ہڑپہ کے تمدن کی نشاندہی 

ہڑپہ کے تمدن کی نشاندہی 
ہڑپہ کے تمدن کی نشاندہی 

  

مصنف: سرمور ٹیمر وھیلر

ترجمہ:زبیر رضوی

قسط:6

کالی بنگن کا مشرقی اور کم اونچا ٹیلہ شروع سے ہی ہڑپہ کے تمدن کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ ایک قصبہ تھا جو زیادہ بڑا نہیں تھا اور جس کے لیے کوئی قلعہ بندی نہیں کی گئی تھی۔ قصبے کی سڑکیں اور گلیاں سیدھی اور متوازی تھیں اور مخصوص مقامات پر مڑتی تھیں‘ کچی اور پکی اینٹوں سے بنے آنگن والے مکانوں میں پکی اینٹوں کی نالیاں ہیں اور ہڑپہ جیسا سامان لگاتار5 تہوں تک پایا گیا ہے۔ دونوں ٹیلوں کے جنوب‘ مغرب کی طرف ایک قبرستان کی شناخت کی گئی ہے جس میں مُردوں کو ہڑپہ کے خصوصی انداز میں دفنایا گیا تھا شمالاً‘ جنوباً۔ سرشمال کی طرف۔ قبر میں بہت سے مٹی کے برتن تھے۔ سندھ کی تہذیب کے اہم اور کم اہم دونوں طرح کے مقامات پر کسی نہ کسی طرح سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ دھیرے دھیرے ایک خصوصی شہری ترتیب کا تعیّن ہورہا ہے۔ قلعہ‘ نچلی سطح پر شہر اور قلعے کے قریب قبرستان۔ کچھ تبدیلیوں کا ہونا قدرتی ہے خاص کر چھوٹے مقامات پر۔

موہن جوداڑو کے کوئی 80 میل جنوب چاہنوداڑو میں ہڑپہ تمدن کے ایک چھوٹے قصبے کی جزوی طور پر کھدائی کی گئی ہے۔ بظاہر وہاں بڑے شہروں کی طرح کا قلعہ نہیں ہے لیکن دوسری باتوں میں وہ انہی کے ڈھنگ کا ہے۔ اس میں بھی نالیاں ہیں‘ پکی اینٹوں کے مکان ہیں اور کچی اینٹوں کے چبوترے ہیں جو چڑھتے ہوئے سیلاب کی سطح سے اوپر رہنے کی متواتر کاوشوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ایک اور چھوٹا قصبہ موہن جوداوڑ کے 1450 میل جنوب مشرق میں کاٹھیاواڑ کے سمندری کنارے والے میدانی علاقے میں لوتھل میں پایا گیا ہے۔ اس قصبے کی کچھ زیادہ انفرادی خصوصیات ہیں۔ وہاں یا اس مقام کے کم سے کم اس حصے میں جس کی اب بغور شناخت کی گئی ہے۔ سطح کو اٹھانے کے لیے گارے یا کچّی اینٹوں کا استعمال کیا گیا تھا لیکن ساتھ ہی نچلی سطح پر ایک قصبہ بھی تھا۔ مکانوں کی تعمیر کے لیے کالی بنگن کی طرح پکی اور کچّی اینٹوں سے کام لیا گیا تھا۔ اگرچہ حمام‘ نالیاں‘ کنویں اور بھٹے مکمل طور پر پکی اینٹوں سے تعمیر کیے گئے تھے اور سندھ کی تہذیب کی عام ساخت کے نمونے کے تھے۔ اونچی بستی کے نیچے کی تہہ میں ایک دوسرے کو کاٹتے ہوئے بند نلوں کا سلسلہ تھا جو کچّی اینٹوں کے بلاکوں کے بیچ بٹھائے گئے تھے۔ ہر بلاک 12 فٹ مربع تھا۔ شاید یہ موہن جوداڑو کے اناج کے گودام کے ڈھنگ کے کسی گودام کا بنیادی حصہ تھا۔

اچانک اس میں آگ لگ گئی تھی اور قیاساً اوپر واقع ذخیرے میں موجود گانٹھوں پر لگی مہریں پک کر ان نلوں میں گر گئی تھیں۔ پاس ہی ٹیلے کے ایک سرے پر ایک قابل توجہ مستطیل گھیرا ہے جو 710 فٹ لمبا اور 120 فٹ چوڑا ہے اور جس کے دونوں طرف مضبوطی کے لیے پکی اینٹوں کی چنائی کی گئی تھی۔ اس کی جہازی گودی کے طور پر شناخت کی گئی ہے۔ آگے چل کر لوتھل کا اور ذکر کیا جائے گا۔

ان مثالوں سے سندھ کی تہذیب کے شہروں کی عام خصوصیات کا پتہ چل جاتا ہے ان کے فنِ تعمیر کے جو نشانات بچے ہیں ان سے اس کا بہت ہی سادہ ہونا ظاہر ہوتا ہے لیکن ممکن بلکہ اغلب ہے کہ سادہ تعمیر کے ساتھ ساتھ لکڑی کا بہت سا کام ہوتا تھا۔ اگرچہ لکڑی کے آثار کہیں بھی زمین کی سطح کے اوپر نہیں بچے ہیں پھر بھی ہند میں لکڑی کے استعمال کی شاندار روایت سے شناسا کسی بھی آدمی کے سامنے اس امکان کا آنا لازمی ہے۔( جاری ہے )

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -