ہائیکورٹ سپریم کورٹ کا فیصلہ کیسے کالعدم قرار دے سکتی ہے؟چیف جسٹس پاکستان کا ایکسائز ڈیوٹی ایکٹ 2005سے متعلق کیس میں ریمارکس

ہائیکورٹ سپریم کورٹ کا فیصلہ کیسے کالعدم قرار دے سکتی ہے؟چیف جسٹس پاکستان کا ...
ہائیکورٹ سپریم کورٹ کا فیصلہ کیسے کالعدم قرار دے سکتی ہے؟چیف جسٹس پاکستان کا ایکسائز ڈیوٹی ایکٹ 2005سے متعلق کیس میں ریمارکس

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں ایکسائز ڈیوٹی ایکٹ 2005سے متعلق کیس میں چیف جسٹس پاکستان نےریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ ایکسائز ڈیوٹی ایکٹ 2005کے سیکشن 3اے کو 2011میں درست قرار دیا تھا،ہائیکورٹ سپریم کورٹ کا فیصلہ کیسے کالعدم قرار دے سکتی ہے؟

نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں  ایکسائز ڈیو ٹی ایکٹ 2005سے متعلق کیس کی سماعت  ہوئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی،عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے پر حیرت کااظہار کیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ایکسائز ڈیوٹی ایکٹ 2005کے سیکشن 3اے کو 2011میں درست قرار دیا تھا، ہائیکورٹ سپریم کورٹ کا فیصلہ کیسے کالعدم قرار دے سکتی ہے؟سندھ ہائیکورٹ نے تو سپریم کورٹ کے فیصلے کو ہی نظرانداز کردیا۔

یاد رہے کہ ایکسائز ڈیوٹی ایکٹ 2005میں سیکشن 3اے کو 2007میں شامل کیاگیا،صدر مملکت کی منظوری کے بغیر ہی سیکشن 3کا نوٹیفکیشن جاری کر دیاگیا،لاہور ہائیکورٹ نے نوٹیفکیشن کو درست قرار دیا جسے سپریم کورٹ نے 2011 میں برقرارر کھا،2013میں سندھ ہائیکورٹ میں جسٹس منیب اختر نے نوٹیفکیشن کو غیرآئینی قرار دیا۔