چونیاں، ہسپتال انتظامیہ کی مبینہ غفلت کے باعث خاتون بچے سمیت جاں بحق

  چونیاں، ہسپتال انتظامیہ کی مبینہ غفلت کے باعث خاتون بچے سمیت جاں بحق

  

      چونیاں (نامہ نگار) محکمہ صحت پنجاب کے دعوؤں کا پول کھل گیا تحصیل ہسپتال انتظامیہ نے ماں بچہ صحت مند مہم کی دھجیاں اڑا دیں عملہ کی مبینہ غفلت، بروقت علاج میسر نا ہونے پر حاملہ خاتون بچے سمیت جاں بحق ہو گئی خاتون کے ہاں دو بچوں کی پیدائش تھی ایک بچے کے بعد خاتون آٹھ گھنٹے تک تڑپتی رہی لیکن کسی نے توجہ نا دی، ورثاء کا الزام، ہسپتال انتظامیہ پرائیویٹ ہسپتال لیجانے کا بولتے رہے لیکن پیسے نہیں تھے لاہور ریفر کیا تو خاتون ایمبولینس میں ہی بچے سمیت دم توڑ گئی،ورثاء۔تفصیلات کے مطابق تحصیل ہسپتال چونیاں انتظامیہ کی مبینہ غفلت اور بروقت سہولیات فراہم نا کرنے پر نواحی گاؤں ڈھوس کی رہائشی فوزیہ نصیر نامی خاتون بچے سمیت جاں بحق ہو گئی فوزیہ نامی خاتون کے ورثاء کے مطابق فی میل ڈاکٹرز و دیگر عملہ خوشگپیوں اور موبائلز میں مصروف رہا جبکہ ماں فوزیہ نصیر پیٹ میں دوسرے بچے کی پیدائش کیلئے ہسپتال میں تڑپتی رہی،خاتون کے ہاں دو بچوں کی پیدائش تھی ایک بچے کی پیدائش کے بعد ڈاکٹروں نے بے یارو مددگار چھوڑ دیا، مریضہ نے ایک بچے کو لیبر روم میں جنم دیاجبکہ دوسرے بچے کی ڈیلیوری کیلئے چار گھنٹے درد کی شدت سے تڑپتی رہی لیکن کسی نے توجہ نا دی،متاثرہ خاتون کی زیادہ حالت خراب ہونے پر لاہور ریفر کیا گیا خاتون ایمبولینس میں ہی درد برداشت نہ کرتے ہوئے پیٹ میں بچے سمیت جان کی بازی گئی، متاثرہ لڑکی کے والد اور خاوند نصیر احمد نے وزیر اعلیٰ پنجاب وزیر صحت پنجاب سے فوری نوٹس اور غفلت برتنے والے عملے کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ 

خاتون جاں بحق

مزید :

صفحہ آخر -