دریا زندہ ہستی ہوتے ہیں اور اس وقت تک ہوتے ہیں جب تک قدرتی بہاؤ جاری رہے, ہم نے ڈیمز بنا کر سندھو کو معذور کیا اب گلہ گھونٹ رہے ہیں 

دریا زندہ ہستی ہوتے ہیں اور اس وقت تک ہوتے ہیں جب تک قدرتی بہاؤ جاری رہے, ہم نے ...
دریا زندہ ہستی ہوتے ہیں اور اس وقت تک ہوتے ہیں جب تک قدرتی بہاؤ جاری رہے, ہم نے ڈیمز بنا کر سندھو کو معذور کیا اب گلہ گھونٹ رہے ہیں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف:شہزاد احمد حمید
 قسط:209
 ماہی گیر راہنما”محمد علی شاہ“ کہتے ہیں؛”دریا زندہ ہستی ہوتے ہیں اور وہ زندہ ہستی اس وقت تک ہوتے ہیں جب تک ان کا قدرتی بہاؤ جاری رہے۔ ہم نے پہلے ڈیمز بنا کر سندھو کو معذور کیا ہے اور اب مزید ڈیم بنا کر اس کا گلہ گھونٹ رہے ہیں۔ دنیا میں ہر دریا کی منزل ڈیلٹا اور پھر سمندر ہے۔ اسے اس کی منزل تک پہنچنے کا حق ملنا چاہیے۔اس مسئلے کا ایک حل ہو سکتا تھا کہ ہم چھوٹے ڈیم بناتے تاکہ سندھو کے ڈیلٹا تک پانی کا بہاؤ جاری رہتا۔ابھی سمندر برد ہوتی زمین کی حفاظت کا ذمہ تو کسی کو لینا ہے ورنہ آنے والے وقت میں مشکلات مزید بڑھیں گی۔ 2003ء کی ایک رپور ٹ کے مطابق سندھو کے ڈیلٹا پر نو(9) لاکھ لوگ آباد ہیں۔ ان کی زبان سندھی مذھب اسلام اور تعلق سومرو، جاٹ اوربلوچ قبائل سے ہے۔ ان کے پاس صحت کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں یا ناکافی ہیں۔ مچھلی پکڑنا ان کا محبوب پیشہ ہے۔ یہ چھوٹے موٹے جرائم بھی کرتے ہیں اور جرائم پیشہ لوگوں کو پناہ بھی دیتے ہیں۔“
اس سفر کے دوران میں بہت لوگوں سے ملاہوں۔عام آدمی سے لے کر خاص تک۔ ان میں غریب کسان بھی ہیں اور مزدور بھی، وڈیرے بھی ہیں اور سردار بھی، ہاری بھی ہیں اور ظالم منشی بھی۔ پرانی سوچ والے سندھی سے بھی ہیں اور پڑھے لکھے ماڈرن نوجوان بھی۔ پسماندہ خواتین بھی ہیں اور پڑھی لکھی لڑکیاں بھی۔ تعلیم اور شعور نے بہت کچھ بدل دیاہے۔ پرانی سوچ، پرانی روایات کو، ظلم سہنے، مظلوم رہنے کو۔ آنکھیں جھکانے اور آنکھیں دکھانے کو۔ اپنے حقوق چھوڑنے اور اپنے حق کے لئے آواز اٹھانے کو۔ اب نہ وقت پہلے جیسا رہا ہے اور نہ ہی سوچ۔ نئے زمانے، نئے تقاصوں نے بہت کچھ بدل دیا ہے۔ بہت کچھ بدلنے کو ہے۔ وقت تیزی سے آگے جا رہا ہے اور انسان تیزی سے پیچھے کو۔
دریائے سندھ جو تبت میں سنگی کھابب سے شروع ہوتا تبت کی بلند و بالا چھت، ہمالیہ اورقراقرم کے پہاڑوں سے بہتا دوسرے دریاؤں نالوں کا پانی خود میں سموتا اکتیس سو اسی(3180) کلو میٹر کا فاصلہ طے کرکے بحیرہ عرب پہنچتا ہے۔ انسانوں اور بستیوں میں زندگی کا سامان پیدا کرتا، اپنا راستہ خود تراشتا، م روکاوٹیں دور کرتا،، مٹاتا،سینے میں صدیوں کے راز چھپائے یہ سفر طے کرتا ہے۔ اس طویل سفر کے دوران کہیں یہ شیر دریا، کہیں دیوتا،کہیں سمندر، کہیں دریاؤں کا باپ، کہیں سندھ اور کہیں اڈولال کہلاتا ہے۔ سمندر تک پہنچتے بھی اس کی سر کشی جاری رہتی ہے۔ یہ اپنی لائی مٹی سے زمین چھین کر سمندر کو پیچھے دھکیلتا اپنا راستہ خود بناتا سمندر میں اتر تا ہے۔شیروں کی طرح۔یہ کل بھی شیر تھا لیکن آج یہ بوڑھا شیر ہے۔
سندھو میرے دل میں یوں اترا ہے جیسے اس کے کنارے بسے لوگوں کی زندگی میں۔تبت کے پہاڑوں سے لے کر پنجاب اور سندھ کے میدانوں تک اس کے کنارے آباد لوگ ہزاروں سال سے سندھو کو پوجتے آئے ہیں۔ شاعر اپنی شاعری میں اس کا تذکرہ کرتے رہے ہیں۔ سیاح اس کی روانی کے گن گاتے رہے ہیں۔صوفی اور درویش اسے مقدس خیال کرتے رہے ہیں۔ گومیرا دوست سندھو آج ویسا نہیں رہا جیسا اس کا ذکر ہم سنسکرت کے گیتوں، یونانی کہاوتوں، ایرانی تاریخ اور ہندوستانی کہانیوں میں پڑھتے آئے ہیں۔ اب یہ سمٹ گیا ہے اور اس پر لکھے گیت، کہانیاں، کہاوتیں بھی ماضی کا قصہ ہی بنتے جا رہے ہیں۔ اس پر تعمیر کئے گے ڈیمز نے اس کی روانی اور جوش کو مدہم کر دیا ہے مگر یہ اب بھی اس بوڑھے بد معا ش کی طر ح ہے جس کے بڑھاپے سے بھی لوگ ڈرتے ہیں۔ہر سال زنجیروں کو توڑ کر یوں بپھرتا ہے کہ کسی کے بھی قابو میں نہیں آتا ہے۔ مرضی والا جو ٹھہرا۔ ڈیمز نے سونے اگلتے کھیت توآباد کئے لیکن اس کی جوانی کو گھنا دیا ہے۔ میں نے آنکھیں موندیں تو مجھے تخیل میں سنسکرت کے گرو، یونانی مورخ، ہندو برہم چاری، بدھ بھکشو اور مسلمان صوفیا کرام کے گیت اور قصے میرے کانوں کی سماعت سے ٹکرا رہے ہیں جن میں سندھو کے جلال کی باتیں ہیں، اس کے کمال کی باتیں ہیں، اس کی ہنگامہ خیزی کے قصے ہیں، کہانیاں ہیں جو صدیوں سے یونانی، ایرانی، چینی، ہندوستانی زبانوں اور الفاظ میں ہم تک پہنچی ہیں۔ مجھے ڈر ہے عظیم سندھو سے جڑی عظیم روایات اور کہانیاں کہیں وقت کے دھارے میں کھو نہ جائیں جیسے قدیم دور میں یہاں کے مگر مچھ، گھنے جنگل، خونخوار جانور اور مختلف سرد ممالک سے آنے والے مہمان پرندے کھو گئے ہیں۔ (وقت کے ساتھ ان پرندوں کی تعداد میں نمایاں کمی ہوئی ہے)۔ بلائنڈ ڈولفن کی تعداد میں بھی کم ہو ئی ہے۔ باقی جانور تو یوں غائب ہوئے ہیں جیسے کبھی یہاں رہتے ہی نہیں تھے۔ شاید ہمارے لئے یہ وارننگ ہے۔ عظیم سندھو کی روانی کو بچانے کے لئے اس سے محبت کرنے والوں کو آگے آنا ہو گا۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -