کھاد، بحران کیخلاف مظاہرے، انتظامیہ بھی متحرک، گوداموں پر چھاپے

        کھاد، بحران کیخلاف مظاہرے، انتظامیہ بھی متحرک، گوداموں پر چھاپے

  

       کرم پور،راجن پور،میاں چنوں،روجھان(نمائند ہ پاکستان،تحصیل رپورٹر) کرم پور میں کنٹرول ریٹ پر کھاد نایاب جبکہ بلیک میں فروخت ہونے لگی۔کاشتکاروں مہر عبد العزیز،سردار محمد حنیف راٹھ،چوہدری فہد اقبال، چوہدری محمد خالد عاصم،سر دار غلام رسول راٹھ،راؤ محمد اشرف،چوہدری محمد ارشد عابد،خادم حسین شہزاد،شوکت حیات بھٹی،چوہدری محمد جمیل اور دیگر کاشتکاروں نے کہاکہ کرم پور میں کنٹرول ریٹ پر کھاد نایا(بقیہ نمبر42صفحہ7پر)

ب ہو چکی ہے۔ بلیک میں دھڑلے سے فروخت ہو رہی ہے۔محکمہ زراعت کی سر پرستی میں کھاد بلیک میں فروخت کی جارہی ہے۔محکمہ زراعت صرف خانہ پری کیلئے چھاپے ماررہا ہے۔محکمہ زراعت کے آفسر منتھلی لیکر خاموش ہیں۔ڈیلر رات کے اندھیرے میں کھاد کے ٹرک دیہاتی علاقوں میں اتار لیتے ہیں۔اپنے اڈوں سے کھاد بلیک میں فروخت کرتے ہیں۔ کھاد نہ ملنے کی وجہ سے گندم کی کاشت متاثر ہو رہی ہے۔ اور گندم کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ کاشتکاروں نے وزیر اعلیٰ پنجاب،کمشنر ملتان،اور ڈپٹی کمشنر وہاڑی سے مطالبہ کیا ہے کہ کھاد کنٹرول ریٹ پرفروخت کرائی جائے۔ تاکہ ہم گندم کی فصل بروقت کاشت کرسکیں۔ضلع راجنپور میں یوریاکھادکے مصنوعی بحران کے خلاف کسان بورڈ ضلع راجن پور کا اہم اجلاس منعقد ہوااجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ھوا تلاوتِ قرآن مجید کی سعادت جام عبدالرشید برڑہ ضلعی نائب صدر نے حاصل کی۔سٹیج سیکرٹری کے فرائض ضلعی جنرل سیکرٹری کسان بورڈ  محمد افضل ڈھانڈلہ نے ادا کیئے۔اجلاس میں تقریبا تمام ضلعی باڈی نے شرکت کی اور سینکڑوں کسان بھی شامل ھوئے۔شرکا میں سے صدر خواجہ محسن ریاض،نائب صدر کسان بورڈ محمد جلب گبول جام عبدالرشید  جام محمد اسماعیل محمد اسلم دریشک اور رحمت اللہ شلوانی نے خطاب کیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یوریا کھاد کے مصنوعی پیدا کردہ بحران کے خلاف کسان بورڈ 8دسمبر بروز بدھ فاضل پور میں احتجاجی دھرنادے گا جبکہ خواجہ محسن کی قیادت میں حاجی پور شہر میں احتجاجی ریلی نکالی گئی اور لوگوں کو 8دسمبر کے دھرنے سے آگاہ کیا۔کھاد کی دستیابی پر انتظامیہ کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، مجسٹریٹس اور کھاد مافیا کی ملی بھگت سے کسان خوار ہو گئے، کھاد کی عدم دستیابی،کھاد مافیا اور انتظامیہ کی نااہلی پر پریشان کسانوں نے ٹی چوک کو احتجاج کرتے ہوئے بلاک کردیا. کسانوں کا کہنا ہے کہ ہمیں کھاد نہیں مل رہی فصلیں تباہی کے دہانے پر ہیں سفارشی ٹولے کو پچاس پچاس بوریاں ایک فون کال پر تھما دی جاتی ہیں جبکہ ہمیں ایک دو بوریوں کیلئے ذلیل و خوار کیا جاتا ہے، کسانوں نے انتظامیہ کو نشانے پر لیتے ہوئے کہا کہ تحصیل انتظامیہ کھاد مافیا کے ساتھ ساز باز ہیں پیسے لیکر انہیں کچھ نہیں کہا جاتا بھاری رشوت کے عوض مجسٹریٹ پکڑی جانے والی کھاد کھاد غائب کر دیتے ہیں کاغذی کاروائی کرکے ہمارا حق چھینا جا رہا ہے، مجسٹریٹس اور کھاد مافیا کے خلاف کرپشن کے ثبوت ہونے کے باوجود تحصیل و ضلعی انتظامیہ انکے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہی، کسانوں کا کہنا تھا وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار اس پر سخت نوٹس لیں اور زمہ داروں کے خلاف سخت کاروائی کریں. مخبر کی اطلاع پر اسسٹنٹ کمشنر روجھان محمد قاسم گل نے کاروائی کرتے ہوئے بنوں مارکیٹ میں موجود کھاد کا ٹرالہ حراست میں لے لیا زرائع کے مطابق ٹرالہ پر لوڈ سو سے زائد کھاد کے  تھیلے بلیک پر فروخت کرنے کے لیے گوداموں میں چھپانے کی تیاریاں کی جارہی تھی اسسٹنٹ کمشنر روجھان محمد قاسم گل نے بروقت کاروائی کرکے بلیک پر کھاد فروخت کرنے والے مافیا کے ارادے ناکام بنا دئیے اسسٹنٹ کمشنر محمد قاسم نے محکمہ زرعت آفیسران کی موجودگی میں ٹرالہ پر لوڈ تمام کھاد سرکاری ریٹ پر کسانوں میں فروخت کردی اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر محمد قاسم گل کا کہنا تھا کہ کھاد بلیک کرکے کسانوں کو لوٹنے والیمافیا کے ارداے کامیاب نہیں ہونے دینگے انھوں نے کہا کہ کسان فوری طور مارکیٹ کا رخ کریں اور کھاد کی خریداری کریں کھاد ہمہ وقت سرکاری ریٹ پردستیاب ہے بلیک پر فروخت کرنے والے مافیا کی کسان بھائی نشاندہی کریں کھاد بلیک کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گء دوسری طرف پکڑی جانیوالی کھاد موقع پر موجود کھاد کی خریداری کرنے کسان مٹھا خان جام لعل ہدایت اللہ جام غفار اور دیگر افراد  نے پکڑی جانیوالی کھاد سرکاری ریٹ پر کسانوں میں تقسیم کرنے پر اسسٹنٹ کمشنر محمد قاسم گل شکریہ ادا کیا اس موقع پر انکا کہنا تھا کہ اسسٹنٹ کمشنر محمد قاسم گل نے سرکاری ریٹ پر کھاد فراہم کرکے ہمارے سینکڑوں روپے بچا لیے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -