باتیں کرنے والے بہت آئے، عملی طورپر کچھ نہیں کیا ، نوازشریف

باتیں کرنے والے بہت آئے، عملی طورپر کچھ نہیں کیا ، نوازشریف
باتیں کرنے والے بہت آئے، عملی طورپر کچھ نہیں کیا ، نوازشریف

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) قائد ن لیگ نواز شریف کی زیرصدارت ن لیگ کے پارلیمانی بورڈ کا آج چوتھا اجلاس ہوا، جس میں  بلوچستان سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو ٹکٹ دینے کے حوالے سے انٹرویوز کیے گئے۔

اس موقع پر نواز شریف نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں سے خطاب میں کہا کہ باتیں کرنے والے بہت آئے پر انہوں نے عملی طورپر کچھ نہیں کیا ،عام انتخابات کیلئے ہماری تیاری مکمل ہے انشااللہ اقتدار میں آکر غریبوں کا سہارا بنیں گے،مسلم لیگ ن کے دور میں ہمیشہ ملک و قوم نے ترقی کی ہے،یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہے حقائق ہیں۔

ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے تمام امیدواروں کی پروفائل اور زمینی حقائق کا جائزہ لیا ہے،میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر امیدواروں کو ٹکٹ دئیے جائیں گے،نیک نیتی سے صرف ملک و قوم کی خدمت کریں، اللہ تعالی بہت اجر دے گا، جن کو ٹکٹ نہ ملی ان کو اقتدار میں آکر اہم ذمہ داریاں سونپیں گے۔

بلوچستان میں ن لیگ کی جانب سے کیے گئے ترقیاتی کاموں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جب بھی ن لیگ کی حکومت آئی ہم نے بلوچستان میں بہت کام کئے،چار سو چھوٹے چھوٹے ڈیمز بنائے تاکہ عوام کو پانی ملے، شہبازشریف کے بنائے دانش سکولوں میں بچوں کو داخلہ دیا ، بلوچستان کے بچوں کو تعلیم کی بہترین سہولیات دینا چاہتے ہیں،سوالاکھ ایکڑ سیراب کرنے والی کچھی کنال 50 ارب میں ہم نے بنائی ، صرف مسلم لیگ (ن) نے کوئٹہ، گوادر، ژوب اور لورالائی کے بارے میں سوچا، گوادر کو سندھ کے ساتھ ملایا، کوسٹل ہائی وے بنائی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کوئٹہ کو ڈیرہ اسماعیل خان کے ذریعے اسلام آباد سے ملا رہے ہیں ،2018 میں منصوبہ مکمل ہونا تھا ، یہ منصوبہ کیوں مکمل نہ ہوا ، یہ نقصان عوام کا ہوا، بلوچستان کا ہوا ،پاکستان کو ہوا، ڈیڑھ دن میں گوادر سے کوئٹہ لوگ پہنچتے تھے، ہم نے اُن کی یہ تکلیف ختم کی، گوادر کوئٹہ شاہراہ کی تعمیر سے اب آپ ناشتہ گوادر اور دوپہر کا کھانا کوئٹہ میں کھا سکتے ہیں،کچھ فرق تو ہے باتیں کرنے اور عمل کرنے والوں میں ۔

انہوں نے سوال کیا کہ کہاں گئی وہ تبدیلی؟ عوام کو پوچھنا چاہیے، کون اور کس نے کیا کیا ؟ بچوں کو بتانا چاہیے، ہمارا ایجنڈا صرف سڑکوں، تعلیم، صحت تک محدود نہیں ہوگا ، پاکستان کا سب سے بہترین ہوائی اڈہ گوادر میں مکمل ہونے والا ہے،  میں نے گوادر کا نام اُس وقت لیا جب 1990 میں وزیراعظم بنا تھا،عوام کو بجلی کے مہنگے بلوں سے آزاد کرنا چاہتے ہیں، سولر پینلز کی سکیم لائیں گے، گھریلو، کمرشل اور زرعی صارفین کو سولر پینلز سے مہنگی بجلی سے نجات دلائیں گے، بغض اور حسد ، گندی زبان اور نفرت نے معاشرے کو گندا کیا، نئے پاکستان میں کیا نیا ہوا؟ہمارے شروع کئے منصوبے بھی رُکے رہے، اپنے معاشرے میں تہذیب، شرافت اور شائستگی واحترام واپس لائیں گے ، ہم نے لوڈشیڈنگ اور دہشت گردی ختم کی ۔