1947ءمیں آزادی نے چھابڑی والوں کو حویلیوں کا مالک بنا دیا

 1947ءمیں آزادی نے چھابڑی والوں کو حویلیوں کا مالک بنا دیا
 1947ءمیں آزادی نے چھابڑی والوں کو حویلیوں کا مالک بنا دیا

  

 مصنف: ڈاکٹر صائمہ علی

قسط:72

شخصی تنقید کے معاملے میں سالک افسانوی اور غیر افسانوی نثر میں کوئی فرق روا نہیں رکھتے مثلاً زمبابوے کے سفر کا چراغ دین (سی ‘ڈی) حقیقی کردار ہے اور اسی کتاب کے مضمون ” 687کلب روڈ“ کا کردار محمد اکرم خان (ایم۔ اے۔کے) چٹھہ فرضی کردار ہے جو مزاحیہ مضمون کا ہے لیکن ان دونوں میں حیرت انگیز مماثلت ہے۔سالک کے ہاں بعض اوقات ا فسانوی اور حقیقی کرداروں میں بے حد مشابہت پائی جاتی ہے۔ مثلاً ”سلیوٹ “ میں عظیم مزاح نگار اور اپنے قریبی دوست سید ضمیر جعفری کے متعلق لکھتے ہیں:

 ”ضمیر جعفری ذرا دیر سے پہنچے جب چھمب جوڑیاں فتح ہو چکا تھا میں نے تاخیر کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے ”میرے سائز کی بیلٹ دستیاب نہ تھی‘ آج دوسری جنگ عظیم کے ایک ریٹائرڈ صوبیدار میجرمل گئے تو ان کی پیٹی مستعارلے کر حاضر ہو گیا ہوں اب جہاں چاہو لانچ کر دو۔“

اب تقریباً یہی الفاظ انہوں نے ”تادم تحریر“ کے مضمون ” سوی¿ٹ ہاﺅس کی رسم بسم اللہ“ میں ایک فربہ حلوائی کے بارے میں لکھے ہیں:

”میَں سمجھ گیا کہ وہ فیلڈ مارشل ہو کر ایک حلوائی کی مدد قبول کرنے سے شرمارہے ہوں گے لہٰذا میَں نے خود ہی وردی سلوا لی ‘ٹوپی خریدلی‘ سکھوں کے وقت کی ایک پرانی تلوار تھی وہ بھی نکال لی لیکن بازار میں کہیں بھی میرے سائز کی پیٹی نہ ملی کئی دنوں بعد دوسری جنگ عظیم کے ایک ریٹائرڈ صوبیدار میجر ملے جو ہر ماہ پنشن وصول کرنے کے بعد ایک پاﺅ مٹھائی مجھ سے خریدتے تھے میَں نے ان کو اپنی پریشانی بتائی تو انہوں نے مجھے اپنی پیٹی دے دی جو پیٹ اندرکھینچنے کے بعد باندھی جا سکتی تھی۔ لیکن وہ اتنی دیر سے ملے کہ اتنے میں چھمب جوڑیاںفتح ہو چکا تھا۔“

نو دو لیتے طبقے پر مزاح برائے تنقید سالک کا مرغوب موضوع ہے ‘ اس ضمن میں وہ اس طبقے کی مغرب پسندی ‘ انگریزی بول چال اور رہن سہن کو خصوصاً طنز کا نشانہ بناتے ہیں مثلاً:

”1947ءمیں آزادی نے جہاں چھابڑی والوں کو حویلیوں کا مالک بنا دیا وہاں اس نے ”رحمو کلرک“ کو بھی افسری سے دوچار کر دیا۔مجھے یاد ہے یہ نئے نئے افسر بنے تو ان کا واسطہ بعض ایسے ا علیٰ افسروں سے پڑا جو دیسی نسل کے افسروں کو اچھی نظروں سے نہیں دیکھتے تھے۔ اسی دور کی بات ہے کہ ”رحمو“ نے اپنے نئے نام کو نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایم۔ آر چودھری کا لبادہ اوڑھ لیا۔ ان کے کئی گاﺅں والے ”رحمو“ کاپوچھتے پوچھتے آتے اور ایم۔ اے چودھری کانقاب دیکھ کر لوٹ جاتے۔“

جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ معاشرے اور فرد پر تنقید کے معاملے میں سالک کا قلم بالترتیب ہمدرد اور تلخ ہے۔ وہ اجتماع پر تنقید کرتے ہوئے تو مزاح کی شگفتگی برقرار رکھتے ہیں لیکن فرد پر طبع آزمائی کرتے ہوئے کوئی رور عایت نہیں کرتے مثلاً مندرجہ بالا اقتباس میں ”رحموکلرک“ کے خاندانی پس منظر اور موجو دہ رویئے کو جس تضحیک آمیز انداز میں پیش کیا ہے وہاں مزاح اپنا اثر نہیں دکھاتا جبکہ اسی مضمون کو جب اجتماعی انداز میں پیش کیا ہے تو طنز کے ساتھ مزاح کی شگفتگی بھی برقرار رہتی ہے۔ مثلاً ”تادم تحریر“ میں ایک میٹرک فیل کالج کے کانووکیشن میں خطاب کے دوران کہتا ہے:

”پرنسپل صاحب نے تعلیمی میدان میں میری خدمات کو سراہتے ہوئے مجھے اپنے علاقے کا ”سر سید“ کہا ہے۔ میں اس خطاب کے لیے ان کا شکر گزار ہوں‘ کیونکہ ہمارے خاندان کو ہمیشہ سے ”سر “ یا ”سید“ بننے کا شوق رہا ہے جو اس سے پہلے کبھی پورا نہیں ہو سکا۔( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )

مزید :

ادب وثقافت -