سینیٹ کمیٹی کا پائلٹ لائسنس بحال کرنے کیلئے سول ایوی ایشن کو 15دن کا الٹی میٹم 

    سینیٹ کمیٹی کا پائلٹ لائسنس بحال کرنے کیلئے سول ایوی ایشن کو 15دن کا الٹی ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

                                                اسلام آباد(این این آئی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد وضوابط نے جعلی پائلٹ لائسنس بحال کرنے کیلئے سول ایوی ایشن اتھارٹی کو 15دن کا الٹی میٹم دے دیا تاہم ڈی جی سول ایوی ایشن نے جعلی لائسنس بحال کرنے سے دوبارہ انکار کردیا.سینیٹر سلیم مانڈوی والا،سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے جعلی لائسنس بحال نہ کرنے پر ڈی جی سول ایوی ایشن کو معطل کرنے کامطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ جب تک جعلی لائسنس بحال نہ ہوں ان کو معطل کیا جائے۔منگل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط کا چیئرمین سینیٹر طاہر بزنجو کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔اجلاس میں ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے خلاف تحریک استحقاق کا جائزہ لیا گیا۔سینیٹر سلیم مانڈوی والانے کہاکہ پائلٹس کے مسئلے پر ذیلی کمیٹی بنی تھی جس نے انکوائری کی، اس کی رپورٹ مرکزی کمیٹی نے اور سینیٹ نے اڈاپٹ کی،ڈی جی سول ایوی ایشن نے کہاکہ سول ایوی ایشن نے ایک انکوائری بنائی، 262 کیسز کا دوبارہ جائزہ لیا، کل 83 کیسز بنے، ایک معطلی اور ایک لائسنس کی منسوخی کی کلاس بنی، ہم یا لائسنس معطل کرسکتے ہیں یا منسوخ کر سکتے ہیں، اس کیس کا سپریم کورٹ نے سوموٹو نوٹس بھی لیا ہوا تھاکریمنل کاروائی کی ہدایات آئیں، 24 جولائی کو ایف آئی اے کو لیٹر لکھا،ایف آئی اے نے ایف آئی آرز درج کیں، ان کیمرا بریفنگ دے دیتا ہوں،انٹرنیشنل میڈیا چیزوں کو اٹھا لیتا ہے،ایف بی آر نے پی آئی اے کے اکاؤنٹ فریز کئے، میڈیا پر خبریں چلیں،ایاسا نے میٹنگ میں پہلا سوال یہ کیا کہ اکاؤنٹ فریز ہوئے ہیں،پی آئی اے کیسے چلے گی؟ اس لیے اس کمیٹی کو ان کیمرا کردیں۔سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہاکہ انہوں نے ایوی ایشن انڈسٹری کو ڈیمیج کیا،جتنا نقصان سول ایوی ایشن نے ایوی ایشن کو پہنچایا ہے،کسی نے نہیں پہنچایا،ایف آئی اے نے خود عدالت میں بیان دیا ہے کہ ایف آئی آر ان کے کہنے پر کاٹی ہے،آج تک یہ جھوٹ بول رہے ہیں،اس لئے تحریک استحقاق لانی پڑی، یہ مسلسل ہمیں مس لیڈ کر رہے ہیں، اس تحریک استحقاق کو منظور کیاجائے، ہمیں ان کو عہدے سے ہٹانیکا مطالبہ کرنا چاہیے،ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کہاکہ پائلٹس کے مسئلے کی حساسیت میں نے آپ کو بتادی۔سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہاکہ یہ ذاتی مسئلہ نہیں ہے، انہوں نے جوکمٹمنٹ کی اس پر یہ عملدرآمد نہیں کر رہے یہ کمیٹی کو چیلنج کررہے ہیں اور سارے پراسس کو چیلنج کر رہے ہیں۔سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے کہاکہ آپ نے جو کمٹمنٹ دی تھی،کیا ایسا ممکن ہے کہ آپ کو وقت دیا جائے تو کمٹمنٹ پر عمل کرسکیں؟وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے کہاکہ یہ بہت واضح ہے کہ ڈی جی عدالت کے فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے، یہ فیصلہ کس تاریخ کو آیا؟ کیا اس کو انہوں نے چیلنج کیا ہے؟ سلیم مانڈوی والا  نے کہاکہ اس میں وہ پائلٹ شامل ہیں جو دس ہزار گھنٹے جہاز چلا چکے ہیں، اس میں وہ پائلٹ بھی شامل ہیں جو ریٹائرڈ ہو چکے ہیں۔ ڈی جی سول ایوی ایشن نے کہاکہ عدالت  میرٹ پر فیصلہ کرے،عدالت نے کیس کے میرٹس پر فیصلہ نہیں کیا، سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہاکہ عدالت کا آرڈر ہے، آپ اس پر عمل کریں۔سلیم مانڈوی والا نے کہاکہ اگر یہ کہہ دیتے کہ ہم عدالت کا فیصلہ نہیں مانیں گے تو ہم کمیٹی کی کاروائی بند کرلیتے، ایوی ایشن ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کمیٹی نے ہدایات دے دی ہیں ہم یہ معاملہ کابینہ میں لے جاتے ہیں، سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے کہاکہ جب تک مسئلہ حل نہیں ہوتا،ڈی جی سول ایوی ایشن کو معطل کو کیا جائے، ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کہاکہ ہمارے پاس کچھ پائلٹس کی درخواستیں آئی ہیں، ان کا دوبارہ جائزہ لے لیتے ہیں 

سینیٹ کمیٹی

مزید :

صفحہ آخر -