گھر بیٹھے مسائل کا حل؟

گھر بیٹھے مسائل کا حل؟
گھر بیٹھے مسائل کا حل؟

  

تحریر : زویاب نذیر احمد اسدی

تکنیکی ترقی میں پنجاب کا نہ رکنے والا سفر،سفر کا بیانیہ دیا جائے تو ایک نہ رکنے والا سلسلہ جو ہر بڑھتے قدم کے ساتھ ٹیکنالوجی کی دنیا میں سنگ میل طے کرتے جا رہا ہے چاہے بات صحت کی ہو حفاظت کی یا گھر بیٹھے لائسنس کے اجراء کی اب ہر مسئلہ اک آن لائن کلک کی سہولت بن گیا ہے۔ دنیا میں بڑھتی ٹیکنالوجی اور اس کے استعمال سے نہ صرف انسانی زندگی آسان ہوئی ہے بلکہ وقت کی بچت اور بروقت مسائل کے حل کو بھی یقینی بنایا ہے اگر اس بڑھتے قدم کے ساتھ شانہ بشانہ نہ چلا جائے تو اس صدی میں رہنے کا کیا فائدہ۔

اسی طرح اگر بات کی جائے پنجاب میں صحت  کی تو تقریباً 200ے زائد بیماریاں ایسی ہیں جو کہ خوراک کے نامناسب اور غیر معیاری ہونے کی وجہ سے جان لیوا ثابت ہوتی ہیں جن سے تقریباً ہر سال اموات ہوتی ہیں اس غیر معیاری فروغ کو روکنے کے لئے  پنجاب فوڈ اتھارٹی کے تحت غیر معیاری اشیائے خورو نوش کو تلف بھی کیا اور پنجاب میں خوراک کے معیار کو بہتر کرنے کی کوشش بھی جاری  ہے۔

مگر جہاں نظام ہے وہاں خرابی بھی موجود رہتی ہے جیسے کہ چھوٹے درجے کے نان رجسٹر فیکٹریاں یا دکانیں جو کہ اپنے نان رجسٹر ڈہونے کی وجہ سے فائدہ اٹھا رہی تھیں ان جیسے عناصر کو قابو میں لانے کے لیے چند ایسے اقدامات پنجاب حکومت نے کیے ہیں جن میں سے ایک موبائل فوڈ لیب چیکنگ ہے۔ تمام تر ضروری اشیاء جن میں خوراک سے دوا تک تمام کو چیک اینڈ کنٹرول کیا جاۓ گا جس سے صحت کے ساتھ بیماریوں کی بھی روک تھام ہو گی۔

 اب تک 4 لاکھ شکایات کی نہ صرف بروقت سنوائی ہوئی بلکہ کئی حادثات جن میں لاہور کے 6بڑے دھماکوں میں ملوث افراد کی 48 گھنٹوں میں گرفتاری عمل میں لائی گئی ، ہم ذکر کر رہے ہیں پنجاب کے سیف سٹی کیمروں کا جس سے عالمی سطح پر لاہور سٹریٹ کرائم لسٹ میں بہتری کی طرف جا رہا ہے ، واضح طور پر اس خوش آئند قدم نے اب تک 395 تلاش گمشدہ بچوں اور 6948 وہیکلز کی نشاندہی کی ہے۔

اس پراجیکٹ سے جڑے اک ایسے تکنیکی ایپ کا بھی ذکر ضروری ہے جس سے کہ اب تک کئی واقعات جن میں خواتین جو خود کو غیر محفوظ جانتی ہیں ان کو بھی تحفظ ان کے دروازے تک فراہم کیا گیا ہے، ویمن سیفٹی ایپ کے ذریعے سے اب کسی بھی قسم کے درپیش مسائل جن میں خواتین کو ہراساں کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی سے لے کر بروقت مدد کی سہولت موجود ہے، اس ایپ سے نہ صرف آپکی مدد کی جا سکتی ہے بلکہ اگر آپ خود کا پتہ نہ بھی بتا سکیں تو آپ تک مدد آپ کا موجودہ مقام ٹریس  کر کے بھی فراہم کی جاتی ہے ۔ اک کلک سے اب آپ کا تحفظ یقینی ہے ، اس کے ساتھ آپ کی 15 کو ملائی جانے والی کال بھی بنا ءکسی قسم کے چارجز کے ہے تاکہ عوام تک تحفظ کو یقینی اور بروقت بنایا جا سکے۔

 صحت ہو تحفظ ہو یااب کسی بھی طرح کا سرکاری کام اب ایک پلیٹ فارم پر موجود ہے۔ گو پنجاب ایپ  لوگوں کو آن لائن خدمات پیش کرنے کے لیے بنائی گئی ہے، خاص طور پر ان خواتین کے لیے جو ان سروسز کو اپنے گھر کے آرام سے استعمال کر سکتی ہیں۔جن میں ڈرائیور کے لائسنس کی تجدید اور پاسپورٹ کے لیے درخواست دینا سے لے کر رجسٹری کے اجراء تک ہر سہولت کو ایک دائرے میں باندھا گیا ہے، یہ ایپ حکومتی پروگراموں اور ضوابط کے ساتھ ساتھ پاکستان میں ہونے والی خبروں اور واقعات کے بارے میں حالیہ معلومات بھی دیتی ہے۔

اس ایپ کے استعمال میں پرائیویٹ سکولوں کی رجسٹریشن ، اور اس ایپ کے استعمال سے پنجاب احساس راشن پروگرام کے لیے سائن اپ بھی شامل ہے۔مختلف پروگراموں اور تعلیمی اداروں کی فہرستیں جن میں  صارف تعلیمی اداروں اور پروگراموں کے بارے میں آگاہی، ادارے کی قسم، یا پروگرام کی قسم کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ایپ ہر سکول اور پروگرام کے بارے میں گہرائی سے معلومات فراہم کرتی ہے، بشمول رابطے کی تفصیلات، داخلے کے معیار، اخراجات اور کورس کی پیشکش، آن لائن داخلہ درخواست جمع کروانا اب صارفین کے لیے ممکن ہے، جواس ایپ سے ہی اپنے فارم مکمل کر کے بھیج سکتے ہیں،مزید ان میں نصابی کتابیں، نصاب اور لیکچر نوٹ شامل ہیں۔

 گو ایپ جیسے منصوبے سے نہ صرف سرکاری دفاتر بلکہ عام عوام کی بھی سہولت ہوگی، اب پنجاب کا ہر شہری اپنے موبائل سے بل، پاسپورٹ یا لائسنس سے لے کر ٹیکس تک کی معلومات گھر بیٹھے ایک کلک پر حاصل کر سکے گا۔

نوٹ : ادارے کا مضمون نگار کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں 

مزید :

بلاگ -