پشاور میں بولو ہیلپ لائن متعارف کروائی گئی: ڈاکٹر سمیر اشمس

پشاور میں بولو ہیلپ لائن متعارف کروائی گئی: ڈاکٹر سمیر اشمس

  

       پشاور (سٹی رپورٹر) ایم پی اے ڈاکٹر سمیرا شمس چیئرپرسن وومن پارلیمنٹری کاکس خیبرپختونخوا اسمبلی کا کہنا تھا کہ وومن پارلیمنٹری کاکس نے سال 2021 میں 14 بل خیبرپختونخوا اسمبلی میں پاس کروائے جو کہ ہماری ایک بڑی کامیابی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پشاور میں بولو ہیلپ لائن متعارف کروائی جو کہ سنٹرلائزڈ کال سسٹم ہے جس پر خواتین اپنے مسئلے بتا سکتی ہیں جو متعلقہ اداروں کو فارورڈ کی جائیں گی تاکہ ان کا ازالہ کیا جاسکے۔ سینئر وائس چیئرمین پرسن وومن پارلیمنٹری کوکس ریحانہ اسماعیل کا کہنا تھا کہ سیلون میں رنگ گورا کرنے کے انجکشن جمالیاتی دوا اور دیگر ادویات کا استعمال ہورہا ہے جس کے نقصانات ہو سکتے ہیں اس حوالے سے کوئی قانون نہیں جس پر غور کیا جا رہا ہے جو کہ جلد بنادیے جائیں گے۔ وائس چیئر پرسن ومن پارلیمنٹری کوکس مدیحہ نثار کا کہنا تھا کہ خواتین کی اسمگلنگ کے حوالے سے محکمہ پولیس، محکمہ قانون اور ہوم ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ مشاورت کی اس حوالے سے بھی قانون سازی کی جا رہی ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ ہمارا صوبہ خیبر پختونخوا وہ واحد صوبہ ہے جو خواتین کی اسمگلنگ کے لئے قانون سازی کر رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ممبران وومن پارلیمنٹری کاکس خیبرپختونخوا اسمبلی نے تیسری جنرل باڈی میٹنگ کے موقع پر کیا۔ پارلیمنٹری کوکس خیبر پختونخوا اسمبلی کا یہ اجلاس شرکت گاہ اور یو این ایف پی اے کے زیر انتظام منعقد کیا گیا۔ اجلاس میں خواتین سے جڑے مسائل جیسے کہ چائلڈ میرج، غیرت کے نام پر قتل اور تیزاب کا استعمال، ریپ کیسز، ہندو میرجز اور خواتین کو حقوق دینے کے حوالے سے اجلاس ہوا۔ اجلاس میں ایم پی ڈاکٹر سمیرا شمس چیئرپرسن وومن پارلیمنٹری کاکس خیبرپختونخوا اسمبلی، ایم پی اے مدیحہ نثار، عائشہ بانو، رابعہ بصری، سومی فلک نیاز، زینت بی بی، شاہدہ وحید، شگفتہ ملک، ساجدہ حنیف، انیتا مسعود، عائشہ نعیم، ریحانہ اسماعیل، نعیمہ کشور، آسیہ خٹک، ڈاکٹر آسیہ اسد اور سمیہ بی بی شامل تھیں۔ اجلاس میں ایم پی اے نعیمہ کیشور کا کہنا تھا کہ طلاق، نکاح کی رجسٹریشن کا مسئلہ ہم نے حل کر دیا ہے یونین کونسل میں طلاق، نکاح کی رجسٹریشن بھی شروع کر دی ہے ہم خواتین کے مسئلے اسمبلی فلور پر لانے میں کامیاب ہیں اور کوکس کی ہر چیز اسمبلی میں زیر بحث آتی ہے۔ ایم پی اے ساجدہ حنیف کا کہنا تھا کہ نوزائیدہ بچوں کی اغوا کاری کو بھی روکنا بہت زیادہ ضروری ہے اس حوالے سے بھی قانون سازی جاری ہے جو کہ جلد مکمل کردی جائے گی۔ ایم پی اے شگفتہ ملک کا کہنا تھا کہ ہنگو میں ایک نجی ہسپتال اربوں روپے کی لاگت سے بنایا گیا مگر آج بھی جب وہاں پر حاملہ عورت جاتی ہے تو وہاں پر گائنی میں کوئی خاتون ڈاکٹر، نرس یا ٹیکنیشن نہیں تو وہ ان کو پشاور کہ ہسپتال میں رجوع کرنے کا کہہ دیتے ہیں کہ آپ وہاں پر چلے جائیں اس حوالے سے ہمیں اقدامات اٹھانے چاہیں تاکہ عوام کے لئے آسانی پیدا کی جائے۔ ڈاکٹر آسیہ اسد کا کہنا تھا کہ خیبر پختون خوا میں خواتین کے لئے کریکٹر بلڈنگ کی ٹریننگز شروع کی جائے گی، خواتین کو جو مسائل درپیش ہیں اس حوالے سے ٹریننگ، سیمینارز، ورکشاپس اور آگاہی مہم کے ذریعے ان کو خواتین کے حقوق کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا کیونکہ دیہی علاقوں میں عورتوں کو اپنے حقوق کے بارے میں نہیں پتا ہوتا اور ظلم و ستم کا شکار بنتی ہیں۔ ایم پی اے شاہدہ وحید کا کہنا تھا کہ ہندو میرجز پر بھی کام جاری ہے اور اس حوالے سے ہم نے اقلیتی ایم پی اے روی کمار کے ساتھ بھی بات کی تاکہ ہندو میرجز کا مسئلہ بھی قانون سازی کے ذریعے جلد حل کردیا جائے گا۔ ایم پی اے آسیہ خٹک کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں ایک لمحہ فکریہ یہ بھی ہے کہ قانون بن جاتا ہے مگر عام عوام کو اس بارے میں آگاہی نہیں ہوتی جس وجہ سے وہ اپنے حقوق سے محروم رہ جاتے ہیں، اس حوالے سے ہم نے سیمینارز، ورکشاپس اور آگاہی مہم شروع کی ہیں۔ ایم پی اے رابعہ بصری کا کہنا تھا کہ قانون تو بن جاتا ہے مگر اس پر عمل نہیں ہوتا ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ جن اداروں میں افسران اس پر عمل درآمد نہیں کرتے ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔ ایم پی اے سومی فلک ناز کا کہنا تھا کہ ومن پارلیمنٹری کوکس کی بہترین کارکردگی ہے ہمیں مزید بھی خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنا ہوگا۔ ایم پی اے زینت بی بی کا کہنا تھا کہ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ومن پارلیمنٹری کوکس نے خواتین کو بااختیار بنانے میں اپنا اہم کردار ادا کیا جو پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ایم پی اے انیتا معسود نے کہا کہ ہماری خواتین کسی سے کم نہیں اور انہوں نے پوری دنیا میں ہر شعبے میں اپنا لوہا منوایا ہے۔ ایم پی اے عائشہ نعیم کا کہنا تھا کہ ہمیں اس چیز پر بھی غور کرنا چاہیے کہ وومن کوکس کو لیگل سٹیٹس دیا جائے اس حوالے سے مشاورت کرنی ہوگی۔ ایم پی اے سومیہ بی بی کا کہنا تھا کہ جتنا کام خیبر پختونخوا میں خواتین کے حقوق کے لیے آج ہو رہا ہے اتنا پہلے کبھی نہیں ہوا اس کا کریڈٹ مومن پارلیمنٹری کوکس کو جاتا ہے۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -