بجلی کی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی بدعنوانیاں 

بجلی کی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی بدعنوانیاں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے اوور بلنگ کے حوالے سے 14صفات پر مشتمل اپنی تین رکنی کمیٹی کی رپورٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) نے 30 دنوں سے زیادہ کی ریڈنگ لے کر ایک کروڑ سے زائد صارفین کو اضافی بل بھیجے۔ نیپرا نے اوور بلنگ کرنے والی تمام کمپنیوں کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے ان سے اِس سلسلے میں وضاحت طلب کر لی ہے۔ نیپرا نے ایک ماہ میں خراب میٹر تبدیل اور غلط بل صحیح نہ کرنے پر قانونی کارروائی کا انتباہ جاری کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈسکوز کی جانب سے اوور بلنگ کی وجہ سے 51 لاکھ سے زائد صارفین کو 32دن،25لاکھ کو 33دن اور10لاکھ سے زائد صارفین کو34 دن کے بل بھیجے گئے اس کے علاوہ پانچ لاکھ سے زائد صارفین کو 35 دن، تین لاکھ سے زائد کو 36 دن اور دو لاکھ سے زائد کو37 دنوں کا بِل جبکہ چھ لاکھ سے زائد صارفین کو38 سے40دن تک کے بل بھیجے گئے۔ رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ جن صارفین کو30دنوں سے زائد کی ریڈنگ کے بل بھیجے گئے اْن کے میٹروں کی تصاویر نہیں لی گئیں جبکہ بعض صارفین ایسے بھی ہیں جن کے میٹروں کو خراب قرار دے کر انہیں تبدیل کرنے کے بجائے اوسط بل ڈال دیا گیا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بجلی کی ترسیلی کمپنیاں نیپرا کی جانب سے منظور شدہ ٹیرف کی شرائط و ضوابط کے مطابق بل وصول کرنے میں ناکام رہیں، اِن کمپنیوں نے اپنی کوتاہیاں چھپانے کے لئے جان بوجھ کر بددیانتی کی۔یاد رہے کہ جولائی اور اگست میں بجلی کمپنیوں کی جانب سے اوور بلنگ اور غلط میٹر ریڈنگ کرنے پر کثیر تعداد میں صارفین نے نیپرا میں درخواستیں جمع کرائی تھیں جس پر نیپرا نے تین رکنی کمیٹی قائم کی تھی اور اب اس کی تحقیقات کے دوران یہ پتہ چلا ہے کہ ڈسکوز نے بڑے پیمانے پر غیر قانونی وصولیاں کیں۔نیپرا نے انکوائری رپورٹ کو ویب سائٹ پر بھی اَپ لوڈ کرنے کا حکم دیا ہے۔

پاکستان میں بجلی کی فی یونٹ قیمت بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے اور اس پر بھاری ٹیکس بھی عائد کر دیا گیا ہے، عام آدمی کے لئے بجلی کا بِل دینا اتنا آسان نہیں رہا،کمرشل اور صنعتی صارفین بھی بجلی کی قیمت کے باعث پریشانی کا شکار ہیں،ایسے میں اوور بلنگ اور مختلف حیلے بہانوں سے عوام سے پیسہ اکٹھا کرنا شدید سنگین نوعیت کا جرم ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک میں اربوں روپے کی بجلی چوری کی جاتی ہے،پاور ڈویژن نے چند ماہ قبل قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی کو بتایا تھا کہ گزشتہ15ماہ میں لگ بھگ1500ارب روپے کی بجلی چوری کی گئی جبکہ سالانہ تقریباً 1380 ارب روپے کی بجلی چوری کی جاتی ہے۔گزشتہ دِنوں جب بجلی کی قیمت کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تو بجلی چوری کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا گیا، سیکرٹری پاور ڈویژن نے بتایا کہ اِس مہم میں آٹھ ارب روپے کے قریب ریکوری کی گئی جبکہ دو اڑھائی ہزار لوگوں کو گرفتار کیا گیا،مختلف ڈسکوز نے اپنے ملازمین کے خلاف کارروائی بھی کی۔یہ مہم چل تو رہی ہے لیکن اِس سے ابھی تک خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے،سینکڑوں ارب روپے کی چوری کے مقابلے میں چند ارب روپے کی ریکوری کچھ خاص معنی نہیں رکھتی۔اِس کے علاوہ پاکستان کا دوسرا بڑا مسئلہ تحویل پر انحصار ہے جس کی وجہ سے پٹرول کی قیمتیں بڑھنے کا براہِ راست اثر بجلی کی قیمتوں پر پڑتا ہے، سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور میں آئی پی پیز سے کیے گئے معاہدوں کے نتیجے میں ”کپیسٹی پیمنٹ“ عوام پر بھاری پڑتی ہے۔

ایک طرف توانائی کے بحران کے سبب ہماری صنعتیں تباہ ہو گئیں، بے روزگاری میں اضافہ ہوا اور ساتھ ہی ساتھ صارفین کے لئے بجلی کے بل وبالِ جان بن گئے ہیں۔اِن حالات میں ڈسکوز کمپنیوں کی بدعنوانیوں نے صارفین کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیاہے۔رپورٹ کے مطابق کوئی بھی بجلی کی ترسیلی کمپنی100فیصد درست بلنگ نہیں کر رہی،تمام کمپنیوں نے صارفین کو نہ صرف زائد مدت کے بل بھیجے بلکہ اِن کمپنیوں نے خراب میٹر اور غلط ریڈنگ کی آڑ میں صارفین کی جیبوں پر ڈاکہ بھی ڈالا۔اِس بدعنوانی کا ملبہ غریب ترین صارفین پر بھی گرا کیونکہ 30 دن کی بلنگ کی مدت سے زائد بلنگ کے نتیجے میں ”پروٹیکٹڈ“ صارفین کو بھی اوپر والے سلیب کی شرح سے بل بھیجے گئے، جو صارفین کم از کم چھ ماہ تک 200 یونٹ سے کم استعمال کرتے ہیں ان کے بل30 دن سے زائد ریڈنگ کے مطابق بنائے گئے جس کی وجہ سے غریب ترین صارفین ”پروٹیکٹڈ“ کیٹگری سے نکل گئے،اِن کا ٹیرف بدل گیا اور اْن سے نئے سلیب کے مطابق زائد بل وصول کئے گئے۔ ایسے غریب صارفین جو ماہانہ صرف100 یونٹ بجلی استعمال کرتے ہیں انہیں ”لائف لائن“ قرار دیا جاتا ہے اِن کمپنیوں کے اہلکاروں کی غفلت، بددیانتی کی قیمت اِن لائف لائن صارفین کو ادا کرنی پڑی جو پہلے ہی مہنگائی کے ہاتھوں شدید پریشان تھے۔

چند ماہ قبل بجلی چوری کے خلاف ایکشن شروع ہوا تھا، اِس کے وقتی اثرات بھی سامنے آئے لیکن مکمل علاج ممکن نہیں ہو سکا، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے مرتے ہوئے مریض کو پیناڈول دے کر تسلی دینے کی کوشش کی گئی تھی۔ہمارا وطیرہ یہی رہا ہے کہ جب بھی عوامی دباؤ بڑھتا ہے، لوگ احتجاج کرنا شروع کرتے ہیں تو چند اہلکاروں کو معطل کر کے او ایس ڈی بنا دیا جاتا ہے یا اْن کا تبادلہ کر دیا جاتا ہے لیکن اس سے زیادہ کارروائی یا موثر اقدمات دیکھنے میں نہیں آئے۔افسوس کا مقام یہ ہے کہ کسی ڈسکو کمپنی نے بدعنوانی، غلط بلنگ اور بجلی چوری میں ملوث اہلکار کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی۔اِن حالات میں بہتر ہوتا کہ ترسیلی کمپنیاں خود اپنے اہلکاروں سے سوال پوچھتیں، اُن کے خلاف کارروائی کرتیں، سزا دیتیں لیکن موجودہ صورتحال سے تو یہ تاثر ملتا ہے کہ اِس بدعنوانی کا ذمہ دار کوئی ایک شخص نہیں بلکہ ہر ایک نے ’حصہ بقدرے جثہ‘ ڈالا ہے جس کی سزا عوام بھگت رہے ہیں۔بجلی کی چوری اہلکاروں کی معاونت کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ اِس وقت غلط منصوبہ بندی اور بدعنوانی کے باعث ہی توانائی سیکٹر میں گردشی قرضہ اپنی انتہاء کو چھو رہا ہے، لائن لاسز ایک بھیانک بیماری بن کر توانائی کے شعبے سے چپکی ہوئی ہے۔بہرحال اب تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ منظر عام پر آ چکی ہے، قصور اور قصورواروں کا پتہ بھی چل چکا ہے،اُمید ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لیا جائے گا،یہ رپورٹ صرف کاغذوں کی حد تک ہی محدود نہیں رہے گی۔اس ملک میں بد عنوانوں کو یہ باور کرانا ازحد ضروری ہے کہ اگر وہ خلافِ قانون کوئی بھی کام کریں گے تو اس کی سزا بھگتنی پڑے گی۔اگر نظام کو مضبوط اور شفاف بنانا ہے تو جس کی لاٹھی اُس کی بھینس والے فارمولے سے جان چھڑانی ہو گی۔ 

٭٭٭٭٭

مزید :

رائے -اداریہ -