ہلکی بارش اور پھوار، سموگ میں وقتی کمی،شدت میں پھر اضافہ!

ہلکی بارش اور پھوار، سموگ میں وقتی کمی،شدت میں پھر اضافہ!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور میں ہفتہ رفتہ کے دوران ہونے والی ہلکی بارش اور پھوار کے باعث سموگ میں بڑی حد تک کمی ہوئی تاہم موسم خشک ہونا شروع ہو گیا ہے اور آج کیفیت پہلے جیسی ہو چکی اور دوپہر میں بھی زبردست سموگ تھی۔صوبائی حکومت نے بہتری ہو جانے پر سمارٹ لاک ڈاؤن ختم کر دیا تھا، اور اب بھی حالات ویسے ہیں۔شہریوں کی کم تعداد نے ماسک لینے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔بھاری ترین اکثریت نے یہ نصیحت نظر انداز کر دی اور معمول کی مصروفیات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اسی موسم کے دوران لاہور آئندہ انتخابات کے حوالے سے سیاسی سرگرمیوں کا نظارہ کر رہا ہے۔مسلم لیگ(ن) کے مسلسل اجلاس ہو رہے ہیں اور مختلف ڈویژنوں سے آنے والی امیدواروں کی درخواستوں کی روشنی میں انٹرویوز کا سلسلہ جاری ہے۔اس کا آغاز سرگودھا ڈویژن سے ہوا، پھر راولپنڈی کے امیدواروں نے ٹیسٹ دیئے اور آج کے روز ہزار ڈویژن والے بلائے گئے ہیں اس اجلاس میں محمد نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز بھی شریک ہوتی ہیں اور باقاعدہ جانچ پڑتال ہوتی ہے جو امیدوار بلائے جا رہے ہیں وہ سب درخواستوں کی چھان بین کے بعد شارٹ لسٹ ہیں۔

دریں اثناء پاکستان مسلم لیگ(ن) اور جمعیت علماء اسلام(ف) کے درمیان سیاسی مفاہمت اور بڑھی اور اب مل کر چلنے کے لئے حتمی فیصلہ ہو گیا۔جمعیت علماء اسلام(ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن اپنی جماعت کے بھاری بھر کم وفد کے ساتھ ماڈل ٹاؤن آئے۔محمد نواز شریف اور محمد شہباز شریف نے ان کو خوش آمدید کہا اور دفتر سے باہر آ کر استقبال کیا جس کے بعد مذاکرات ہوئے اور طے پا گیا کہ باہمی تعاون ہو گا اور مل کر چلیں گے، خصوصی طور پر سندھ اور بلوچستان میں مشترکہ اور متحدہ کوشش ہو گی۔پنجاب میں جہاں ممکن ہوا سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو گی۔مولانا فضل الرحمن کی یہ دوسری ملاقات ہے اس سے قبل اسلام آباد میں دونوں رہنما مل چکے تھے اور دوبارہ مذاکرات کا فیصلہ ہوا تھا جو پیر کو ہوئے اور معاملات طے پا گئے۔یہ بھی فیصلہ ہوا کہ سندھ میں مسلم لیگ(ن)، جے یو آئی،جی ڈی اے اور ایم کیو ایم مل کر امیدواروں کا فیصلہ کریں گے اور مضبوط امیدوار نامزد کئے جائیں گے۔

یوں اب تکنیکی اور سیاسی اعتبار سے مسلم لیگ(ن)، ایم کیو ایم اور جمعیت علماء اسلام(ف) کی راہیں پیپلزپارٹی سے جدا ہو گئی ہیں۔قائد مسلم لیگ(ن) نے پاکستان آمد سے قبل اور آنے پر عندیہ دیا اور اعلان کیا تھا کہ وہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کریں گے اور ملیں گے۔پیپلزپارٹی کے آصف علی زرداری نے ان کو آمد پر خوش آمدید کیا تھا تاہم ہر دو کے درمیان ان کے بعد کوئی رابطہ نہیں ہوا اور موجودہ حالات میں شاید اب نہ بھی ہوا اور یہ جماعتیں اپنی اپنی حکمت عملی کے تحت انتخابات میں حصہ لیں گے۔

جہاں تک پاکستان پیپلزپارٹی کا تعلق ہے تو ابھی تک پنجاب میں اس کی طرف سے کوئی خاص سرگرمی نظر نہیں آئی۔ آصف علی زرداری لاہور آئے لیکن ان کی آمد ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لئے تھی،ابھی ان دونوں باپ بیٹے نے بلوچستان اور خیبرپختونخوا پر نگاہ جما رکھی ہے۔ بلوچستان کا چار روزہ دورہ خود آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے مشترکہ طور پر کیا، جبکہ خیبرپختونخوا میں بلاول متعدد جلسے کر کے آئے اور اب پھر چار روزہ دورے پر گئے ہیں۔

برسر زمین جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق تحریک انصاف کے حامی ووٹر ابھی تک ثابت قدم ہیں،لیکن قیادت اور امیدوار نہیں ہیں، مرکزی سطح پر جماعت اور جماعت کا انتخابی نشان ”بلا“ بچانے کے لئے نیا چیئرمین منتخب ہونا انتخابی عمل میں شریک ہونے کے لئے لیکن ابھی تک یہ غیر یقینی ہے کہ کیا امیدوار ملیں گے اور وہ انتخابی عمل میں شریک بھی ہوں گے؟

٭٭٭

 عوام اپنی روزمرہ مصروفیات جاری رکھے ہوئے ہیں 

مسلم لیگ(ن) اور جمعیت علماء اسلام(ف) میں پکا اتحاد

 مل کر انتخاب میں حصہ لیں گے،مولانا فضل الرحمن کی 

مسلم لیگی قیادت سے ملاقات میں فیصلہ!

پیپلزپارٹی کی توجہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا پر

 مرکوز،پنجاب میں سرگرمیاں شروع نہیں کی گئیں!

2

مزید :

ایڈیشن 1 -