مائن ورکروں کے علاج کیلئے حکومت کی جانب سے اقدامات نہ اٹھانے پرتشویش

مائن ورکروں کے علاج کیلئے حکومت کی جانب سے اقدامات نہ اٹھانے پرتشویش

  

پشاور (سٹی رپورٹر)آل خیبرپختونخوا مائنزلیبرایسوسی ایشن اورپاکستان مائن ورکرزفیڈریشن نے درہ آدم خیل اخورزاہدمائننگ کمپنی میں گیس دھماکے سے سات مائن ورکروں کے علاج معالجے کیلئے حکومت کی جانب سے اقدامات نہ اٹھانے پرتشویش کااظہار کیاہے اور اس سلسلے میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخواسمیت متعلقہ حکام سے سخت نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ آل خیبرپختونخوا مائنزلیبرایسوسی ایشن کے عمرزیب مشوانی اورپاکستان مائن ورکرزفیڈریشن کے جنرل سیکرٹری سرزمین افغانی نے کہاکہ 29نومبر 2021کو درہ آدم خیل کے اخورزاہدمائننگ کمپنی میں گیس دھماکے سے سات کان کن زخمی ہوئے تھے جن کو برن ٹراماسنٹرحیات آباد پشاورمنتقل کیاگیاجس میں تین کان کنوں کی حالت تشویشناک تھی تاہم مذکورہ تنظیم اور مزدوروں نے اپنی مددآپ کے تحت پانچ مزدوروں کو پنجاب کلرکہار برن سنٹر منتقل کیا جواپنی مددآپ کے تحت وہاں زیرعلاج ہیں لیکن ابھی تک صوبائی وزیرمحنت اور وزیرمعدنیات سمیت چیف انسپکٹرمعدنیات نے انکااحوال تک نہیں پوچھا اورنہ ہی ان کے علاج کیلئے کوئی اقدامات کئے انہوں نے کہاکہ حکومت کے پاس مائن ورکروں کے اعدادوشمار نہیں اورنہ ہی ان کے علاج معالجہ کیلئے کوئی خاص بندوبست ہے انہوں نے مطالبہ کیاکہ مذکورہ سات زخمی مزدوروں کے علاج کیلئے معاوضہ دیاجائے تمام مزدوروں کو ای اوبی آئی اور ای ایس ایس آئی کے ساتھ رجسٹرڈکیاجائے تاکہ انہیں ان کے حقوق مل سکیں۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -