پیپلز پارٹی کا وفاق اور صوبے میں الگ الگ چہرہ ہے،مفتاح اسماعیل 

  پیپلز پارٹی کا وفاق اور صوبے میں الگ الگ چہرہ ہے،مفتاح اسماعیل 

  

کراچی (سٹاف رپورٹر) مسلم لیگ ن سندھ کے جنرل سیکریٹری سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا وفاق میں اور صوبے میں الگ الگ چہرہ ہے۔وفاق میں یہ فیڈریشن کی بات کرتے ہیں صوبے میں یہ حقوق سلب کرتے ہیں۔پیپلز پارٹی نے بلدیاتی اختیارات پر حملہ کیا ہے۔مزید اختیارات ختم کردئیے ہیں۔پیپلز پارٹی شہریوں کے حقوق پر حملے جاری رکھی ہوئی ہے۔ وہ اتوار کو مسلم لیگ ہاؤس میں ایم کیو ایم کے وفد سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔اس موقع سابق گورنر سندھ محمد زبیر، متحدہ قومی مو ومنٹ پاکستان کے رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینئر عامر خان اور سابق میئر کراچی رکن رابطہ کمیٹی وسیم اختر نے بھی میڈیا سے گفتگو کی۔مفتاح اسماعیل نے کہاکہ پیپلز پارٹی کا وفاق میں اور صوبے میں الگ الگ چہرہ ہے۔ سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہاکہ سندھ میں فنڈز کی تقسیم این ایف سی کی بنیاد پر ہونا چاہیے لیکن نیت صاف ہونی چاہیے۔ن لیگ میں فیڈرل ٹیکس ریونیو ڈبل ہوا تو صوبے کو زیادہ پیسہ ملا۔ انہوں نے کہاکہ اندرون سندھ میں پیسہ کہاں لگ رہا ہے۔اگر کراچی کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے تو کہیں تو پیسہ لگے۔ ایم کیو ایم کے سینئر ڈپٹی کنوینئر عامر خان نے کہا کہ پیپلز پارٹی وفاق سے امید لگاتی ہے کہ وفاق میں اپوزیشن سے کسی بل پر مشاورت نہیں کی جاتی۔صوبے میں وہ اسکے برعکس کرتے ہیں۔کسی سے مشاورت نہیں کی اور جعلی اور کھوٹی اکثریت سے بل پاس کرادیا۔جو مئیر کے پاس سروسز ٹیکس، تعلیمی اداروں یا اسپتال کے اختیارات تھے وہ بھی بچے کچے اختیارات چھین لیے۔اب کے ایم سی نام کا کے ایم سی رہ گیا ہے۔یہ جھوٹ بولتے ہیں کہ مشرف دور کا بلدیاتی نظام بحال کررہے ہیں۔ہم احتجاج کررہے ہیں۔ہم اس احتجاج کو بڑھائیں گے۔اگر اسمبلیوں کا گھیرا کرنا پڑا تو کریں گے۔ سابق میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ ایڈمنسٹریٹر کو چاہیے کہ وہ آئیں بائیں شائیں نہ کیا کریں۔یہ باتیں پرانی ہوگئی۔مرتضی وہاب کو چاہیے کہ کے ایم سی کو اختیارات واپس دلوائیں۔وہ جہاں بیٹھیں ہیں انکے پاس پاور ہے۔مراد علی شاہ کے خاص ہیں وہ وہ یہ ڈرامے نہ کریں اس شہر کے لیے کچھ کریں.ایم کیوایم پاکستان کے وفد نے نئے بلدیاتی قانون سازی پر پارٹی کی جانب سے منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔

مزید :

صفحہ اول -