کئی ایئر پورٹس نے شور کم کرنے کیلئے لاﺅڈ سپیکرز کا استعمال ترک کیا تو نئی پریشانی نے سر اٹھا لیا

کئی ایئر پورٹس نے شور کم کرنے کیلئے لاﺅڈ سپیکرز کا استعمال ترک کیا تو نئی ...
کئی ایئر پورٹس نے شور کم کرنے کیلئے لاﺅڈ سپیکرز کا استعمال ترک کیا تو نئی پریشانی نے سر اٹھا لیا
سورس: Pxhere.com (creative commons license)

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) عام طور پر ایئرپورٹس پر سپیکرز کے ذریعے پروازوں کے متعلق اعلانات کیے جاتے ہیں اور مسافروں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ ان کی فلائٹ کب تک اڑان بھرے گی اور انہیں کب تک پرواز میں سوار ہوجانا چاہیے۔ اس سے مسافروں کو تو سہولت ہوتی ہے مگر ایئرپورٹ پر ایک شوربرپا رہتا ہے۔ اب کئی ایئرپورٹس نے اس شور سے نجات کے لیے سپیکرز کا استعمال ترک کر دیا ہے جس سے مسافروں کی پروازیں چھوٹنے کی شکایات عام ہونے لگی ہیں۔ 

دی سن کے مطابق ایسے ایئرپورٹس کو ’سائیلنٹ ایئرپورٹس‘ کا نام دیا جا رہا ہے جو ٹرمینلز پر شور کم کرنے کے لیے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔برطانیہ کے لندن سٹی اور برسٹل ایئرپورٹس بھی انہی سائیلنٹ ایئرپورٹس میں شامل ہو چکے ہیں، جہاں شور کم کرنے کے لیے سپیکرز کا استعمال ترک کیا جا چکا ہے۔

 ان ایئرپورٹس پر اب ایمرجنسی کی صورت میں ہی سپیکرز استعمال کیے جاتے ہیں، جب کسی مسافر کا بچہ گم ہو جائے یا کسی پرواز میں تاخیر ہو جائے۔تاہم ان ایئرپورٹس پر مسافروں کی پروازیں چھوٹنے کی شرح کئی گنا بڑھ گئی ہے، یہ لوگ ایئرپورٹ پر وقت پر پہنچ جاتے ہیں مگر اعلان نہ ہونے کی وجہ سے پرواز میں سوار ہونے سے رہ جاتے ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -