سیالکوٹ واقعہ انتہائی افسوسناک، پاکستان میں کون ہے جو شرمندہ نہیں؟ شہباز گل

    سیالکوٹ واقعہ انتہائی افسوسناک، پاکستان میں کون ہے جو شرمندہ نہیں؟ ...

  

        لاہور(نمائندہ خصوصی)وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹرشہبازگل نے کہا ہے کہ سیالکوٹ کے واقعہ پر پاکستان میں کون ہے جو شرمندہ نہیں ہے؟ جو لوگ مذہب کے دعویدار بنے انہوں نے مذہب کے نام پر اور دوسروں نے سیکورلرا ازم کے نام پر اپنا منجن بیچا اورکرپشن کی،آج ہم  آقائے دوجہاں حضرت محمدؐکے بنیادی فلسفہ سے ہٹے ہوئے ہیں،میں نے وزیراعظم عمران خان کو رحمتؐعام زندگی میں جو طریقے اختیار کرتے تھے،وہ اپنے صحابہ کی کس طرح لیڈر شپ ٹریننگ کرتے تھے اسے بتایا جائے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منہاج القرآن یونیورسٹی کے سالانہ کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹرشہباز گل نے مزید کہا مجھے یہ جان کر انتہائی خوشی ہوئی جن دو تین مقامات پر میری ٹائمز افیئرز کی ڈگری دی جارہی ہے اور ریسرچ پر کام ہو رہا ہے اس میں منہاج القرآن یونیورسٹی بھی شامل ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹرعلامہ طاہر القادری کے سیاسی یا مذہبی نظریات،ان کی فکر سے اختلاف کرنا سب کا حق ہے لیکن ان کی تعلیم کے شعبے میں جو جستجو ہے جو حصہ ہے، انہوں نے اس میدان میں جو شمع جلائی ہے اس سے کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا، ان کی اس فکر سے لاکھوں زندگیاں روشن ہوئی ہیں۔انہوں نے مجھے بتایا اس یونیورسٹی میں سنٹر آف پیس بھی بنایا گیا ہے،گیمز میں بھی ڈگری کرا رہے ہیں۔غرضیکہ اس درسگاہ میں نوجوانوں کو تعلیمی میدان کے ساتھ ساتھ  معاشرتی میدان کیلئے بھی تیار کیا جارہاہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہماری نئی نسل گیمز کے ذریعے تبدیل ہو رہی ہے، بچہ ہمارے پہلو میں بیٹھا ہے لیکن اسے اپنی ثقافت کے رجحانات کے خلاف پڑھایا رہا ہے۔ہماری تربیت یہ تھی کہ جب ماں رات کو اٹھ کر کھانسے تو بیٹے نے ماں کو پوچھنا ہے لیکن یہ تصور ہے کہ ماں کھانسے گی توبچے کی نیند خراب ہو گی اور وہ صبح تعلیم پر صحیح توجہ نہیں دے سکے گا اور اس لئے ماں کو اولڈ ہاؤس میں بھیجنا ضروری ہے۔آج ہمارابچہ ہمارے پہلو میں ہے لیکن وہ دیار غیر کی معاشرت کو سیکھ رہاہے۔انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی خوش آئند ہے کہ منہاج القرآن یونیورسٹی ماڈرن چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے لئے نئی نسل کو تیار کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک نے چند دہائیاں پہلے اپنی عورت کو حقوق دئیے ہیں اور اسے ووٹ ڈالنے کی اجازت ملی ہے۔ لیکن آج امریکہ اوربرطانیہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہم نے عورت کو حقوق لے کردینے ہیں۔ ہمارے اسلام میں تو کئی سو سال پہلے عورت کوحقوق دے دئیے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہمارے مذہب کی بنیاد ہی تعلیم ہے اورکئی سو سال پہلے تک بھی مسلمان سب سے زیادہ تعلیم یافتہ تھے۔ اسلام کاتصور ہی تعلیم کا سیکھنے کا ہے اور اس کے بغیر اسلام نا مکمل ہے۔انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ  فخر کیجیے آپ جس امت میں پیدا ہوئے ہیں،آپ فخر کیجیے جس ملک میں پیدا ہوئے ہیں، یہاں بہت مسائل ہیں جنہیں ٹھیک کرنا ہے۔وزیر اعظم  عمران خان واضح کہتے ہیں کہ اگر آپ اپنی سوچ میں ہی کسی کے غلام ہو گئے تو آپ دوسرے درجے کے شہری ہیں۔ قوم کے بیٹے وزیر اعظم عمران خان کو ادراک ہے کہ مسلمان جب جب سرورکونین کی تعلیمات کے اوپر عمل پیرا ہوئے ان کے بتائے ہوئے راستے کے قریب ہوئے اللہ نے ہمیں عزت اورنصرت دی اور ہماری غیرت کو بہتر کیا  اور جتنا دور جاتے گئے ہماری قسمت میں ذلت رسوائی اور اندھیرے لکھے جاتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں نے سائنس وٹیکنالوجی کے میدان میں اسلام کے دئیے ہوئے شعور کی وجہ سے جھنڈے گاڑھے۔آج ہے آقائے دوجہاں حضرت محمد ؐکے بنیادی فلسفہ سے ہٹے ہوئے ہیں، نبی کریمؐ نے کہا تھاکہ  تعلیم حاصل کرو چاہے تمہیں چین تک جانا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے رحمت اللعالمین ؐاتھارٹی بنائی ہے جس میں نہ صرف پاکستانی سکالر بلکہ دنیا بھر سے سکالرز کو شامل کیا ۔میں وزیر اعظم میں لگن دیکھی ہے اور وہ اس اتھارٹی کے اجلاسوں کو انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ چیئر کرتے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اسلام کی بنیادی تعلیمات کے ساتھ نبی کریم ؐ کے طریقے بتائے جائیں ۔ ہمارے  بچوں کو جونصاب پڑھایا جارہا ہے، کارٹونز ہیں ان کا تعارف ایسا ہو کہ اس میں اسلامی ضابطہ حیات اور اخلاق ہو۔آج ہمارے معاشرے میں غلط سوچ بنی ہوئی ہے، سیالکوٹ کے واقعہ پر کون ہے جو شرمندہ نہیں، کس کو دکھ نہیں ہے  اورکون کہتا ہے کہ اس کو نہ روکا جائے۔جب بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ظلم اورزیادتی ہوتی ہے انہیں قتل کی جاتا ہے تو ہمارا دل اس ظلم پر یہاں دھڑکتا ہے،یہاں جب ایک غیرملکی کوآگ لگائی جارہی تھی آپ کا دل تب بھی دھڑکاہے،آپ کو مایوسی ہوئی ہے۔ یہ وہ تمام رویے ہیں جو کسی ایک کی ذمہ داری نہیں، جو لوگ مذہب کے دعویدار بنے ہیں انہوں نے مذہب کے نام پر کرپشن کی، سیکورلرا ازم والوں نے اپنے دائرے میں کرپشن کی کی،جو عام آدمی تھا اسے مذہب کے دعویداروں او رسیکولر لوگوں سے بھی نفرت ہوئی کیونکہ  ہر کسی نے اپنے منجن کے ساتھ کرپشن کو ضرورت اٹیچ کیا۔سب سے زیادہ اہمیت کردار سازی کی ہے، یہاں  کردارنیچے چلا گیا ہے۔ اوورسیز پاکستان وہاں تو میرٹ پر چلتے ہیں لیکن یہاں آتے ہیں تو توقع رکھتے ہیں کہ ان کا کام بغیر لائنوں میں لگے ہو جائے،یہاں پر میرٹ دوسرے کا کام ہونا ہے ۔انہوں نے کہا  کہ میں صرف سیالکوٹ کے واقعہ پر شرمندہ نہیں بلکہ 17جون 2014ء کو جو ہوا اس پر بھی شرمند ہ ہوں، اس واقعہ کے بعدجو کیا گیا اس پر شرمندہ ہوں، شہداء کا خون آج بھی انصاف کی تلاش میں ہے۔ 

شہباز گل

مزید :

پشاورصفحہ آخر -