"جنرل باجوہ اور بلاول بھٹو میں تلخ کلامی ہوئی ، ڈی جی آئی ایس آئی نے سابق آرمی چیف کو روکا" منصور علی خان کا دعویٰ

"جنرل باجوہ اور بلاول بھٹو میں تلخ کلامی ہوئی ، ڈی جی آئی ایس آئی نے سابق آرمی ...

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اینکر پرسن منصور علی خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کے انتہائی قریبی ذرائع سے بات ہوئی ہے جنہوں نے ان کا موقف پیش کیا ہے۔ اپنے ایک وی لاگ میں منصور علی خان نے کہا کہ جو باتیں وہ بتانے جا رہے ہیں انہیں جنرل باجوہ کا خود کا موقف سمجھا جائے۔

منصور علی خان کے مطابق  8 مارچ کو سائفر آیا، عمران خان نے 10 مارچ کو عمران ریاض کو اس کے بارے میں بتایا، 11 مارچ کو کامرہ ایئر بیس پر میٹنگ ہوئی  جس میں جنرل باجوہ، شاہ محمود قریشی اور اسد عمر موجود تھے، وہاں پر فواد چوہدری بھی تھے لیکن وہ کمرے میں نہیں تھے ،  اس میٹنگ کے اندر جنرل باجوہ سے کہا گیا کہ آپ ہماری حکومت بچائیں اور تحریک عدم اعتماد سے ہماری جان چھڑائیں، اس پر جنرل باجوہ نے کہا کہ ہم نیوٹرل ہوچکے ہیں،  عمران خان کی طرف سے 26 مارچ کو جنرل باجوہ کو پیغام گیا لیکن انہوں نے کہا کہ وہ مذاکرات کرواسکتے ہیں لیکن ڈنڈے کے زور پر تحریک عدم اعتماد واپس نہیں دلواسکتے۔ عمران خان نے پرپوزل دیا کہ تحریک عدم اعتماد  واپس لے لی جائے تو وہ نئے الیکشن کروانے کیلئے تیار ہیں۔ 

منصور علی خان کے مطابق 26 مارچ کو ایک میس کے اندر آصف علی زرداری، بلاول بھٹو، شہباز شریف، مولانا فضل الرحمان اور شاید ان کے صاحبزادے بھی موجود تھے، ان کی جنرل باجوہ سے ملاقات ہوئی جس میں ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ندیم انجم بھی موجود تھے۔  شہباز شریف  تحریک عدم اعتماد کی واپسی کی صورت میں نئے الیکشن کے معاملے پر کسی حد تک راضی ہو رہے تھے لیکن آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمان اور بلاول بھٹو زرداری نہیں مان رہے تھے اور کہنے لگے کہ وہ عمران خان پر اعتماد نہیں کرسکتے، میٹنگ میں گرما گرمی بڑھتی چلی گئی اور اس میں بلاول بھٹو اور جنرل باجوہ کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوگئی۔ اس وقت بلاول نے جنرل باجوہ کو دھمکی کہ جو کچھ آپ ہمارے ساتھ کر رہے ہیں اس کو ہم عوام کے سامنے رکھ دیں گے۔ وہاں ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ندیم انجم نے جنرل باجوہ کو روکا اور ان  سے کہا کہ ہم نے اپنا کام کردیا ہے ، اب ہمیں اس سے آگے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ جب اس میٹنگ سے رزلٹ نہیں نکل سکا تو عمران خان نے اسلام آباد کے جلسے میں سائفر لہرا دیا۔

اینکر پرسن کے مطابق جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ تک امریکی سازش کے بیانیے پر کھیلا گیا، جب جنرل باجوہ ریٹائر ہونے لگے تو کہہ دیا گیا کہ ہم تو امریکہ کے ساتھ تعلقات ٹھیک کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اگلا پنچنگ بیگ جنرل باجوہ کی صورت میں تیار ہوگیا تھا، اب ان کے اوپر حملے ہونے تھے جو شروع ہوچکے ہیں۔ 31 مارچ کو قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ ہوئی جس میں سائفر کے معاملے پر گفتگو ہوئی، اس میں عمران خان شیریں مزاری کو بھی بلاتے ہیں، اس میٹنگ میں کہا گیا کہ آپ جتنا اس کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں، ایسا نہیں ہے، ہمیں اس سے بھی سخت سائفر آتے رہے ہیں۔

مزید :

دفاع وطن -علاقائی -اسلام آباد -