جمرود،فاٹا قومی جرگہ نے بلدیاتی انتخابات سے بائیکاٹ احتجاج کا اعلان 

  جمرود،فاٹا قومی جرگہ نے بلدیاتی انتخابات سے بائیکاٹ احتجاج کا اعلان 

  

جمرود (نمائندہ پاکستان)جمرود،فاٹا قومی جرگہ نے بلدیاتی انتخابات سے بائیکاٹ اور احتجاجی جلسوں کا اعلان کردیا۔ مارچ میں فاٹا انضمام کے خلاف اسلام آباد میں لاکھوں افراد دھرنا دے گے ملک بسم اللہ خان آفریدی جمرود پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاٹا قومی جرگہ کے مشران ملک بسم اللہ خان آفریدی،ملک حاجی ضراب ابدال خیل،ملک نجیب افریدی،ملک تماش شلمانی،ملک داؤد منیا خیل،حاجی حنیف آفریدی،حاجی ولایت شاہ منیا خیل و دیگر نے کہا کہ قبائلی مشران نے فاٹا انضمام بالجبر کیا ہے جہاں پر فاٹا انضمام کے وقت قبائیلی مشران سے کوئی رائے نہیں لی گئی تھی اس لیے قبائیلی عوام نے انضمام کو روز اول سے مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت بلدیاتی انتخابات کا وقت نہیں کیوں کہ اب بھی قبائیلی علاقوں سے لاکھوں افراد متاثرین بن کر کسمپرسی کی زندگی بسر کررہے ہیں اس لیے پہلے متاثرین کو واپس کیاجائے۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان اس لیے کیا کہ قبائلی علاقوں میں مردشماری درست طریقے سے نہیں ہوئی پہلے درست طریقے سے مردم شماری کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں انضمام کے بعد امن و امان کی صورتحال خراب ہے اس خراب صورتحال کو کنٹرول کرکے امن قائم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا انضمام کو قبائیلی عوام نے مسترد کردیا ہے اور ہم سمجھتے ہے کہ فاٹا انضمام کو مضبوط کرنے کے لیے بلدیاتی انتخابات کا ڈرامہ رچایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشران و کشران کے ہمراہ گھر گھر جاکر بلدیاتی انتخابات کے خلاف مہم چلائیں گے اس لیے قبائیلی عوام بلدیاتی انتخابات کے خلاف مہم چلائیں اور بائیکاٹ کا اعلان کریں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر قومی جرگہ بلدیاتی انتخابات کے خلاف جمرود سمیت پورے قبائیلی علاقوں میں احتجاجی جلسے کریں گے۔ خیبر قومی جرگہ کے مشران نے سپریم کورٹ سے بھی مطالبہ کیا کہ فاٹا انضمام کے خلاف رٹ پٹیشن پر جلد از جلد فیصلہ کریں اور فاٹا انضمام کو واپس کرکے قبائیلی روایات کو بحال کریں۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا قومی جرگہ نے فیصلہ کرلیا کہ مارچ میں فاٹا انضمام کے خلاف اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کردیا جہاں پر لاکھوں لوگ اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے جس کے لیے قبائیلی عوام اور انضمام مخالف قوتیں شرکت کریں گے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -