باتیں جاوید ہاشمی کی

    باتیں جاوید ہاشمی کی
    باتیں جاوید ہاشمی کی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  مخدوم جاوید ہاشمی پاکستانی سیاست کا ایک سدا بہار کردار ہیں۔ اقتدار میں ہوں یا اقتدار سے باہر، وہ اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہتے ہیں انہوں نے پچھلے کچھ عرصے میں اسٹیبلشمنٹ اور اس کے کردار کے حوالے سے سوشل میڈیا پر اپنے وی لاگز کے ذریعے جو باتیں کی ہیں، وہ شاید کسی سیاستدان نے نہ کی ہوں مگر اس کے باجوود ان کی زبان بند کرانے کے لئے کوئی روایتی حربہ اختیار نہیں کیا گیا حالانکہ وہ خود کہتے رہے ہیں جنہیں شوق ہے وہ انہیں گرفتار کرلیں۔ انہوں نے انسانی حقوق کے لئے ہمیشہ ببانگ دہل بات کی ہے، اس لئے تحریک انصاف کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں پر بھی وہ آواز اٹھاتے رہے ہیں۔حال ہی میں ایک نجی چینل سے ان کا ایک انٹرویو نشر ہوا ہے۔ عموماً چینل والے انہیں کم کم ہی بلاتے ہیں کیونکہ وہ بغیر لگی لپٹی رکھے بات کرنے کے عادی ہیں تاہم یہ انٹرویو ہوا اور جاوید ہاشمی بہت سی باتیں کہہ گئے۔ پچھلے چند برسوں سے کسی کو معلوم نہیں کہ جاوید ہاشمی کاسیاسی اسٹیٹس کیا ہے۔ وہ مسلم لیگ (ن) میں ہیں یا نہیں۔ اب انہوں نے یہ رازکھولا ہے کہ جب وہ تحریک انصاف میں گئے تھے تو انہوں نے خود مسلم لیگ (ن) نہیں چھوڑی تھی بلکہ انہیں نکالا گیا تھا مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ جاوید ہاشمی نے کبھی یہ نہیں کہا تھا مجھے کیوں نکالا؟بلکہ وہ چپ چاپ نکل گئے تھے، بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے تحریک انصاف کی صدارت سے چپ چاپ استعفیٰ دے دیا تھا اور اس وقت علیحدہ ہو گئے تھے جب تحریک انصاف کی دھرنا تحریک زوروں پر تھی اس کے بعد جاوید ہاشمی کٹی پتنگ بن کر رہ گئے۔ انہوں نے مسلم لیگ(ن) میں واپسی تو اختیار کی لیکن انہیں خوشدلی سے قبول نہیں کیا گیا۔

 ملتان میں مسلم لیگی حلقے ان کے خلاف تھے اور اب بھی ہیں۔ ملتان میں ہونے والے جلسوں میں انہیں نہیں بلایا جاتا۔ نوازشریف چار سال بعد لندن سے واپس آئے تو مینار پاکستان پر جلسہ رکھا گیا۔ جاوید ہاشمی یہی انتظار کرتے رہے انہیں جلسے میں شرکت کا بلاوا آئے گا۔ بلاوا تو کسی کو بھی نہیں آیا تھا بلکہ سب کی ڈیوٹی لگائی گئی تھی کارکنوں کو لے کر لاہور پہنچیں۔ جاوید ہاشمی اپنی کتاب میں بھی لکھ چکے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) میں ایک گروپ ایسا ہے جو ان کی پارٹی میں شمولیت اور نوازشریف کے ساتھ قربت کے حق میں نہیں کیونکہ جاوید ہاشمی کی موجودگی میں ان کے سیاسی قد کاٹھ کو گرہن لگ جاتا ہے۔ ان کا یہ دعویٰ بھی رہا ہے کہ نوازشریف انہیں بڑی عزت و اہمیت دیتے ہیں مگر ان کے اردگرد جو لوگ موجود ہیں وہ ان کے کان بھرتے رہتے ہیں۔ جاوید ہاشمی نے کتاب لکھی تھی ”ہاں میں باغی ہوں“ پچھلے دو تین برسوں سے جاوید ہاشمی نے باغی ہونے کا راستہ اختیار کر رکھا ہے۔ جمہوریت کے حق اور آمریت کے خلاف بولتے ہیں ان کے خیال میں غیر آئینی قوتوں کی مداخلت نے پاکستان کے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے۔یہ کردار اور مداخلت جاری رہی تو ملک کا بہت نقصان ہوگااس لئے ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔

جاوید ہاشمی نے اپنے اس حالیہ انٹرویو میں دو باتیں بڑی دلچسپ کی ہیں۔ پہلی یہ کہ مسلم لیگ (ن) ٹکٹوں کا فیصلہ خود نہیں کرے گی بلکہ اسے فہرستیں بھجوائی جائیں گی۔ دوسری بات اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے کہ نوازشریف انہیں ٹکٹ دینا چاہ رہے ہیں مگر انہیں اجازت نہیں مل رہی۔ یہ دونوں باتیں کتنی درست اور مصدقہ ہیں، اس کا اندازہ تو نہیں ہو سکتا تاہم یہ ضرور ہے کہ ان باتوں کی وجہ سے پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف والے بہت خوش ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کے حامی ان باتوں کو خوب اچھال رہے ہیں کیونکہ ان سے اسی بات کو تقویت ملتی ہے کہ نوازشریف ایک ڈیل کے تحت واپس آئے ہیں۔ اگرچہ جاوید ہاشمی اس وقت پوری طرح مسلم لیگ (ن) میں نہیں تاہم اس کے باوجود انہیں گھر کا بھیدی کہا جا رہا ہے، جس نے لنکا ڈھا دی ہے۔ ایسا الزام تو بلاول بھٹو زرداری بھی مسلم لیگ(ن) پر نہیں لگا رہے حالانکہ آج کل ان کی تقریروں کا رخ مسلم لیگ(ن) اور نوازشریف کی طرف ہی ہوتا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری یہ تو کہتے ہیں نوازشریف انتظامیہ کے سر پر نہیں اپنے بل بوتے پر انتخابی مہم چلائیں تاہم یہ نہیں کہتے کہ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار بھی کسی اور طرف سے نامزد ہوں گے۔ میرا ہمیشہ سے یہ خیال رہا ہے کہ جرأت مند اور بولنے والے سیاستدانوں کو پارلیمنٹ میں آنا چاہیے۔ وہ بولیں گے تو بہتری آئے گی۔ اس لئے جاوید ہاشمی کو بھی میں قومی اسمبلی کے ایوان میں دیکھنا چاہتا ہوں تاکہ وہ آئین اور بنیادی حقوق کے بارے میں بات کر سکیں لیکن یہ بھی سچ ہے جاوید ہاشمی جیسے سیاستدان  اسٹیبلشمنٹ کی آنکھ میں چبھتے تو ہیں ان کی آنکھ کا تارا نہیں بن سکتے۔ جاوید ہاشمی نے یہ وضاحت نہیں کی نوازشریف کو کون انہیں ٹکٹ دینے سے روک رہا ہے۔ کیا پارٹی  کے اندر کسی گروپ کا دباؤ ہے یا پھر وہ قوتیں ان کے خلاف سرگرم عمل ہیں، جن کے بارے میں جاوید ہاشمی سوشل میڈیا پر محاذ گرم کئے ہوئے ہیں ان حالات میں تو لگتا ہے ان کی نوازشریف سے ملاقات بھی نہیں ہو سکتی۔ حالانکہ جاوید ہاشمی جیسے رہنماؤں کی قربت نوازشریف کے اس امیج کو بحال کر سکتی ہے جو لندن سے واپسی کے بعد کچھ گہنا سا گیا ہے۔

ویسے بھی سچ بولنے کے بعد جاوید ہاشمی کی مسلم لیگ(ن) میں دھوم دھام سے واپسی کیسے ممکن ہے؟ ان کا یہ کہنا کہ تحریک انصاف اس وقت مقبول ترین جماعت ہے کسی لیگی رہنما کی زبان سے تو نکل ہی نہیں سکتا۔ رانا ثناء اللہ، احسن اقبال، سعد رفیق اور عطاء تارڑ جیسے رہنما تو یہ کہتے نہیں تھکتے تحریک انصاف بکھر کر ختم ہو گئی ہے، وہ اس کے مقابلے میں پیپلزپارٹی کو مقبول جماعت مان لیں گے، تحریک انصاف کو تسلیم نہیں کریں گے۔ ایسے میں جاوید ہاشمی وہ بات کررہے ہیں جو حقیقت پر مبنی ہے تاہم انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے پاپولر ووٹ کے باوجود پی ٹی آئی کو اقتدار نہیں ملے گا تو اس کا مطلب ہے اقتدار اسے ملے گا جو اقتدار دینے والوں کا منظور نظر ہوگا۔ جاوید ہاشمی نے ایسے اقتدار کے بارے میں یہ بھی کہا ہے کہ خیرات میں ملنے والے اقتدار کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی، چار دن کے بعد اس کی چکاچوند ختم ہو جاتی ہے۔ملتان کے مسلم لیگی حلقے یہ بھی کہتے ہیں جاوید ہاشمی کی مسلم لیگ ن میں واپسی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ اسٹیبلشمنٹ اور عسکری قیادت کے خلاف سخت بیانیہ ہے۔ جاوید ہاشمی کو اس عمر میں سمجھایا نہیں جا سکتا۔ ساری عمر جمہوریت کے لئے آواز اٹھانے والے جاوید ہاشمی کے لئے شاید یہ ممکن نہیں کہ وہ ووٹ کو عزت دو کا موقف چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر سکے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جاوید ہاشمی نوازشریف کو پسند کرتے ہیں، اس کا وہ کئی بار اظہار بھی کر چکے ہیں تاہم وہ بات کرنے سے نہیں چوکتے اور یہی عادت انہیں قیادت کی نظر میں راندۂ درگاہ بنا دیتی ہے۔ جاوید ہاشمی جیسے سیاسی کردار غنیمت ہے۔ کسی نہ کسی وجہ سے سچ تو بول جاتے ہیں۔ ان کا یہ انٹرویو اس حوالے سے بہت اہم سوال چھوڑ گیا ہے کہ اگر پاپولر ووٹ رکھنے والی جماعت کو اقتدار نہیں ملتا تو پھر دوسری کسی جماعت کو اقتدار کیسے ملے گا۔ کیا اس کے لئے انتخابات کو ایک بھونڈہ مذاق بنا دیا جائے گا؟

مزید :

رائے -کالم -