مٹی کا عالمی دن، رحیم یارخان میں تقریب، مختلف امورکا جائزہ

 مٹی کا عالمی دن، رحیم یارخان میں تقریب، مختلف امورکا جائزہ

  

  رحیم یارخان(نمائندہ پاکستان)پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اِس کی معیشت کا اِنحصار زیادہ تر زراعت پر ہے۔ اللہ تعالی نے ہمیں زرخیز زرعی زمین سے نوازا ہے۔ (بقیہ نمبر23صفحہ6پر)

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اِس زمین سے زیادہ سے زیادہ اِستفادہ حاصل کریں۔اِس کی دیکھ بھال نہ صرف ہماری ذمہ داری ہے بلکہ اِخلاقی فریضہ بھی ہے۔لہذا زمین کو اِسطرح اِستعمال میں لایا جائے کہ اِس سے نہ صرف ہماری موجودہ ضروریات پوری ہوں بلکہ آئیندہ آنے والی نسلیں بھی استفادہ حاصل کر سکیں۔ ہمارے کاشتکار بڑی محنت کر کے اِس زمین سے ہمارے لئے خوراک اور دیگرضروریات پوری کرتے ہیں۔ گذشتہ چند سالوں سے اہم فصلات کی پیداوار میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جسکی وجوہات میں جدید پیداواری ٹیکنالوجی کا فقدان، موسمیاتی تبدیلی اور کھادوں کا غیر متوازن اِستعمال شامل ہے۔ فوجی فر ٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ 1978میں ملک میں زرعی خودکفالت حاصل کرنے کیلئے قائم ہوئی۔ اب کمپنی سالانہ 37 لاکھ ٹن سے زیادہ معیاری کھادیں بنا کر اپنے 3500 ڈیلروں کے ذریعے کاشتکاروں تک پہنچا رہی ہے تاکہ متوازن کھادوں کے اِستعمال کو فروغ دے کر زمین کی زرخیزی اور فی ایکڑ میں اِضافہ کیاجا سکے اِن خیالات کا اِظہارمیاں ذکا الدین، ہیڈ آف سینٹر زون نے فارم ایڈوائزری سینٹر رحیمیارخان کے زیرِاہتما م و رلڈسوائل ڈے کے موضوع پر منعقدہ آن لائن سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔عبدالحمیدلودھی، ہیڈ آف ایگری سروسز نے کہا کہ فوجی فر ٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ 1981  سے ملک بھر کے کاشتکاروں کو اپنے زرعی خدمات کے شعبے کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی فراہم کر رہی ہے۔ تاکہ کاشتکاروں کی زرعی پیداوار میں بالعموم اور آمدنی میں بالخصوص اِضافہ ہو۔ اِس شعبہ کے تحت  13 ریجنل دفاتر اور 5 فارم ایڈوائزری سینٹرز قائم کئے گئے ہیں۔ اِن سینٹرز میں کاشتکاروں کے لئے مفت زرعی مشوروں کے علاوہ مٹی اور پانی کے تجزیہ کی جدید کمپیوٹرائزڈ لیبارٹریز موجود ہیں۔ اِس کے علاوہ ایف ایف سی نے اجزائے کبیرہ کے ساتھ ساتھ اجزائے صغیرہ اور پودوں کے تجزیہ کیلئے بھی ایک علیحدہ لیبارٹری قائم کی ہے۔ اِن لیبارٹریوں میں ہمارے زرعی ماہرین اپنی نگرانی میں مٹی اور پانی کے نمونے لے کر بھجواتے ہیں جہاں ان کا تجزیہ کر کے کھادوں کے متوازن اِستعمال اور زمین کے متعلق دیگر مسائل کے بارے میں سفارشات مرتب کر کے کاشتکاروں کو بہم پہنچائی جاتی ہے۔ تاکہ ملک میں کھادوں کے متوازن اِستعمال کو فروغ مل سکے۔ زراعت سے متعلق جدید معلومات کی منتقلی کے لئے زرعی ماہرین دیہاتوں میں جا کر کاشتکاروں کے اجتماعات منعقد کر کے اور ان کو اہم فصلوں کے بارے میں فلموں اور تقاریر کی مدد سے جدید زراعت سے روشناس کراتے ہیں۔کاشتکاروں کے کھیتوں پر علاقے کی اہم فصلوں کے نمائشی پلاٹ لگاکر عملی طور پرجدید زراعت اور متوازن کھادوں کے اِستعمال کے فوائد کو ثابت کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں کاشتکاروں کے کھیتوں پر جا کر زمین اور فصلوں کے بارے موقع پر مسائل کی نشاندہی کر کے ان کے لئے حل تجویز کرتے ہیں۔1981  سے اب تک فوجی فر ٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ کی زرعی سرگرمیوں سے25 لاکھ سے زیادہ کاشتکار اِستفادہ حاصل کر چکے ہیں۔ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے اور انشا اللہ بدستور جاری رہے گا۔ اِس کے علاوہ فصلوں کی کاشت کے متعلق معلومات پہنچانے کے لئے ایف ایف سی مختلف قسم کا زرعی لٹریچر، کتابچے، پوسٹرز اور پمفلٹ تیار کرتی ہے جو کہ کاشتکاروں میں مفت تقسیم کئے جاتے ہیں۔ کمپنی اِس کے علاوہ سہ ماہی     زرعی رپورٹ اردو اور سندھی میں باقاعدگی سے چھپوا کر نہ صرف مختلف زرعی سرگرمیوں میں تقسیم کر رہی ہے بلکہ کا شتکاروں کو بذریعہ ڈاک ان کے پتے پر ہر سہ ماہی کے شروع میں ارسال کر رہی ہے۔ایف ایف سی کے زونل ہیڈ ساوتھ، محمد علی جنجوعہ نے بتایا ورلڈ سوائل ڈے منانے کا مقصد زمین کی اہمیت کواجا گر کرنا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے ہم نے اس بات کا تہیہ کرنا ہے کہ زمین کی صحت اور زرخیزی کا خیال رکھتے ہوے   اپنی فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔ڈاکٹر انجم علی، ڈائریکٹر جنرل زراعت توسیع پنجاب نے کہا کہ ہمارے ملک کی مجموعی آمدنی میں زراعت کا حصہ تقریبا 19.5  فیصد ہے جبکہ 42 فیصد افرادی قوت زراعت سے منسلک ہے۔بڑھتی ہوئی آبادی کی خوراکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے فصلات کی فی ایکڑ پیداوار میں اِضافہ ناگزیر ہے۔ کاشتکار زرعی ماہرین کی سفارشات پر عمل پیرا ہوں۔ ڈاکٹرعبدالوکیل، ایسوسی ایٹ پروفیسرزرعی یونیورسٹی فیصل آبادنے  پوٹاش کی اہمیت کے حوالے سے لیکچر دیا۔ڈاکٹر وقاراحمد، زرعی ماہرآسٹریلیا نے پاکستان میں ایف اے او کی جانب سے تیار کردہ سوایل فرٹیلیٹی اٹلاس میں ایف ایف سی کے کردار پر روشنی ڈالی۔ سمپوزیم سے ڈاکٹر بجے سنگھ، زرعی یونیورسٹی، لدھیانہ،  اِنڈیا نے بھی خطاب کیا اور نیم کوٹڈ یوریا کے حوالے سے آگاہی فراہم کی۔پروفیسر رتن لال، اوہائیو سٹیٹ یونیورسٹی امریکہ نے کہا کہ پوری دنیا میں زیر کاشت رقبہ کم ہورہا ہے جبکہ آبادی میں مسلسل اِضافہ ہو رہا ہے۔ زمین کی زرخیزی اور پیداواری صلاحیت بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ہم لوگوں کو معیاری خوراک فراہم کر سکیں۔ پیٹرک ہیفر،ڈپٹی ڈی جی، انٹرنیشنل فرٹیلائزر ایسوسی ایشن نے کہا کہ ایفا پوری دنیا میں کھادوں کی آفادیت اور جدت بڑھانے کیلئے کوشاں ہے۔ پاکستان میں ایف ایف سی اِس حوالے سے نمایاں کارکردگی دکھا رہی ہے۔جو معیاری کھادوں کی فراہمی کے ساتھ کھادوں کے متوازن اور بہتر اِستعمال بارے ایک منفرد پروگرام چلا رہی ہے۔انھوں نے ورلڈ سوائل ڈے کے موقع پر سمپوزیم کے تمام شرکا کو مبارکباد دی اور مستقبل میں مل کر کام کرنے کی خواہش کا اِظہار کیا۔سمپوزیم کے مہمان خصوصی، پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیمان طاہر، وائس چانسلر، خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجیرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زمین، بیج اور کھاد یہ تین عوامل ہماری زرعی ترقی کے حوالے سے بہت اہم ہیں۔ انہوں نے سمپوزیم کے کامیاب انعقاد پر ایف ایف سی کی انتظامیہ کو مبارکبادی اور ایف ایف سی کی زرعی خدمات کی تعریف کی۔محمد زاہد عزیز نے انٹرنیشنل اور پاکستانی شرکا کا سمپوزیم میں شرکت پر شکریہ ادا کیا۔  

مزید :

ملتان صفحہ آخر -