیگا جبکہ فیکٹری بھی بند ہے اور پیداوار دوبارہ شروع کرنے کیلئے وقت کا تعین نہیں کیا جاسکا۔فیکٹری مالک کے قریبی ذرائع نے ڈان کو بتایا اعجاز بھٹی واقعے کے وقت جرمنی میں موجود تھے، جنہوں نے ہفتے کے روز وطن واپس آکر ضلعی پولیس افسران اور متعلقہ حکام سے ملاقات کی اور وقوعہ پر تبادلہ خیال کیا۔گرفتار ہونیوالے اور فرار ہونیوالوں کو اہلِ خانہ کو پہنچنے والی مالی مشکلات کی صور ت میں ایک اور اذیت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ایک پولیس اہلکار نے بتایا فیکٹری میں ہر جگہ کلوز سرکٹ ٹیلی ویڑن کیمرے نصب ہیں جن کی فوٹیج سے تفتیش کاروں کو اصل مجرموں کی شناخت میں مدد مل سکتی ہے۔چینی گارمنٹ انڈسٹری سے مسابقت رکھنے والی جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے پر سیالکوٹ میں گارمنٹ یونٹ خاصی اہمیت کا حامل ہے جو ہوگو باس سمیت دنیا بھر کے 35 بڑے برانڈز کیلئے گارمنٹس تیار کرتے ہیں۔فیکٹری کی ملکیتی لیبر کالونی میں فیصل آباد، ملتان، سرگودھا، وہاڑی اور دیگر شہروں سے تعلق رکھنے والے 500 کے قریب مزدور مقیم ہیں جہاں ایک ہسپتال انہیں مفت علاج، مفت کھانا اور مفت ٹرانسپورٹ فراہم کر رہا ہے دوسری طرف سیالکوٹ گارمنٹ فیکٹری عہدیدار ملک عدنان کی جانب سے پریانتھا کمار پر تشدد سے روکنے کی کوشش کی ایک اور وڈیو منظر عام پر آ گئی۔ویڈیو میں ملک عدنان کو کہتے سنا جاسکتا ہے کہ پریانتھا غیر مسلم ہے اسے نہیں معلوم کہ پیپر پر کیا لکھا ہے۔ساتھ ہی فیکٹری عہدیدار نے ورکرز کو سمجھاتے ہوئے کہا گارنٹی دیتا ہوں پریانتھا کمار کو فیکٹری سے نکال دیں گے اور ایف آئی آر بھی درج کروائیں گے۔تاہم ملک عدنان کے سمجھانے کے باوجود مشتعل افراد نعرے لگاتے رہے اور ہجوم کے آگے ملک عدنان بے بسی کی تصویر بنا رہا۔وزیراعظم عمران خان نے سیالکوٹ واقعے میں سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کو مشتعل ہجوم سے بچانے کی جدوجہد کرنیوالے ساتھی منیجر ملک عدنان کو تمغہ شجاعت دینے کا اعلان کیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا وہ پوری قوم کی جانب سے ملک عدنان کی بہادری اور شجاعت کو سلام پیش کرنا چاہتے ہیں، جنہوں نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر پریانتھا کمار کو مشتعل ہجوم سے بچانے کی کوشش کی۔دریں اثناء  پنجاب حکومت نے سیالکوٹ واقعے میں سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کو مشتعل ہجوم سے بچانے کی جدوجہد کرنیوالے ساتھی منیجر ملک عدنان کو انسانی  حقوق کا ایوارڈ دینے کا اعلان کیا ہے۔ پنجاب کے صوبائی وزیرانسانی حقوق اعجاز عالم آگسٹین کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملک عدنان کو 10دسمبرکو انسانی حقوق کے عالمی دن پر ایوارڈ دیا جائیگا۔ خوشی ہے ملک عدنان نے انسانیت کی بہترین مثال قائم کی۔سوشل میڈیا پر بھی ملک عدنان کی بہادری اور انسان دوستی کے جذبے کی تعریف کی جارہی ہے۔خیال رہے پریانتھا کمارا کو بچانے کیلئے خود کی جان خطرے میں ڈالنے وا لے فیکٹری کے پروڈکشن منیجر ملک عدنان نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی کہ وہ پریانتھا کمارا کو مشتعل ہجوم سے بچاسکیں تاہم وہ ہجوم کی درندگی کو روکنے میں ناکام رہے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنیوالی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے ملک عدنان جان ہتھیلی پر رکھ کر پریانتھا کمارا کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں 

تمغہ شجاعت

مزید :

صفحہ اول -