کوئی شک نہیں، ملک میں احتساب ہونا چاہئے،احتساب کے عمل کو یقینی کس نے بنانا ہے؟جسٹس منصور علی شاہ 

کوئی شک نہیں، ملک میں احتساب ہونا چاہئے،احتساب کے عمل کو یقینی کس نے بنانا ...
کوئی شک نہیں، ملک میں احتساب ہونا چاہئے،احتساب کے عمل کو یقینی کس نے بنانا ہے؟جسٹس منصور علی شاہ 

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ میں نیب ترمیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کوئی شک نہیں، ملک میں احتساب ہونا چاہئے،ملک میں احتساب کے عمل کو یقینی کس نے بنانا ہے؟

نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں نیب ترمیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی،عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ اسلام میں حکومتی عہدیداروں کے احتساب کا حکم ہے ،اسلام کے مطابق ملک میں ناانصافی کا ذمہ دار حکمران ہوتا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ عمران خان کے سوا کسی سیاسی جماعت، شہری نے نیب ترمیم چیلنج نہیں کیں،25 کروڑ آبادی میں عمران خان ہی نیب ترمیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

خواجہ حارث نے کہاکہ اگر نیب ترمیم کے خلاف درخواست کی بنیاد ٹھوس نہیں تو عدالت خارج کردے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ آپ نے کہا نیب ترمیم ملکی قانون کے ڈھانچے کو کمزور کر رہی ہیں،عدالت کو یہ نہیں بتایا نیب ترمیم کون سے بنیادی حقوق کے خلاف ہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کوئی شک نہیں، ملک میں احتساب ہونا چاہئے،ملک میں احتساب کے عمل کو یقینی کس نے بنانا ہے؟خواجہ حارث نے کہاکہ احتسابی عمل یقینی بنانے والے خود استثنیٰ حاصل نہیں کر سکتے،عدالت نے کہاکہ نیب ترمیم سے چھوٹ جانے والے کسی اور قانون کے تحت مجرم ضرور ہوں گے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ یہ نہیں ہو سکتا کوئی سب کچھ لوٹ کر گھر بیٹھ جائے گا،ممکن ہے نیب کے علاوہ جو قانون کرپشن پر لاگو ہوتا ہے وہ کمزور ہو،سپریم کورٹ کس اختیار کے تحت احتساب کا سخت قانون بنانے کاحکم دے ؟عدالت نے کیس کی مزید سماعت7 دسمبر تک ملتوی کردی۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -