رٹا سسٹم ختم کرنے کیلئے اقدامات شروع 

   رٹا سسٹم ختم کرنے کیلئے اقدامات شروع 

  

  میلسی (نامہ نگار)پنجاب بورڈ کمیٹی آف چیر مین نے رٹاسسٹم کی بجائے منطقی تعلیمی تیاری کے لیے ایجوکیشن فلسفے کے انٹر نیشنل معیار کو اپنانے کا فیصلہ کر  لیا۔2022 کے نویں اور دسویں جماعت کے بورڈ امتحانات میں صوبہ بھر کے لیے اپنے جاری کردہ نوٹیفیکیشن نمبر (بقیہ نمبر15صفحہ6پر)

451/ایس واء / پی بی سی سی /ایل ایچ آر میں کء سالوں سے رائج پیٹرن مسترد کر دیا گیا جس میں ہرسال 20 فیصد ملٹی پل چائس سوالات۔50 فیصد مختصر سوالات اور 30 فیصد طویل سوالات شامل رہے۔ پہلے فیز 2022 کے لیے ماڈل پیپرز کے اجرا کا فیصلہ بھی کر لیا گیا بورڈز کی میٹنگ میں نیا امتحانی نظام سلیبس کی سمجھ بوجھ اور اس کے لا گو یا اطلاق کر سکنے کی صلاحیت  پر کھنے پر منحصر ہے جو تین فیز میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ فرسودہ رٹا سسٹم سے یکے بعد دیگرے مرحلہ وار نجات حاصل کی جاسکے۔چنانچہ 2022 میں نویں اور دسویں کلاسوں کا ایس ایس سی امتحان لیتے ہوئے نمبروں کے فیصد کی نئی تقسیم کا فیصلہ ہوا ہے جس کے مطابق صوبیبھر کے امتحانات بورڈز میں سلیبس   کے نالج  کے 70 فیصد  اس کی سمجھ بوجھ کے تصور کے 20 فیصد اور اس کے لاگو یا اطلاق کر سکنے کی صلاحیت کے 10 فیصد نمبر اسی سالا نہ امتحان میں مقرر کیے گئے ہیں۔دوسرے فیز 2023 میں سلیبس کے نالج کے50 فیصدسمجھ بوجھ کی صلاحیت کے 35فیصد اور لاگو یا اطلا قی صلاحیت کے 15  فیصد نمبر رکھے گئے ہیں۔جبکہ تیسرے فیز 2024 میں سلیبس کے نالج کے لیے صرف 30 فیصد سمجھ بوجھ کے50 فیصد اور اور نالج کے لا گو یا اطلاق کر نے کی قوت کے 20 فیصد نمبر رکھیگئے ہیں۔نالج کے نمبر اس لیے بتدریج کم کیے گئے ہیں کہ  بیسیوں سالوں سے امتحانی پیمائش کا اسی پر انحصار رہا ہے #

رٹاسسٹم

مزید :

ملتان صفحہ آخر -