روسو اور والٹیئر کے خیالات نے پرانے مذہبی، سماجی اور سیاسی ڈھانچے پر کاری ضرب لگائی

روسو اور والٹیئر کے خیالات نے پرانے مذہبی، سماجی اور سیاسی ڈھانچے پر کاری ...
روسو اور والٹیئر کے خیالات نے پرانے مذہبی، سماجی اور سیاسی ڈھانچے پر کاری ضرب لگائی

  

تحریر: ظفر سپل

قسط:55

 روسو نہ تو اب گمنام رہا تھا اور نہ ہی فرانس میں اجنبی، لیکن اسے لگا کہ یہ شہر ابھی تک اسے قبول کرنے میں تردو کا شکار ہے۔ وہ ذرا زیادہ اکتا یا تو1754ء میں تھریسے کو ساتھ لیا اور جنیوا کی طرف نکل کھڑا ہوا۔ راستے میں مادام وارنز کی یاد آئی تو سوائے میں رک گیا۔ مگر مادام سے ملاقات بھی صدمے کا باعث بنی اور وہ اس طرح کہ اب وہاں وہ مادام کہاں تھی جس کو وہ ڈھونڈتا تھا۔ مادام اب 54 برس کی ہو چکی تھی اور بڑھاپے اور تنگدستی نے اس کے خدوخال مسخ کر دیئے تھے۔ جب وہ جنیوا پہنچا تو مادام ایک بار پھر اس سے ملنے کے لیے وہاں پہنچی، مگر تنگدستی کا یہ عالم کہ تھریسے کو تحفتاً کچھ دینا چاہتی تھی، مگر اس کے پاس دینے کو کچھ نہ تھا۔ اور تو کچھ نہ کر سکی، اپنے ہاتھ کی انگلی میں پہنا ہوا سونے کا چھلا اتارا اور اضطراری طور پر تھریسے کو پہنا دیا۔ تھریسے یہ سب دیکھ اور سمجھ کر جذباتی ہوگئی۔ روتے ہوئے مادام کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لے کر بار بار چوما اور آنسوﺅں سے تر ہاتھ کی انگلی میں چھلا دوبارہ پہنا دیا۔

 اب جنیوا میں آمد پر اسے ایک اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ جب وہ اپنے وطن جنیوا سے بھاگا تھا تو اس نے اپنا پروٹسٹنٹ عقیدہ بھی ترک کر دیا تھا اور اس کے ساتھ ہی وہ جنیوا کے شہری حقوق سے بھی محروم ہوگیا تھا۔ تو اب کیا کیا جائے؟ اب اس نے ایک بار پھر اپنا عقیدہ تبدیل کیا اور پروٹسٹنٹ بن گیا، مگر اس کے باوجود جنیوا کو اسے ایک بار پھر چھوڑنا پڑا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ان دونوں والٹیئر جنیوا میں ڈیرے ڈالے ہوئے تھا اور روسو کو اندیشہ تھا کو والٹیئر کی موجودگی میں جنیوا میں اس کی شخصیت دب کر رہ جائے گی۔

 یہ روسو اور والٹیئر کا معاملہ بھی عجب ہے!

 روسو اور والیئر دونوں ہم عصر تھے۔ عمر میں والٹیئر روسو سے16 سال بڑا تھا۔ دونوں کا تعلق نچلے درمیانے طبقے سے تھا۔ مگر والٹیئر نے اپنی چالاکیوں اور اثر و رسوخ سے بہت سی دولت اکٹھی کر لی تھی اور اپنا رہن سہن شاہانہ بنا لیا تھا۔ روسو نے اس کے برعکس ہمیشہ درویشانہ زندگی بسر کی۔ والٹیئر مجلسی زندگی کا دلدادہ تھا، امراءسے اس کے تعلقات تھے، خوبصورت عورتوں اور نوجوانوں کا وہ محبوب تھا، ہنس مکھ تھا، تیز طرار تھا، جملے باز تھا۔ دوسری طرف مفلوک الحال، الگ تھلگ زندگی گزارنے والا اور مسکین الطبع روسو تھا۔ والٹیئر مذہب کا باغی تھا، جبکہ روسو ایک مذہبی شخص۔ گویا والٹیئر زندہ دل اور خوش باش لوگوں کا نمائندہ ہے اور روسو افتادگان خاک کا… یہ قدرے… زیادہ نہیں، قدرے… وہی صورت حال ہے جو ہمارے عہد کے 2نمائندہ تخلیق کاروں… فیض احمد فیض اور احمد ندیم قاسمی کے تعلق کے حوالے سے سامنے آئی۔

 ایک اور معاملہ بھی عجیب اور تاریخی طور پر پراسرار ہے! اور وہ یوں کہ جب بھی انقلاب فرانس کا ذکر آتا ہے، بطور ہیرو روسو اور والٹیئر کا نام لیا جاتا ہے۔ گویا دو شعلہ فسوں فلسفی ہوں جو انقلاب فرانس کے تندور کو بھڑکا رہے ہوں۔ یہ تو درست ہے کہ دونوں کے خیالات نے پرانے مذہبی، سماجی اور سیاسی ڈھانچے پر کاری ضرب لگائی اور سماج نئی انقلابی تبدیلی کے تیار ہوگیا، مگر دونوں انقلاب کے وقت موجود نہیں تھے۔ والٹیئر نے فرانس میں مذہب کی بالادستی کے خلاف بغاوت کی، مگر قاضی جاوید صاحب کے مطابق، وہ شاہ پرست تھا اور اگر انقلاب کا تندور اس کی زندگی میں ابل پڑتا تو ممکن ہے وہ انقلابیوں کی بجائے شاہ پرستوں کی صف میں کھڑا ہوتا۔ ایسا ہی معاملہ روسو کا ہے۔ وہ ایک مذہب پرست آدمی ہے۔ اس نے انفرادی آزادی اور شہری حقوق کی وکالت کی، مگر اس کے نظریات میں کہیں بھی کھلے طور پر انقلاب کا پیغام نہیں ہے۔

 خیر، یہ تو الگ بات ہے۔1755ءمیں لزبن کے شدید زلزلے کے بعد روسو اور والٹیئر کے تعلقات اس وقت ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئے، جب والٹیئر نے کہا کہ یہ کیسا خدا ہے جو بے نیازی سے اپنی ہی مخلوق کو روند ڈالتا ہے۔ اور روسو کا خیال تھا کہ یہ افتاد لوگوں پر اس لیے پڑی کہ وہ کئی منزلہ اونچی عمارتوں میں رہتے تھے۔ اگر وہ جنگلوں میں رہتے ہوتے تو ضرور اس مصیبت سے بچ جاتے۔(جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -