وہ ساری مصیبتوں اور تکلیفوں سے بے خراش نکل کر آیا تھا، اسے زندگی میں آگے بڑھنے کےلئے بہت لڑائی کی ضرورت پڑنے والی تھی

وہ ساری مصیبتوں اور تکلیفوں سے بے خراش نکل کر آیا تھا، اسے زندگی میں آگے ...
وہ ساری مصیبتوں اور تکلیفوں سے بے خراش نکل کر آیا تھا، اسے زندگی میں آگے بڑھنے کےلئے بہت لڑائی کی ضرورت پڑنے والی تھی

  

مصنف : اپٹون سنکلئیر

ترجمہ :عمران الحق چوہان 

 قسط:98

اسے کام پر پہنچنے کے لیے ہر روز 2 گھنٹے لگتے اور ہفتے کے1 ڈالر20 سینٹ خرچ ہوتے تھے۔ یہ بات ناقا بل  برداشت تھی چناں چہ اس نے اپنا بستر لپیٹا اور اس پولِش رہائش گاہ میں منتقل ہوگیا جو اس کے ساتھی مزدور نے اسے دکھائی تھی۔ وہاں اسے فرش پر سونے کے فی رات 10 سینٹ دینے تھے۔ کھانا وہ خیراتی کاؤنٹر سے مفت کھا لیتا تھا۔ ہر ہفتے کی رات وہ گھر جاتا تو بچائے ہوئے پیسے گھر والوں کے لیے لے جاتا۔ الزبیٹا ڈرتی تھی کہ کہیں اسے ان کے بغیر رہنے کی عادت نہ ہوجائے اور پھر اپنے بچے کو ہفتے میں ایک بار دیکھنا بھی کافی نہیں تھا لیکن اور کوئی صورت بھی تو نہیں تھی۔ اسٹیل کے کارخانے میں کسی عورت کا کام کرنا ممکن نہیں تھا ورنہ تو ماریا بھی اب کام کے قابل ہو گئی تھی اور ہر روز یارڈز میں کام ڈھونڈنے جاتی تھی۔

ایک ہفتے میں یورگس مِل کے ماحول کا عادی ہوگیا۔ اسے شعبوں کی پہچان ہوگئی اور شور شرابے سے بے نیاز ہوکر اپنا کام کرنے لگا۔ دوسرے مزدوروں کی طرح وہ بھی اپنے کام سے کام رکھتا تھا۔ یہ بات دل چسپ تھی کہ مزدور جس کام کو اتنے شوق سے کرتے تھے اس کام میں ان کا کوئی حصہ نہیں تھا۔ انھیں فی گھنٹہ کے حساب سے معاوضہ ملتا تھا اور شوق کا ایک پیسا بھی نہیں ملتا تھا۔انھیں احساس تھا کہ اگر وہ زخمی ہوگئے تو انھیں باہر پھینک کر مکمل فراموش کر دیا جائے گا۔ اس کے باوجود وہ کام کو کم وقت میں پورا کرنے کے لیے خطرناک شارٹ کٹ استعمال کرتے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس میں معمول کے طریقے کی نسبت زیادہ خطرہ ہے۔ نوکری کے چوتھے دن ہی یورگس نے ایک آدمی کو دیکھا جو دوڑتے ہوئے ٹھوکر کھا کر گرا اور اس کا پاؤں گاڑی کے نیچے آکر کٹ گیا۔ تیسرے ہفتے میں اس نے اس سے بھی برا حادثہ دیکھا۔ وہاں ایک قطار میں اینٹوں سے بنی بھٹیاں تھیں جن کے رخنوں سے پگھلے ہوئے فولاد کی سفیدی چمکتی تھی۔ان میں سے کچھ تو خطرناک انداز میں چھلکتی رہتی تھیں پھر بھی لوگ ان کے پاس کام کرتے رہتے تھے۔ صرف یہ احتیاط کی جاتی کہ بھٹیوں کے دروازے کھولتے بند کرتے وقت نیلا چشمہ پہن لیا جاتا۔ ایک صبح یورگس وہاں سے گزر رہاتھا، اس نے دیکھا کہ ایک بھٹی پھٹی اور پگھلا ہوا فولاد 2 مزدوروں پر گر پڑا۔ انھیں زمیں پر گر کر چیختے تڑپتے دیکھ کر یورگس مدد کے لیے دوڑا لیکن اپنی ایک ہتھیلی بری طرح جھلسوا لی۔ کمپنی کے ڈاکٹر نے اس کے ہاتھ پر پٹی کردی۔ کسی نے اس سے شکریے کے دو بول بھی نہیں کہے، الٹا اسے8 دن تک بلا تنخواہ چھٹی کرنا پڑی۔

وہ تو شکر ہے اس دوران الزبیٹا کو پیکرز کے ایک دفتر میں صبح5بجے جاکر فرش پر پونچھا لگانے کی نوکری مل گئی۔ یورگس گھر آکر زیادہ وقت کمبل لپیٹے پڑا رہتا یا ننھے آنٹاناس سے کھیل کر وقت گزارتا۔یوزاپس زیادہ وقت کچرے سے کھانا ڈھونڈنے میں صرف کرتا۔ ماریا اور الزبیٹا مزید کام ڈھونڈنے میں مصروف رہتیں۔

آنٹاناس اب ڈیڑھ سال کا ہوگیا تھا اور بہت بولتا تھا۔ اس کے سیکھنے کی استعداد بہت زیادہ تھی۔ یورگس جب بھی ہفتے بعد گھر آتا، اسے لگتا جیسے وہ ہر بار کسی نئے بچے سے مل رہا ہے۔ وہ بیٹھا اسے دیکھتا اور اس کی باتیں سن سن کر خوش ہوتا رہتا۔ یہ بچہ دنیا میں یورگس کی تنہا خوشی، اکلوتی امید اور واحدکامیابی تھا۔ خدا کا شکر تھا کہ آنٹاناس لڑکا تھا اور کافی سخت جان بھی۔ بھوک تو اسے ہر وقت لگی رہتی تھی۔ اسے کسی بات سے تکلیف نہیں ہوتی تھی۔ وہ ساری مصیبتوں اور تکلیفوں سے بے خراش نکل کر آیا تھا۔ اسے سنبھالنا بھی کوئی آسان کام نہیں تھا۔ لیکن اس کا باپ اس بات سے گھبراتا نہیں تھا وہ تو بس اسے دیکھ کر خوش ہوتا تھا۔ وہ جتنا جنگجو بنے اتنا ہی اچھا ہے۔ اسے زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے بہت لڑائی کی ضرورت پڑنے والی تھی۔( جاری ہے ) 

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -