لاہور ہائیکورٹ کا بری ہونے والے اور کم عمر ڈرائیوروں کا کریمنل ریکارڈ ختم کرنے سے متعلق میکنزم بنانے کا حکم 

لاہور ہائیکورٹ کا بری ہونے والے اور کم عمر ڈرائیوروں کا کریمنل ریکارڈ ختم ...
لاہور ہائیکورٹ کا بری ہونے والے اور کم عمر ڈرائیوروں کا کریمنل ریکارڈ ختم کرنے سے متعلق میکنزم بنانے کا حکم 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ میں باعزت بری ہونے والے افراد  کا کریمنل ریکارڈ بنانے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی،عدالت نے بری ہونے والے اور کم عمر ڈرائیوروں کا کریمنل ریکارڈ ختم کرنے سے متعلق میکنزم بنانے کا حکم دیدیا۔

تفصیلات کے مطابق  جسٹس علی ضیا باجوہ نے  ڈی آئی جی آئی ٹی کو آئی جی پنجاب سے مشاورت کر کے جواب جمع کروانے کے ہدایت  کی۔

دوران سماعت  عدالتی حکم پر ڈی آئی جی آئی ٹی، ڈی آئی جی آپریشنز عدالت میں پیش   ہوئے،عدالت  نے ریمارکس دیے آپ نے بھی آخری بار عدالت میں کہا تھا کہ معمولی  جرائم پر کریمنل ریکارڈ نہیں بنے گا جس پر ڈی آئی جی آئی ٹی  نے جواب دیا کہ میں نے یہ معاملہ لیگل برانچ کے سامنے رکھا تھا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس حوالے سے ایک نظام بنائیں، ڈی آئی جی آئی ٹی  نے کہا  ہم اس حوالے سے ڈرافٹ بنا کر عدالت کو آگاہ کریں گے، عدالت نے ریمارکس دیے کہ جب ایک جرم ہو جاتا ہے تو  کسی نہ کسی رجسٹر میں نام آ جاتا ہے، ایک لیگولیٹری اتھارٹی ہونی چاہیے جو پولیس کے اوپر ہو۔

دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیے  کہ اگر ایک شخص باعزت بری ہو رہا ہے  تو اس کا نام ریکارڈ میں کیوں آ رہا ہے، عدالت  نے وکیل سے مکالمے میں کہا کہ  ویزہ فارم میں لکھا ہوتا ہے کہ اگر آپ نامزد ہو کر بری ہوئے تو بتا دیں، جس درخواستگزار کے وکیل نے دلائل دیے کہ اگر ایک بندہ مجرم ہے ہی نہیں تو اس کا کریمنل ریکارڈ کیسے بن سکتا ہے؟ ۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ موٹر وے پر ایک حادثہ ہوا تھا، مجرم ایک دوسرے کیس میں 2014 میں بری ہوا تھا، کریمنل ریکارڈ کے ذریعے ہی اس شخص کو پکڑا گیا۔وکیل درخواست گزار نے کہا یہ پورے ملک میں ایک کیس ہے، اس ایک کیس کے بنا پر سب لوگوں کو مشکل میں نہیں ڈالا جا سکتا جس پر عدالت نے ریمارکس دیے ہم آپ کی مدد کے ساتھ اس سسٹم کو بہتر کرتے ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے دوران سماعت عدالت کو بتایا کہ  اگر کوئی شخص باعزت بری ہوتا  ہےتو اس کا نام ایک شیٹ میں ہی آ رہا ہے جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ یہ ایک وکیل کا بیان ہے، یا ایڈووکیٹ جنرل کا؟  عدالت  نےریمارکس دیےبری ہونا کئی طرح سے ہو سکتا ہے، نیب پلی بارگین میں بھی لوگ بری ہوتے ہیں ایسے ہی سوالات سپریم کورٹ کے سامنے موجود ہیں۔

وکیل درخواست گزار نے عدالت میں کہا  کہ ڈی آئی جی آئی ٹی کا کہنا ہے کہ بری ہونے والے کیس لسٹ میں شو نہیں ہوں گے، مگر انہوں نے اس حوالے سے کوئی کام نہیں کیا۔

عدالت نے کیس کی سماعت 2 ہفتوں تک ملتوی کردی 

مزید :

قومی -