ہم غزہ والوں سے شرمندہ ، اعتزاز احسن ، ایک جماعت نے جمہوریت کا جنازہ نکال دیا :_© فردوس عاشق

  ہم غزہ والوں سے شرمندہ ، اعتزاز احسن ، ایک جماعت نے جمہوریت کا جنازہ نکال ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

                                                            لاہور( فلم رپورٹر،نمائندہ خصوصی) استحکام پاکستان پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ سیاسی طور پر عدم استحکام کے شکار وطن عزیز کو استحکام کی اشد ضرورت ہے، پاکستان کو پولرائزیشن کا شکار کر کے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا ہے، استحکام پاکستان پارٹی ملک کو خوشحالی اور استحکام کی راہ پر گامزن کرے گی، وہ گزشتہ روز نجی ہوٹل میں سنیئر صحافی و اینکر سہیل وڑائچ کی شخصیت پر لکھی جانے والی کتاب "سہیل وڑایچ کی کہانی" کی تقریب رونمائی کے موقع پر خطاب اور میڈیا سے گفتگو کر رہی تھیں۔تقریب سے روز نامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی،سنیئر صحافی سلمان غنی،سنیئر صحافی ارشاد احمدعارف،رہنما مسلم لیگ( ن) عطا تارڑ،نور الحسن تنویر، مفتی منیب الرحمن، علامہ راغب نعیمی، سنیئر قانون دان چودھری اعتزاز احسن،تجزیہ کار حبیب اکرم ، توفیق احمد بٹ،سہیل وڑائچ، سجادمیر،شاہد قادر،ضیاءالحق نقشبندی ،شازیہ ذیشان سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ آج کی صحافت جماعتوں میں بٹ چکی جو اس شعبے کی روح کے منافی ہے۔ شعبہ صحافت سے وابستہ افراد کو سیاست صرف الیکشن والے دن ہی کرنی چاہئے باقی دنوں میں ملک کی خدمت کریں۔ انہوں نے کہا کہ سیاست دان کسی بھی پارٹی میں ہو محب وطن ہوتا ہے،مگر اس کا طرز فکر عام آدمی سے مختلف ہوتا۔ سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جو نظام کو بدلنے آیا تھا وہ اب بار بار اپنے بیانات بدل رہا ہے۔ لوگ اس کی حقیقت جان چکے ہیں۔انتہائی افسوس کا مقام ہے ایک جماعت کا سربراہ جو ملک کو بدلنے آیا تھا سوچ کو بدلنے آیا تھا۔ جس جماعت نے نوجوانوں کو نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا اس جماعت نے جمہوریت کا جنازہ نکال دیا ہے۔ اپنے بنائے ہوئے اصولوں کو توڑا اور ایسے شخص کو پارٹی کاچیئرمین بنا دیا جسے کچھ نہیں پتہ ہی نہیں۔ لوگوں کا جمہوری حق مارا گیا ہے۔ جو اخلاقی بد دیانتی کی ہی ایک صورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مختلف شہروں میں عوامی جلسے کرانا سیاسی گہمی گہمی ہے۔ آئی پی پی نے ان شہروں میں جلسے کئے جہاں بڑی جماعتیں جلسہ کرنے سے ڈرتی ہیں۔ آئی پی پی ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے جلد ہی سی اے سی کی مینٹگ بلائے گی جبکہ ہمارے تمام پارٹی لیڈر پاکستان میں ہی موجود ہیں اس لئے ہمیں کوئی عجلت نہیں۔ اس سے قبل وہ تقریب سے خطاب کر رہی تھیں جہاں انہوں نے معروف صحافی سہیل سرور وڑائچ کی شخصیت اور ان کی شعبہ صحافت میں گرانقدر خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ لوگوں کے دلوں پہ راج کرنے والے معروف اینکر پرسن اور صحافی سہیل وڑائچ میرے سیاسی، سماجی اور معاشرتی استاد ہیں، وہ ایک کہنہ مشق صحافی اور کتاب دوست انسان ہیں۔ میری خواہش ہے کہ آج کی گفتگو سیاست سے پاک ہو سہیل وڑائچ تمام سیاسی جماعتوں کے مشترکہ پسندیدہ ہیں۔ ہر سیاسی جماعت سہیل وڑائچ کی سخت باتوں کو بھی بآسانی برداشت کر لیتی ہے سہیل وڑائچ نے اپنے صحافتی نقطہ نظر سے اس معاشرے کو بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سہیل وڑائچ نے کسی پہ تنقید بھی اس خوبصورت انداز میں کی کہ سہا جا سکے کیونکہ یہ تنقید برائے اصلاح ہوتی ہے سہیل وڑائچ نے اپنی تحریرو صحافت سے جمہوری اقدار سوچ اور رویوں کو پروان چڑھایا۔ انہوں نے خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سہیل وڑائچ کا میری والدہ کیساتھ ماں بیٹے کا رشتہ تھا جس کی میں مقروض ہوں۔ قلم کی طاقت سے سہیل وڑائچ نے ہر طبقے کے لوگوں کو عزت دی۔ روز نامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی نے کہا ہے کہ اس بات کی سمجھ نہیں آرہی ہے کہ سہیل وڑائچ نے جو کتاب لکھی ہے اس پر خراج تحسین ضیا ءالحق نقشبندی کو دوں ےا پھر سہیل وڑائچ کو جنہوں نے یہ کتاب مرتب کی ہے اس کتاب میں سہیل وڑائچ کی محنت ہمت اچھی طرح سے نظر آرہی ہے کہ یہ ایک کتاب ایک خود نوشت بھی ہے اور ایک سوانح حےات بھی ہے سہیل وڑائچ میرے پسندیدہ قریبی ساتھیوں میں سے ہیں میں ان کو دیکھ کر رشک بھی کرتا ہوں ان کے لئے دعا بھی کرتا ہوں اوران سے سیکھتا بھی ہوں میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت پاکستان کو سہیل وڑائچ کے لہجے ان کے انداز کی ضرورت ہے جو پہلے شائد کبھی نہ تھی اس وقت سب خود ہی ایک دوسرے کے دشمن بن بیٹھے ہیں اختلافات کی حدود و قیود کو بھی پھلانگ چکے ہیں سلیقہ قرینہ بھی بھول چکے ہیں سہیل وڑا ئچ اپنے لہجے سے لوگوں کو جوڑپاتے ہیں یہ پل کا کردار ادا کرتے ہیں یہ مختلف مکاتب فکر کے درمیان رول ماڈل بن چکے ہیں اس کتاب سے پتہ چلتا ہے کہ کتنی محنت ،محبت اور لگن کے ساتھ ان کی تشکیل ہوئی اور یہ کیسے آگے بڑھے ان سے جب ان کی کتاب میں سوال کیا گیا کہ آپکے رول ماڈل کون ہیں تو انہوں نے جواب میں بتایا کہ میرے رول ماڈل آپ سرکارہیں جن کے آئیڈیل ہی آپ سرکار ہوں اور جو شخص اپنے قائد حقیقی کو ہی اپنا رول ماڈل مانتا ہو وہ انسان کتنا اچھا ہوگا جوان کی تعلیمات پر عمل کر لے گا اس معاشرے کی تقسیم خود بخود ہی بہتر ہوتی چلی جائے گی آج ےہاں آکر ان سے رفاقت مزید وسیع ہو گئی ہے ان کے دنیا میں رول ماڈل نوابزداہ نصراللہ خان تھے جو سیاست دانوں کو جوڑتے تھے سیاسی اتحاد بناتے تھے لوگوں کو آپس میں ملاتے تھے میں سہیل وڑائچ کو صحافت کا نوابزادہ نصراللہ خان قرار دیتا ہوں آئیے ہم سب ان کے ساتھ مل جائیں پاکستان کو مضبوط بنائیں نفرتوں کو دفنا دیں احترام سلیقے قرینے کے ساتھ آگے بڑھیں،سینئر قانون دان چودھری اعتزاز احسن نے کہا کہ ہم غزہ والوں سے شرمندہ ہیں وہ بھوکے پیاسے لاشیں بھی اٹھارہے ہیں مگر اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو روشن اور بہتر بنانے کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں آج حماس کی جرات اور بہادری کی وجہ سے مغرب والے یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ یہ جنگ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان نہیں بلکہ حماس اور اسرائیل کے درمیان ہے وہ وہاں سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں ان کے ڈاکٹرز بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں وہ اپنی آنے والی نسلوں کے لئے ایک مضبوط ورثہ چھوڑنے کی کوشش کررہے ہیں ایک طرف ہم ہیں جو امپورٹڈ چیزوں کے پیچھے بھاگتے ہیں چین نے ہم سے بعد میں جدوجہد شروع کی مگر آج وہ اپنے پیٹ پر پتھر مارنے کیو جہ سے ہم سے اتنا آگے بڑھ گیا کہ وہ دوسری سپر پاور بن گیا چین کے لوگ جب پاکستان شاہراہ قرارم کام کے لئے آئے تو وہ اپنے صدر ماﺅ کی وجہ سے ابلے ہوئے سادہ پانی کوو ائٹ چائے سمجھ کر پیتے تھے دوسری طرف ہمارے لوگ تھے جن کے لئے گاڑےوں میں ہریسے،چرغے اور انواع و اقسام کے کھانے بھجوائے جاتے تھے ےہی فرق ان میں اور ہم میں ہے ہمارے حکمرانوں نے اربوں کھربوں روپے کے قرضے بیرون ممالک سے بھی لے لئے اور اپنے بینکوں سے بھی لئے یہ رقوم کہاں خرچ کی گئی اس کا کسی کو علم نہیں اتنے اربوں کھربوں روپے سے تو ملک میں بلٹ ٹرین،ہوٹل اور نہ جانے کیا کچھ بن سکتا تھا اور کچھ نہیں تو ہم بینکاک کی طرز کی ہی ترقی کر سکتے تھے مگر ایسا نہیں ہوا نہ ہی ہم میں سے کوئی سوچ رہا ہے کہ آنے والی نسل کے لئے ہم کیا چھوڑ کر جارہے ہیں میرا خیال تھا کہ آج اسی ایشو پر بات ہو گی بحر حال میں بھی وڑائچ ہوں سہیل بھی ہے لوگوں کا خیال تھا کہ وڑائچ ہیں تو گنڈاسے سے بات شروع ہو گی لیکن ان کے آباﺅ اجداد تو پڑھے لکھے ہیں یہ خود بھی پڑھے لکھے ہیں ایک ہی ادارے میں انہوں نے ساری زندگی گزار دی اس سے زیادہ استقامت ان میں اور کیا ہوگی۔ سہیل وڑائچ نے تمام معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنے آپ سے عہد کیا ہوا ہے کہ جو سچ ہے وہ ہی بیان کروں گا چاہے اس کا جو بھی نتیجہ ہو۔میں نے جب صحافت کا آغاز کیا تھا تو میرا یہی فیصلہ تھا کہ ہمیشہ سیدھے راستے پر چلنا ہے ۔توفیق احمد بٹ،عطا محمد تاڑر،سجاد میر،حبیب اکرم،ارشاد احمد عارف،سلمان غنی،شاہد قادر سمیت دیگر مقررین نے کہا کہ سہیل وڑائچ صحافت کی دنیا میں نمایاں مقام رکھتے ہیں،انہوں نے ہمیشہ حق سچ کی آواز بلند کی ہے۔موجودہ دور میں کلمہ حق بلند کرنا کوئی عام بات نہیں ہے۔دوران تقریب سہیل وڑائچ کو خصوصی دستار پہنانے کے علاوہ ان کو گلدستہ بھی پیش کیا گیا۔ 

تقریب رونمائی

مزید :

صفحہ آخر -