جس نئے کشمیر کی تشہیر کی جا رہی ہے وہ حقیقت نہیں، محبوبہ مفتی، فاروق عبد اللہ، غلام نبی آزاد

جس نئے کشمیر کی تشہیر کی جا رہی ہے وہ حقیقت نہیں، محبوبہ مفتی، فاروق عبد ...

  

       نئی دہلی، سرینگر، جموں (این این آئی) غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت جموں و کشمیر کوایک ”پرامن علاقے“ کے طور پر پیش کر رہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کی سڑکوں پر خون بہایا جا رہا ہے اور اپنی رائے کا اظہار کرنے پرلوگوں پرکالے قوانین لاگو کئے جارہے ہیں۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق محبوبہ مفتی نے نئی دہلی میں ”نیا کشمیر“کے عنوان سے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس نئے کشمیر کی تشہیر کی جا رہی ہے وہ حقیقت نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ ہر جگہ صورت حال بہترہونے کا چرچہ کیاجارہاہے توپھر پیراملٹری فورسز کی تعداد میں اضافہ کیوں کیا گیا، نئے بنکر کیوں قائم کئے گئے؟۔انہوں نے کہاکہ ”نیا کشمیر“ کو بھول جائیں اور آئیے ”نئے ہندوستان“ کی بات کریں۔ انہوں نے کہاکہ نئے ہندوستان میں آئین کی بات کرنے والے پر ”ٹکڑے ٹکڑے گینگ“ کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔ اقلیتوں کو چاہے وہ کوئی ریڈی بان ہویا کوئی فلمی ستارہ سماجی اور معاشی طور پر دھتکارا جاتا ہے،ایک سوال کے جواب میں کہ دفعہ370 کی منسوخی سے کیا فرق پڑا؟ انہوں نے کہاکہ ہمارے ساتھ دھوکہ کیا گیا ہے، اگر یہ ضمانت تھی تو اسے منسوخ کیوں کیا گیا؟ انہوں نے خبردار کیا کہ جو کچھ کشمیر میں ہو رہا ہے، وہ بھارت میں بھی ہوسکتا ہے۔ دریں اثناء نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے عوام سے کہا ہے کہ وہ مودی حکومت کی طرف سے چھینے گئے حقوق واپس حاصل کرنے کیلئے بھارتی کسانوں کی طرح قربانیاں دینے کیلئے تیارر ہیں۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق فاروق عبداللہ نے سرینگر میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے ہر ایک کارکن اور لیڈر کو ہر گاؤں اور علاقے میں زمینی سطح پر لوگوں سے رابطے میں رہنا ہوگا۔انہوں نے کہا”تم سب کو ثابت قدم رہنا ہے۔ بھارتی حکومت نے 700 کسانوں کی قربانیوں کے بعد زرعی قوانین کو منسوخ کر دیا۔انہوں نے پارٹی کارکنوں پر زوردیا کہ وہ عوامی رابطہ پروگرام شروع کریں اور کشمیر کے ہر گاؤں اور محلے میں لوگوں سے جڑے رہیں۔دریں اثناء غلام نبی آزاد نے اسمبلی انتخابات سے قبل مقبوضہ علاقے کی ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کیاہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق غلام نبی آزاد نے جموں کے علاقے رام بن میں ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کو مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ جمہوری حکومت کا کوئی متبادل نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ بیوروکریسی مقبول حکومت کا متبادل نہیں ہے۔ ہم انہیں عوام کی تکالیف کو کم کرنے میں ناکامی کا ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے۔ ان کا کام دور دراز مقامات پر جانا اور عوام کی بات سننا نہیں ہے کیونکہ انہیں آئینی طور پر دفاتر میں کام کرنے کاپابند بنایا گیا ہے۔غلام نبی آزاد نے کہا کہ حکام سب کیساتھ یکساں سلوک نہیں کر رہے ہیں اور کئی دہائیوں سے لوگوں کی ملکیت میں رہنے والی زمینوں سے ان کو بے دخل کرنے جیسے عوام دشمن اقدامات کر رہے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر

مزید :

صفحہ آخر -