ڈاکٹر عبد القدیر خان سچے اور مخلص پاکستانی تھے: عبد الحسیب خان 

  ڈاکٹر عبد القدیر خان سچے اور مخلص پاکستانی تھے: عبد الحسیب خان 

  

       کراچی (سٹاف رپورٹر) ڈاکٹر قدیر خان سچے اور مخلص پاکستانی تھے وہ ذولفقار علی بھٹو کے کہنے پر پاکستان آئے تھے۔ سابق سینیٹر عبدالحسیب خان نے ان خیالات کا اظہار کیا۔وہ پاکستان کونسل آف میڈیا وومن کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے بحیثیت صدر مجلس خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ دورِ حاضر کے جو ہیرو ہیں ان کو مانئے۔ پاکستان کا واحد آدمی ہے ڈاکٹر قدیر خان جس کی آواز پر لوگ لبیک کہتے تھے۔ جو لوگ ریاست کیلئے کام کر رہے ہیں وہ ہم سب کیلئے قابلِ احترام ہیں۔ ریاست اور حکومت دو الگ چیزیں ہیں انہیں آپس میں ملائیں مت۔حکومتی مفادات ریاستی مفادات سے الگ ہوسکتے ہیں۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ جن کو ہم ہیرو سمجھتے ہیں ان کو خراج و سپاس پیش کریں۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی عالمی شہرت یافتہ براڈ کاسٹر شفیع نقی جامعی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں اپنے اسلاف کوجاننا چاہئے۔ ملک کی موجودہ صورتِ حال میں مطالعہ پاکستان کی تاریخ کودرست کرنا ضروری ہے۔ قومی ہیرو ز کی خدمات کو میڈیا نے ہر سطح پر اجاگر کیں تاہم اب میڈیا کی ترجیحات بدل گئی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ میں خواتین کے اس فورم کو کچھ دیکر نہیں یہاں سے کچھ سیکھ کر، لیکر جارہا ہوں۔ پی ایف یو جے کے صدر جی ایم جمالی نے کہا کہ ڈاکٹر قدیر خان ہمارے مایاناز ہیرو ہیں وہ نہ ہوتے تو ایٹم بم بھی نہیں بن پاتا۔ بدقسمتی ہے کہ ہم اپنے ہیرو کو ہیرو نہیں مانتے بلکہ عبدالستار ایدھی کو بھی ان کو حق نہیں دیا گیا جبکہ وہ بھی ہمارے ہیرو ہیں جن کو دنیا مانتی ہے۔ تقریب کی میزبان حمیرا موٹالا نے کہا کہ ہم اپنے نیشنل ہیرو میں فرشتوں جیسی خصوصیت کیوں تلاش کرتے ہیں؟ہیرو کی بشری خامیوں کے ساتھ اسے کیاں نہیں اپنایا جاسکتا؟ہم اپنے ہیرو کو متنازعہ بنادینے کے ماہرہیں۔ ڈاکٹر روتھ فاو کی خدمات پر ایک فلم یا ڈرامہ ضرور بننا چاہئے۔ مہمانِ اعزازی غلام عباس ڈیتھو نے اپنی تقریر میں کہا کہ ڈاکٹر قدیر خان پاکستان سمیت عالم اسلام کے ہیرو ہیں۔ ہم بحیثیت مسلمان جن کے امتی ہیں وہ ہمارے ہیرو ہیں یہ بات اللہ تعالی نے قرآن پاک میں بتادیا ہے۔ دشمن بھی حضور ؓ کو سچا، ایماندار اور بہادر مانتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر قدیر ہمارے ہیرو ہیں اور ہیرو رہیں گے۔ ممتاز صحافی مظہر عباس نے کہا کہ قائدِ اعظم اور علامہ اقبال کے علاوہ بھی بہت سے ہیرو ہیں جن کو حکومت اور ریاست کو ماننا چاہئے۔ ہم نے نہیں دیکھا کہ تعلیم کے شعبے میں کسی کو بطورہیروپیش کیا گیا ہو۔تعلیم کے شعبہ میں سرسید کی خدمات تھیں لیکن کیا انہیں ہیرو مانا گیا؟ حسرت موہانی اور ڈاکٹر ادیب رضوی کو بھی اپنی ہیرو نہیں ماناگیا یہ ہستیاں ہیرو کہلانے کے مستحق نہیں۔ ہمہیں میڈیا پر صرف شوکت خانم کی ہی گونج سنائی دیتے ہے جبکہ ایس آئی یو ٹی نے غریبوں تک صحت کی سہولیات پہنچانے میں جو کردار ادا کیا وہ قابلِ ستائش ہے۔ نور الہدی شاہ نے اس حوالہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم جس پلاٹ پر بیٹھے ہیں، یہ زمین کا ٹکڑا جو پاکستان کے نام سے ہمارا گھر ہے۔ کیا مائی جندو اس ملک کی ہیرو نہیں؟ ایک ان پڑھ عورت نے اپنے خلاف ہونے والے ظلم پر اس عدالتی نظام سے ایک میجر کو سزا دلوای۔ اگر ہم ان 22 کروڑ لوگوں کو جس میں سندھ سے لیکر خیبر و فاٹا تک جتنی قومیں بستی ہیں، جتنی زبانیں بولی جاتی ہیں ان سب کو اپنا مان کر محبت کرنا شروع کریں تو ہمیں ہیروز نظر آنا شروع ہوجائیں گے۔ پاکستان ایڈیٹر کلب کے صدر مبشر میر نے کہا کہ ہیروز کو تنازعات سے پاک رکھنا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ہر فرد جو معاشرہ میں تعمیری پہیہ کو حرکت میں لارہا ہے ہمارا ہیرو ہے۔ کراچی ایڈیٹرز کلب کے جنرل سیکریٹری جناب سید منظر نقوی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے ہیروز کو غیر ملکی مفادات کی روشنی سے بالاتر ہوکر عزت دینی چاہئے۔ کیا امریکا ہمیں بتائے گا کہ ہمارا ہیرو کون ہوگا اور کون نہیں۔ تقریب سے اسلام آباد سے آئے ہوئے مہمان ڈاکٹر مرتضی مغل، ڈاکٹر شجاعت حسین، بریگیڈیئر طارق، تسنیم زہرہ، اینکر پرسن شہزاد خان، ایڈیٹر میڈیکل ریویو محمد فرید، شمع منشی، مجید رحمانی، فرح احمد، ارم زیدی، انعم علی، حورالعین، سطوت نطامی، صنوبر احمد، نعمت خان،عظمی راحیل،بشری علی، بینا خان، تبسم زہرہ، مسز غفرانہ بدر اور عائشہ علی دیگر نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ تقریب کا استقبالیہ مبشرہ علوی نے پیش کیا۔ تقریب کے اختتام پر اعزازی چیئرمین نواب دین صاحب نے معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور حمیرا موٹالا نے مہمانوں کو یادگاری شیلڈز پیش کیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -